कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

آبنائے ہرمز :Strait of Harmuz

از قلم : عارف محمد خان،جلگاؤں

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جو نہ صرف آج بلکہ صدیوں سے عالمی تجارت، سیاست اور تہذیبوں کے درمیان رابطے کا مرکز رہی ہے۔
جغرافیائی محلِ وقوع:
آبنائے ہرمز دو ممالک کے درمیان واقع ہے۔شمال میں ایران جنوب میں سلطنتِ عمان (خاص طور پر مسندم کا علاقہ)یہ مقام مشرقِ وسطیٰ میں واقع ہے اور دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے قریب ہے۔
چوڑائی اور ساخت:
اس کی کل چوڑائی تقریباً 33 کلومیٹر ہے۔جہازوں کے گزرنے کے لیے مخصوص راستہ (Shipping lanes) تقریباً 3 کلومیٹر چوڑا ہوتا ہے۔یہ تنگ راستہ ہونے کی وجہ سے بہت حساس اور اہم سمجھا جاتا ہے۔
تعارف اور موجودہ اہمیت:
یہ تنگ آبی گزرگاہ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحرِ عرب سے ملاتی ہے۔ آج دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسے عالمی توانائی کی “شہ رگ” کہا جاتا ہے۔
تاریخی پس منظر:
قدیم دور:
آبنائے ہرمز کی اہمیت قدیم زمانے سے رہی ہے۔
ایرانی (فارس) سلطنتوں کے دور میں یہ راستہ تجارتی قافلوں اور بحری تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
ہندوستان، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تجارت اسی راستے کے ذریعے ہوتی تھی۔
مصالحہ جات، ریشم، قیمتی پتھر اور دیگر اشیاء یہاں سے گزرتی تھیں۔
اسلامی دور:
ساتویں صدی میں اسلام کے پھیلاؤ کے بعد یہ علاقہ اسلامی سلطنتوں کے زیرِ اثر آ گیا۔
عرب تاجروں نے اس راستے کو مزید فروغ دیا۔
یہ بندرگاہیں اسلامی تہذیب، علم اور تجارت کے مراکز بن گئیں۔
بغداد اور دیگر بڑے شہروں تک سامان اسی راستے سے پہنچتا تھا۔
پرتگالی دور (16ویں صدی):
1507ء میں پرتگالی بحری مہم جو الفانسو ڈی البوکرک نے آبنائے ہرمز پر قبضہ کر لیا۔
پرتگال نے یہاں قلعے تعمیر کیے اور اس راستے پر اپنی اجارہ داری قائم کی۔ان کا مقصد مشرقی تجارت (خاص طور پر ہندوستان اور عرب دنیا) پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔
صفوی اور برطانوی اثر: (17ویں–19ویں صدی)
1622ء میں ایرانی صفوی حکمرانوں نے انگریزوں کی مدد سے پرتگالیوں کو نکال دیا۔
بعد میں برطانوی سلطنت نے خلیج کے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔
برطانیہ نے اس راستے کو اپنے تجارتی اور فوجی مفادات کے لیے استعمال کیا۔
جدید دور (20ویں صدی تا حال)
تیل کی دریافت کے بعد آبنائے ہرمز کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی۔
خلیجی ممالک کی معیشت اس راستے پر انحصار کرنے لگی۔
ایران-عراق جنگ (1980–1988) کے دوران یہاں “ٹینکر وار” بھی ہوئی، جس میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آج بھی عالمی طاقتیں اس علاقے پر گہری نظر رکھتی ہیں۔
سیاسی و معاشی اہمیت:
عالمی معیشت کا دارومدار اس راستے پر ہے۔
کسی بھی کشیدگی یا رکاوٹ سے تیل کی قیمتیں متاثر ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں ہمیشہ بین الاقوامی توجہ مرکوز رہتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے