कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خاموش خسارہ

از قلم : عارف محمد خان ، جلگاؤں

کلاس روم ایک عجیب سی گھٹن میں ڈوبا ہوا تھا۔ سست رفتار پنکھا جیسے وقت کا مذاق اڑا رہا تھا، اور دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں طلبہ کے صبر کا امتحان لے رہی تھیں۔ ہر ٹک ٹک دل پر دستک کی طرح محسوس ہوتی بے چین، بے قرار، بے رحم۔
استاد کی آواز کہیں دور دھندلا سی گئی تھی۔ الفاظ کتابوں سے نکل کر فضا میں بکھر تو رہے تھے، مگر کسی کے دل میں اترنے کو تیار نہ تھے۔ نظریں بار بار گھڑی کی طرف اٹھتیں، جیسے وہی نجات کا دروازہ ہو۔ آخری پیریڈ… مگر سب کے لیے یہ علم کا نہیں، آزادی کا وقت تھا۔
"سر! بس پانچ منٹ پہلے گھنٹی بجا دیجیے…”
ایک آواز اٹھی، پھر دوسری، اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری جماعت ایک التجا میں بدل گئی۔ استاد نے ایک لمحہ طلبہ کے چہروں کو دیکھا۔وہاں علم کی پیاس نہیں، صرف جانے کی جلدی تھی۔ ایک گہری سانس لے کر انہوں نے نظریں جھکا لیں۔
اور پھر… گھنٹی بجی۔
جیسے کسی قید خانے کا دروازہ کھل گیا ہو۔ بستے کندھوں پر اچھلے، کرسیاں پیچھے سرکیں، اور قدم زمین کو چھوتے بغیر دروازے کی طرف لپکے۔ راہداریوں میں شور، سیڑھیوں پر دوڑ، اور پھر سڑکوں کی طرف ایک بے ہنگم ریلاسب ایک ہی سمت، بس اسٹینڈ اور ریلوے اسٹیشن کی جانب۔
وہاں پہنچ کر رفتار اچانک تھم گئی۔
اب نہ گھنٹی تھی، نہ آزادی کی وہ بے خودی۔ صرف انتظار تھا۔لمبا، تھکا دینے والا، خاموش، سورج کی تپش، پیشانی پر پسینہ، اور آنکھوں میں تھکن لیے طلبہ قطاروں میں کھڑے تھے۔ کوئی بینچ پر نیم دراز، کوئی زمین پر بیگ رکھے بیٹھا، اور کوئی بار بار سڑک کی طرف دیکھتاجیسے وقت کو دھکیل دینا چاہتا ہو۔
عجیب ستم تھا۔چند منٹ پہلے جو وقت بوجھ لگ رہا تھا، اب وہی گھنٹوں کی صورت میں ان کے سامنے کھڑا تھا۔
اسی ہجوم میں ایک طالب علم خاموشی سے کھڑا تھا۔ اس کی نگاہیں کہیں دور کھوئی ہوئی تھیں، جیسے وہ ابھی بھی کلاس روم میں بیٹھا ہو۔ اسے اچانک احساس ہواجو لمحے وہ چھوڑ آیا ہے، وہ صرف وقت نہیں تھے… وہ علم کے چراغ تھے، جو اس نے خود اپنے ہاتھوں سے بجھا دیے۔
استاد کی ادھوری باتیں، کتاب کے وہ نامکمل سبق، اور وہ چند قیمتی منٹ—سب اس کی نظروں کے سامنے ایک سوال بن کر کھڑے ہو گئے۔
"کیا واقعی ہم نے وقت جیتا ہے… یا کچھ کھو دیا ہے؟”
ہجوم بدستور بے خبر تھا۔ کسی کو اس نقصان کا احساس نہ تھا، نہ ہی کوئی اس پر رکا۔ سب اپنی اپنی منزل کی طرف رواں تھے، مگر ایک خاموش خسارہ ان کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
اور شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہےکہ انسان وقتی جلدی میں وہ سب کھو دیتا ہے، جس کی کمی کا احساس اسے بہت دیر بعد ہوتا ہے… جب گھنٹی ہمیشہ کے لیے بج چکی ہوتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے