कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایک دن میں چوبیس گھنٹے کیوں ہوتے ہیں ؟

تحریر:ابو خالد
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ غازی آباد ۔

دن میں 24 گھنٹے، ہر گھنٹے میں 60 منٹ اور ہر منٹ میں 60 سیکنڈ کیوں ہوتے ہیں، وقت کی پیمائش کا راز: پانچ ہزار سال پرانا فیصلہ جس نے ہماری دنیا بدل دی۔
انسانی تاریخ میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی نظر آتے ہیں، مگر ان کے اثرات صدیوں تک انسان کی زندگی کو متاثر کرتے رہتے ہیں۔ وقت کی پیمائش کا نظام بھی انہی میں سے ایک ہے۔ آج ہم دن کو 24 گھنٹوں میں، ایک گھنٹے کو 60 منٹوں میں اور ایک منٹ کو 60 سیکنڈز میں تقسیم کرتے ہیں، لیکن شاید ہی کبھی یہ سوچتے ہوں کہ یہ نظام آخر بنا کیسے؟ اس کے پیچھے کون سی سوچ، کون سی تہذیب اور کون سا راز چھپا ہوا ہے۔
اگر ہم وقت کے پہیے کو الٹا گھمائیں اور ہزاروں سال پیچھے جائیں تو ہمیں ایک ایسی دنیا نظر آتی ہے جہاں وقت کو گننے کا کوئی واضح نظام موجود نہیں تھا۔ انسان سورج کے طلوع و غروب، چاند کے بدلتے ہوئے مراحل اور موسموں کی تبدیلی سے اندازہ لگاتا تھا کہ دن کب شروع ہوا اور کب ختم۔ مگر جیسے جیسے انسانی تہذیب ترقی کرنے لگی، خاص طور پر زراعت اور تجارت نے جنم لیا، تو وقت کی درست پیمائش کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔
تقریباً پانچ ہزار سال قبل قدیم تہذیبوں، خاص طور پر Mesopotamia اور Ancient Egypt میں وقت کو منظم کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ ان تہذیبوں نے نہ صرف سورج اور ستاروں کی حرکات کا بغور مشاہدہ کیا بلکہ ان کی بنیاد پر وقت کو تقسیم کرنے کے اصول بھی وضع کیے۔ قدیم مصریوں نے دن اور رات کو ملا کر 24 حصوں میں تقسیم کیا، جس کی بنیاد سورج کی حرکت اور رات کے وقت نظر آنے والے ستاروں کے گروہوں پر رکھی گئی۔
تاہم، وقت کو 60 کے ہندسے میں تقسیم کرنے کا راز ہمیں Babylonian civilization میں ملتا ہے۔ بابل کے لوگوں نے ایک خاص عددی نظام اپنایا جسے "Sexagesimal System” کہا جاتا ہے، یعنی 60 پر مبنی نظام۔ اس نظام کی خاص بات یہ تھی کہ 60 ایک ایسا عدد ہے جو کئی چھوٹے اعداد سے بخوبی تقسیم ہو جاتا ہے، جیسے 2، 3، 4، 5، 6 وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ حساب کتاب اور فلکیاتی مشاہدات میں اسے انتہائی آسانی سے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
بابلیوں نے نہ صرف وقت بلکہ زاویوں کی پیمائش میں بھی اسی نظام کو استعمال کیا، جس کی جھلک آج بھی 360 درجے کے دائرے میں دیکھی جا سکتی ہے۔ یہی 60 پر مبنی سوچ آگے چل کر گھنٹوں، منٹوں اور سیکنڈز کی بنیاد بن گئی۔ یوں ایک گھنٹہ 60 منٹوں پر مشتمل ہوا اور ہر منٹ کو مزید 60 سیکنڈز میں تقسیم کر دیا گیا۔
وقت کی پیمائش کے ابتدائی آلات بھی نہایت دلچسپ تھے۔ قدیم مصریوں نے "سورج گھڑی” (Sundial) ایجاد کی، جس میں سورج کی روشنی اور سائے کی مدد سے وقت کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔ بعد ازاں پانی کی گھڑیاں (Water Clocks) اور ریت کی گھڑیاں (Hourglass) بھی استعمال میں آئیں، جنہوں نے وقت کی پیمائش کو مزید بہتر بنایا۔
مصریوں نے گھنٹوں کا تعین 36 چھوٹے ستاروں کے جھرمٹ سے کرنا شروع کیا جنھیں ڈیکینز کہا جاتا تھا، جن میں سے ہر ایک جھرمٹ 40 منٹ بعد طلوع ہوتا تھا اور اس طرح وہ ہر چالیس منٹ بعد ایک نئے گھنٹے کا آغاز کرتے تھے۔
کئی صدیوں بعد یونانیوں نے اس نظام کو بے کار قرار دیا، وہ دن کی طوالت کو ٹھیک کرنا چاہتے تھے،جس کے بعد Hipparchus نامی ماہر نجوم نے مصری ستاروں کی گھڑی کو اُس گھڑی کے مطابق ڈھالا جو ہم آج استعمال کرتے ہیں، جس میں روشنی اور تاریکی کو 12، 12 گھنٹوں کی یکساں طوالت میں تقسیم کیا گیا۔
جیسے جیسے سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی، ویسے ویسے وقت کو ناپنے کے طریقے بھی جدید ہوتے گئے۔ قرونِ وسطیٰ میں مکینیکل گھڑیاں ایجاد ہوئیں اور پھر جدید دور میں ایٹمی گھڑیاں (Atomic Clocks) سامنے آئیں، جو وقت کو انتہائی درستگی کے ساتھ ناپتی ہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی ترقی کے باوجود ہم آج بھی اسی بنیادی نظام پر قائم ہیں جو ہزاروں سال پہلے وضع کیا گیا تھا۔
اس سے یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ قدیم تہذیبوں کی سوچ کتنی گہری اور دور اندیش تھی۔ انہوں نے جو بنیاد رکھی، وہ نہ صرف اپنے وقت کے لیے کارآمد تھی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی بہترین ثابت ہوئی۔ وقت کی یہ تقسیم نہ صرف سائنسی اعتبار سے موزوں ہے بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی بے حد آسان اور مؤثر ہے۔
آج جب ہم گھڑی کی طرف دیکھتے ہیں اور وقت کا حساب لگاتے ہیں، تو دراصل ہم ایک قدیم فیصلے کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں۔ ایک ایسا فیصلہ جو ہزاروں سال پہلے کیا گیا، مگر آج بھی ہماری زندگی کے ہر لمحے کو منظم کر رہا ہے۔
اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انسانی عقل و فہم جب کسی مسئلے کا حل تلاش کرتی ہے تو وہ وقت کی قید سے آزاد ہو کر صدیوں تک فائدہ پہنچا سکتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے