कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جدید دور میں منشی پریم چند کی کہانیوں کی اہمیت، ذہنی و سماجی ارتقا اور قدیم و جدید اقدار کا تصادم

از قلم: محمود علی لیکچرر

ادب کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے، اور جب ہم برصغیر کے افسانوی ادب کی بات کرتے ہیں تو Munshi Premchand کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ انہوں نے اپنی کہانیوں میں انسانی زندگی کے ایسے پہلوؤں کو اجاگر کیا جو نہ صرف اپنے زمانے کی حقیقت تھے بلکہ آج کے جدید دور میں بھی پوری شدت کے ساتھ محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ادب وقت کی قید سے آزاد ہو کر آج بھی ہمارے ذہنی سماجی اور اخلاقی مباحث میں زندہ ہے۔
جدید دور میں پریم چند کی اہمیت
آج کا انسان ٹیکنالوجی، مادیت اور تیز رفتار زندگی میں الجھا ہوا ہے۔ اس ماحول میں پریم چند کی کہانیاں ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ان کے افسانے جیسے کفن، گودان اور پوس کی رات انسانی دکھ، غربت، ناانصافی اور اخلاقی زوال کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ قارئین اپنے معاشرے کا عکس دیکھتے ہیں
جدید دور میں جہاں انسان مشین بنتا جا رہا ہے وہاں پریم چند ہمیں انسانیت، ہمدردی اور اخلاقیات کی طرف واپس بلاتے ہیں۔ ان کی تحریریں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ ترقی صرف مادی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہونی چاہیے
ذہنی و سماجی ارتقا
انسانی ذہن اور معاشرہ ہمیشہ ارتقا کے عمل سے گزرتے رہے ہیں۔ جدید تعلیم سوشل میڈیا اور عالمی روابط نے انسان کی سوچ کو وسیع کیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہی کئی پیچیدگیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔
پریم چند کے زمانے میں:
سماجی طبقات واضح تھے
جاگیرداری نظام مضبوط تھا
تعلیم محدود تھی
جبکہ آج
شعور بڑھا ہے
حقوق کی بات ہوتی ہے
فرد کی آزادی اہم ہو گئی ہے
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ استحصال، غربت اور ناانصافی آج بھی موجود ہیں
پریم چند نے جس ذہنی بیداری کی بات کی، وہ آج بھی مکمل نہیں ہو سکی، اس لیے ان کی کہانیاں آج بھی رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
پرانے اور نئے اقدار کا ٹکراؤ
ہر دور میں ایک کشمکش جاری رہتی ہے: روایت (Tradition) vs جدت (Modernity)
پریم چند کی کہانیوں میں
پرانی اقدار: سادگی، قربانی، خاندانی نظام
نئی سوچ: خود غرضی مفاد پرستی، مادیت
آج کے دور میں یہ ٹکراؤ اور بھی شدید ہو گیا ہے:
بزرگوں کی عزت کم ہو رہی ہے
خاندانی نظام کمزور ہو رہا ہے
فرد اپنی ذات تک محدود ہو رہا ہے
یہی وہ مسائل ہیں جنہیں پریم چند نے بہت پہلے محسوس کر لیا تھا۔
پامال ہوتی ہوئی قدریں
پریم چند کے ادب میں اخلاقی قدروں کا زوال ایک اہم موضوع ہے۔
آج ہم دیکھتے ہیں
سچائی کی جگہ مفاد نے لے لی
دیانتداری کمزور ہو گئی
انسانی رشتے مفاد کے تابع ہو گئے
ان کی کہانی کفن اس کی بہترین مثال ہے جہاں انسانی احساسات بھی مادی ضرورتوں کے آگے جھک جاتے ہیں۔ یہ صورتحال آج کے معاشرے میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
قدیم و جدید مادی خیالات
قدیم دور میں
دولت کم مگر سکون زیادہ تھا
تعلقات مضبوط تھے
اخلاقیات کو اہمیت دی جاتی تھی
جدید دور میں
دولت زیادہ مگر سکون کم
رشتے کمزور
مادیت غالب
یہ تبدیلی صرف معاشی نہیں بلکہ ذہنی بھی ہے۔ آج کا انسان کامیابی کو صرف پیسے سے ناپتا ہے، جبکہ پریم چند کے نزدیک اصل کامیابی انسانیت اور اخلاقیات میں تھی۔
تنقیدی جائزہ
اگر ہم گہرائی سے دیکھیں تو پریم چند کا ادب ہمیں ایک سوال دیتا ہے
کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں؟
یا صرف ظاہری چمک میں کھو گئے ہیں؟
ان کی کہانیاں ہمیں خود احتسابی پر مجبور کرتی ہیں۔ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ
معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ اقدار سے بنتا ہے
تعلیم کا مقصد صرف نوکری نہیں بلکہ انسان بنانا ہے
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ Munshi Premchand کی کہانیاں آج بھی اسی طرح اہم ہیں جیسے ان کے زمانے میں تھیں۔ انہوں نے جس سماجی حقیقت کو پیش کیا، وہ آج بھی ہمارے اردگرد موجود ہے۔
جدید دور میں جب انسان مادیت، خود غرضی اور تیز رفتار زندگی میں کھو گیا ہے، پریم چند کا ادب ایک روشنی کی مانند ہے جو ہمیں انسانیت، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داری کا راستہ دکھاتا ہے۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں جدید ترقی کے ساتھ ساتھ پریم چند کی بتائی ہوئی اخلاقی قدروں کو بھی اپنانا ہوگا۔
قدریں خود بخود ختم نہیں ہوتیں، بلکہ آہستہ آہستہ کمزور ہو کر پامال ہوتی ہیں۔ یہ عمل اس وقت تیز ہو جاتا ہے جب معاشرے میں توازن بگڑ جائےاخلاق، قانون تعلیم اور شعور سب کمزور پڑ جائیں۔
قدریں پامال کب ہوتی ہیں؟
. جب مادیت (Materialism) حد سے بڑھ جائے
جب دولت، طاقت اور فائدہ ہی کامیابی کا معیار بن جائیں تو:
سچائی دیانت اور انصاف پسِ پشت چلے جاتے ہیں
انسان رشتوں سے زیادہ مفاد کو اہمیت دیتا ہے
یہی بات Munshi Premchand نے اپنی کہانیوں میں دکھائی ہے
جب تعلیم صرف ڈگری بن جائے
تعلیم کا مقصد اگر صرف نوکری رہ جائے تو
اخلاقی تربیت ختم ہو جاتی ہے
انسان باشعور تو بنتا ہے مگر باکردار نہیں
جب قانون اور انصاف کمزور ہو جائیں
طاقتور سزا سے بچ جائیں
کمزور کو انصاف نہ ملے
تب لوگ قانون پر یقین کھو دیتے ہیں اور قدریں ٹوٹنے لگتی ہیں
جب خاندانی نظام کمزور ہو جائے
بزرگوں کی رہنمائی ختم
نئی نسل بے سمت ہو جاتی ہے
احترام، صبر اور برداشت جیسی قدریں کم ہو جاتی ہیں
جب معاشرے میں ناانصافی بڑھے
غربت، بے روزگاری اور طبقاتی فرق
حسد، نفرت اور جرائم کو جنم دیتے ہیں
انسان مجبوری میں غلط راستہ اختیار کرتا ہے
جب میڈیا اور ماحول منفی ہو
تشدد جھوٹ اور فحاشی کو عام کیا جائے
برائی کو عام اور اچھائی کو کمزور دکھایا جائے
جب خود احتسابی ختم ہو جائے
سب سے خطرناک مرحلہ جب انسان کو اپنی غلطی غلط لگنا بند ہو جائے
قدریں اس وقت پامال ہوتی ہیں جب
مفاد، اخلاق پر غالب آ جائے
تعلیم میں کردار سازی ختم ہو جائے
انصاف کمزور ہو جائے
خاندان اور معاشرہ اپنی ذمہ داری چھوڑ دے
“قدریں تب نہیں مرتیں جب لوگ برائی کرتے ہیں، بلکہ تب مرتی ہیں جب لوگ برائی کو برائی سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے