कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حج عبادت اخلاص اور مکمل رہنمائی کا حسین امتزاج

تحریر:معروف سیدنپوری
9648997110

جب بھی حج کا موسم قریب آتا ہے تو دل کے نہاں خانوں میں ایک عجیب سی کیفیت جاگ اٹھتی ہے۔ وہ کیفیت جسے الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا ممکن نہیں، مگر جس کا ہر ذرہ روح کو منور کر دیتا ہے۔ یہ صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ ایک ایسا ہمہ گیر روحانی سفر ہے جو انسان کے ظاہر و باطن دونوں کو بدل دیتا ہے۔ چند ہی دنوں میں ہندوستان سے حج 2026 کی فلائٹس کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے، اور لاکھوں خوش نصیب فرزندان توحید اس مبارک سفر کی تیاری میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جسے ایک بار حج اور متعدد بار عمرہ کی سعادت حاصل ہو چکی ہے، اور جو ایک دینی ادارے کا خادم بھی ہے، میں اپنے تجربات، مشاہدات اور چند ضروری رہنمائی آپ کے سامنے پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔حج دراصل بندگی کا وہ جامع مظہر ہے جس میں انسان اپنی ذات، اپنے مرتبے، اپنی حیثیت، بلکہ اپنے تمام دنیاوی امتیازات کو پسِ پشت ڈال کر صرف ایک بندہ بن جاتا ہے۔ وہاں نہ کوئی امیر ہوتا ہے نہ غریب، نہ کوئی حاکم نہ محکوم، سب ایک ہی لباسِ احرام میں ملبوس ہو کر ایک ہی رب کے حضور حاضر ہوتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنی اصل حقیقت کا ادراک ہوتا ہے۔ میں نے جب پہلی بار احرام باندھا اور لبیک کی صدا بلند کی تو یوں محسوس ہوا جیسے دنیا کی ساری الجھنیں ختم ہو گئی ہوں اور انسان اپنے رب کے سامنے بے نیاز ہو کر کھڑا ہو۔
حج کی تیاری محض سفری تیاری نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت تیاری ہے جس میں جسمانی، مالی، روحانی اور اخلاقی تمام پہلو شامل ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے نیت کا خالص ہونا ضروری ہے۔ اگر نیت میں خلوص نہ ہو تو یہ عظیم عبادت بھی محض ایک رسم بن کر رہ جاتی ہے۔ اس کے بعد ضروری ہے کہ انسان اپنے معاملات کو درست کرے، اگر کسی کا حق دبایا ہے تو اسے واپس کرے، کسی سے زیادتی کی ہے تو معافی طلب کرے۔ کیونکہ یہ سفر دراصل اللہ کے حضور حاضری کا سفر ہے، اور وہاں جانے والا شخص ہر طرح کے بوجھ سے آزاد ہونا چاہیے۔آج کے دور میں جب حج ایک منظم نظام کے تحت ادا کیا جاتا ہے، تو انتظامی اور عملی پہلوؤں پر بھی توجہ دینا بے حد ضروری ہے۔ ہندوستان سے جانے والے عازمین کے لیے یہ خوشی کی بات ہے کہ حکومت اور مختلف ادارے حج کے انتظامات کو بہتر بنانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہر حاجی کو اپنی ذاتی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ پاسپورٹ، ویزا، ٹکٹ، اور دیگر ضروری دستاویزات کی مکمل تیاری وقت سے پہلے کر لینا چاہیے تاکہ آخری وقت میں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔میں نے اپنے تجربے میں دیکھا ہے کہ اکثر لوگ حج کے دوران غیر ضروری خریداری، سیلفیوں اور دنیاوی مشاغل میں اس قدر مشغول ہو جاتے ہیں کہ اصل مقصد کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سفر سیاحت کا نہیں بلکہ عبادت کا ہے۔ ہر لمحہ قیمتی ہے اور ہر گھڑی کو اللہ کی یاد میں گزارنا ہی اس سفر کی اصل روح ہے۔ خاص طور پر مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں گزارے گئے لمحات انسان کی زندگی کا سرمایہ ہوتے ہیں، انہیں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
حج کے ارکان کی ادائیگی میں بھی بہت سی باریکیاں ہیں جن کا علم ہونا ضروری ہے۔ احرام باندھنے سے لے کر طواف، سعی، وقوفِ عرفہ، مزدلفہ میں قیام، رمیِ جمرات اور قربانی تک ہر مرحلہ اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ میں نے خود محسوس کیا کہ جو لوگ پہلے سے ان مسائل کو سیکھ کر جاتے ہیں، وہ نہ صرف زیادہ اطمینان کے ساتھ عبادت کرتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی سہولت کا باعث بنتے ہیں۔ اس لیے ہر حاجی کو چاہیے کہ وہ مستند علماء سے رہنمائی حاصل کرے اور حج کے مسائل کو اچھی طرح سمجھ لے۔عرفات کا دن حج کا سب سے اہم دن ہوتا ہے۔ یہی وہ دن ہے جس کے بارے میں کہا گیا کہ حج عرفہ ہے۔ میں جب میدانِ عرفات میں کھڑا تھا تو یوں محسوس ہوا جیسے قیامت کا منظر آنکھوں کے سامنے ہو۔ لاکھوں انسان ایک ہی لباس میں، ایک ہی آواز میں اپنے رب کو پکار رہے ہیں۔ اس منظر کو دیکھ کر انسان کے دل میں خشیت اور عاجزی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس دن کی دعا اور عبادت کو ہرگز معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔اسی طرح مزدلفہ کی رات اور منیٰ کے ایام بھی صبر، برداشت اور نظم و ضبط کا امتحان ہوتے ہیں۔ وہاں کی مشکلات دراصل انسان کو تربیت دیتی ہیں۔ گرمی، بھیڑ، تھکن، اور دیگر مسائل کے باوجود جو شخص صبر کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرتا ہے، وہی اصل میں حج کی روح کو سمجھ پاتا ہے۔ میں نے دیکھا کہ جو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکایت کرتے ہیں، وہ اس عظیم عبادت کے اصل مقصد سے دور ہو جاتے ہیں۔ایک اہم پہلو جس کی طرف میں خصوصی توجہ دلانا چاہتا ہوں، وہ اخلاقیات کا ہے۔ حج کے دوران انسان کو ہر حال میں صبر، تحمل، اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کسی سے جھگڑا کرنا، غصہ کرنا، یا دوسروں کو تکلیف دینا حج کے مقصد کے خلاف ہے۔ قرآن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حج میں نہ کوئی فحش بات ہو اور نہ کوئی جھگڑا۔ اس لیے ہر حاجی کو چاہیے کہ وہ اپنے اخلاق کو بہترین بنائے۔
آج کے دور میں جب سوشل میڈیا کا استعمال عام ہو چکا ہے، تو اس کا اثر حج پر بھی پڑ رہا ہے۔ لوگ عبادت کے بجائے تصویروں اور ویڈیوز میں زیادہ دلچسپی لینے لگے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف عبادت کے اخلاص کو متاثر کرتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خلل کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس مبارک سفر کو دنیاوی نمائش سے پاک رکھیں اور صرف اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھیں۔ ہمارے معاشرے میں حج کی صحیح تربیت کا فقدان ہے۔ لوگ بغیر مکمل معلومات کے اس سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں اور پھر مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حج سے پہلے تربیتی کیمپوں کا انعقاد کیا جائے جہاں عازمین کو عملی طور پر حج کے تمام مراحل سے آگاہ کیا جائے۔ اس سے نہ صرف ان کی عبادت بہتر ہوگی بلکہ انتظامی مسائل میں بھی کمی آئے گی۔
حج کے بعد کی زندگی بھی نہایت اہم ہے۔ یہ سفر صرف چند دنوں کا نہیں بلکہ پوری زندگی کو بدلنے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ جو شخص حج سے واپس آ کر بھی پہلے جیسی زندگی گزارے، اس نے اس عظیم نعمت کی قدر نہیں کی۔ حج کا اصل اثر یہ ہونا چاہیے کہ انسان کے کردار، اخلاق، اور عبادات میں واضح تبدیلی نظر آئے۔آج جب حج 2026 کی تیاریاں اپنے عروج پر ہیں اور ہندوستان سے عازمین کی روانگی کا وقت قریب ہے، تو یہ موقع ہر اس شخص کے لیے بھی غور کا ہے جو ابھی تک اس سعادت سے محروم ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اس نیت کو اپنے دل میں زندہ رکھے اور اللہ سے دعا کرے کہ وہ بھی اس عظیم نعمت سے نوازا جائے۔میں تمام عازمین حج سے یہی گزارش کروں گا کہ وہ اس سفر کو اپنی زندگی کا سب سے اہم سفر سمجھیں۔ ہر لمحہ کو قیمتی جانیں، ہر عبادت کو خلوص کے ساتھ ادا کریں، اور ہر حال میں صبر اور شکر کا دامن تھامے رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حج مبرور کی سعادت نصیب فرمائے اور اس عظیم عبادت کو ہماری بخشش کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے