कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ہماری نمازیں بے اثر کیوں؟ ایک غورطلب فکری و اصلاحی جائزہ

ازقلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

آج کا مسلمان ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف وہ نماز، روزہ، حج اور دیگر عبادات کا اہتمام کرتا ہے، دوسری طرف اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بے سکونی، بے برکتی اور مسائل کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہماری نمازیں وہ اثر کیوں نہیں دکھا رہیں جن کا وعدہ قرآن و حدیث میں کیا گیا ہے؟ زیرِ نظر چارٹ اسی حقیقت کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں واضح کرتا ہے۔
یہ مثال ایک پانی کے نظام (Water System) کی ہے، جس کے ذریعے یہ سمجھایا گیا ہے کہ نماز، ایمان، شریعت، جماعت اور روزہ مل کر ایک مکمل نظام بناتے ہیں۔ اگر اس نظام کا کوئی حصہ کمزور یا خراب ہو جائے تو پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔
سب سے پہلے ایمان کو اس نظام کا “سورس” یعنی اصل منبع قرار دیا گیا ہے۔ ایمان وہ بنیاد ہے جس سے تمام اعمال کو قوت ملتی ہے۔ اگر ایمان کمزور ہو، اللہ پر یقین متزلزل ہو، یا آخرت کا تصور دھندلا جائے تو پھر عبادات محض رسم بن کر رہ جاتی ہیں۔ مضبوط ایمان ہی وہ قوت ہے جو انسان کے دل میں خشیت، اخلاص اور عمل کی روح پیدا کرتی ہے۔
اس کے بعد نظامِ جماعت کا ذکر آتا ہے، جسے ایک منظم ڈھانچے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسلام محض انفرادی عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل اجتماعی نظام بھی ہے۔ جب مسلمان نظم و ضبط، اتحاد اور اجتماعی شعور سے دور ہو جاتے ہیں تو ان کی قوت منتشر ہو جاتی ہے۔ مسجد کی جماعت سے لے کر امت کی اجتماعی وحدت تک، ہر سطح پر نظم کی پابندی ضروری ہے۔
پھر آتا ہے شریعت، جسے “انفراسٹرکچر” کہا گیا ہے۔ شریعت وہ مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے کو منظم کرتا ہے۔ تجارت ہو یا سیاست، عدالت ہو یا معیشت، اگر ان شعبوں میں اسلامی اصولوں کو نظرانداز کیا جائے تو گویا پورا نظام کمزور بنیادوں پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ صرف نماز پڑھ لینے سے زندگی کے باقی معاملات درست نہیں ہو جاتے، بلکہ شریعت کا مکمل نفاذ ضروری ہے۔
اسی طرح نماز کو اس نظام کی “پاور سورس” یعنی توانائی کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ نماز وہ عبادت ہے جو انسان کو اللہ سے جوڑتی ہے، اسے گناہوں سے روکتی ہے اور روحانی طاقت عطا کرتی ہے۔ لیکن جب نماز میں خشوع و خضوع نہ ہو، دل حاضر نہ ہو، اور نیت خالص نہ ہو تو یہ طاقت پیدا نہیں ہو پاتی۔ قرآن کہتا ہے: “إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ” — بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ اگر ہماری نماز ہمیں برائی سے نہیں روک رہی تو ہمیں اپنی نماز کا جائزہ لینا ہوگا۔
“إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ”
(بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے)
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب قرآن کا وعدہ سچا ہے تو ہماری نمازیں بے اثر کیوں نظر آتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ نماز بے اثر نہیں ہوئی، بلکہ ہم نے نماز کو اس کی اصل روح اور مقصد کے ساتھ ادا کرنا چھوڑ دیا ہے۔
1. روحِ نماز سے دوریـ:
آج ہماری نماز اکثر صرف ظاہری حرکات کا مجموعہ بن گئی ہے۔ قیام، رکوع اور سجدہ تو ادا ہوتے ہیں، مگر دل حاضر نہیں ہوتا۔
جب نماز میں خشوع و خضوع نہیں ہوتا تو وہ محض ایک رسم بن جاتی ہے، جو زندگی میں انقلاب نہیں لا سکتی۔
2. قرآن کو سمجھے بغیر پڑھنا:
ہم نماز میں قرآن کی تلاوت تو کرتے ہیں، لیکن اس کے معانی اور پیغام سے ناواقف رہتے ہیں۔
جب انسان کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ اپنے رب سے کیا کہہ رہا ہے تو دل پر اثر کیسے ہوگا؟
3. گناہوں پر اصرار:
بعض اوقات انسان نماز بھی پڑھتا ہے اور ساتھ ہی گناہوں میں بھی مبتلا رہتا ہے۔
یاد رکھئے! نماز برائی سے روکتی ہے، لیکن جب انسان خود رکنے کا ارادہ نہ کرے تو نماز کا اثر ظاہر نہیں ہوتا۔
4. نماز کو بوجھ سمجھنا:
کئی لوگ نماز کو ایک ذمہ داری یا بوجھ سمجھ کر ادا کرتے ہیں، نہ کہ اللہ سے ملاقات کا موقع۔
جب تک نماز میں محبت، شوق اور تعلقِ الٰہی پیدا نہیں ہوگا، اس کا حقیقی اثر ظاہر نہیں ہوگا۔
5. باجماعت نماز اور ماحول کا فقدان:
تنہا اور جلدی جلدی پڑھی جانے والی نماز بھی اثر کو کم کر دیتی ہے۔
باجماعت نماز، صالح ماحول اور نیک صحبت انسان کی نماز کو زندہ بناتے ہیں۔
نماز ایک ایسی عبادت ہے جو اگر صحیح روح، شعور اور اخلاص کے ساتھ ادا کی جائے تو انسان کی پوری زندگی بدل دیتی ہے۔
مسئلہ نماز میں نہیں، بلکہ ہماری ادائیگی، نیت اور کیفیت میں ہے۔
جب نماز میں دل شامل ہوگا، قرآن سمجھ کر پڑھا جائے گا، اور گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ ہوگا، تو وہی نماز یقیناً ہمیں ہر برائی سے روک دے گی۔
پھر روزہ کو ایک فلٹر (Filter) کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ روزہ انسان کے نفس کو پاک کرتا ہے، خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے اور اندرونی صفائی پیدا کرتا ہے۔ اگر انسان روزے کی روح کو نہ سمجھے اور صرف بھوکا پیاسا رہنے کو کافی سمجھے تو یہ فلٹر اپنا کام نہیں کر پاتا۔
چارٹ کا سب سے اہم اور چونکا دینے والا حصہ “مسئلہ کیا ہوا؟” کے عنوان سے ہے، جہاں دو بڑی خرابیاں بیان کی گئی ہیں:
اول، سود، جھوٹ اور حرام — :
یہ وہ گندگی ہے جو پورے نظام میں داخل ہو کر اسے آلودہ کر دیتی ہے۔ جب معیشت سود پر قائم ہو، معاملات میں جھوٹ اور دھوکہ ہو، اور حرام کمائی عام ہو جائے تو عبادات کا اثر کم ہو جاتا ہے۔
دوم، فرقہ واریت اور قوم پرستی :
یہ وہ دراڑ ہے جو نظام کو توڑ دیتی ہے۔ جب امت ایک ہونے کے بجائے گروہوں میں بٹ جائے، تعصب اور نفرت عام ہو جائے تو اجتماعی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔
مزید برآں، غیر اسلامی ملاوٹ کو بھی ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جب دین میں غیر اسلامی رسومات، بدعات اور دنیاوی نظریات شامل ہو جاتے ہیں تو دین کی اصل روح متاثر ہوتی ہے، اور پھر عبادات کا حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
آخر میں “موجودہ حال” کو ایک ناکام نظام (Failure) کے طور پر دکھایا گیا ہے، جہاں نل کھلا ہے مگر پانی نہیں آ رہا۔ یعنی نمازیں موجود ہیں، مگر اثر نہیں؛ عبادات ہیں، مگر برکت نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ پورا نظام کہیں نہ کہیں خراب ہو چکا ہے۔
حل کیا ہے؟
حل نہایت واضح ہے مگر محنت طلب:
ایمان کی تجدید، نماز میں خشوع، شریعت کی مکمل پیروی، حرام سے اجتناب، اور امت کی وحدت کی بحالی۔ ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا اور دین کو مکمل طور پر اپنانا ہوگا، نہ کہ جزوی طور پر۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نماز ایک مکمل نظام کا حصہ ہے، اگر ہم اس نظام کو درست کر لیں تو ہماری نمازیں بھی اثر دکھائیں گی، ہماری زندگیوں میں سکون آئے گا اور امت پھر سے عزت و وقار کی راہ پر گامزن ہو سکے گی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے