कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

افراد کی زندگی میں زبان کا کردار

ازقلم :محمود علی لیکچرر
8055402819

لفظ "اقرأ” (پڑھو) تاریخِ انسانی کا ایک عظیم ترین لفظ ہے، جو سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا۔ یہ حکم Quran کی پہلی وحی کا حصہ ہے جو جیبرائیل فرشتہ Jibrīl کے ذریعے دیا گیا۔ اس ایک لفظ نے علم شعور اور انسانیت کی ترقی کا دروازہ کھول دیا اسلام میں مختلف زبانوں کو اللہ کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔
قرآن میں بیان ہوا کہ انسانوں کے رنگ اور زبانوں کا اختلاف اللہ کی قدرت کی نشانی ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ
ہر زبان قابلِ احترام ہے
علم حاصل کرنے کے لیے زبان رکاوٹ نہیں بلکہ ذریعہ ہے
انسان کو ہر زبان سے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے
ریاستی زبانیں، انگریزی اردو و عربی تعلیمی تہذیبی اور فکری اور سماجی تناظر میں ایک تحقیقی جائزہ لیا گیا ہے
سماجیات اور فلسفہ میں انسان کو حیوانِ ناطق کہا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح خاص طور پر Aristotle کے فلسفے سے جڑی ہوئی ہے۔
زبان انسانی معاشرے کے لیے جزء لاینفک ہے جو نہ صرف ابلاغ کا ذریعہ ہے بلکہ تہذیب ثقافت تاریخ اور شناخت کی امین بھی ہے۔ موجودہ دورِ گلوبلائزیشن( عالم یانہ) میں زبانوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے جہاں ایک طرف عالمی سطح پر انگریزی کا غلبہ ہے وہیں دوسری طرف مقامی اور تہذیبی زبانوں کے تحفظ کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس تحقیقی مضمون میں ریاستی زبانوں اور انگریزی، اردو اور عربی زبان کی اہمیت، ان کے باہمی تعلق اور مختلف طبقات کی ذمہ داریوں کا جائزہ لیا ہے
ریاستی زبانوں کی اہمیت (Importance of Regional Languages)
ریاستی زبانیں کسی بھی خطے کی معاشرتی زندگی، ثقافتی اقدار اور عوامی شعور کی عکاس ہوتی ہیں۔ ابتدائی تعلیم اگر ریاستی زبان میں دی جائے تو طلبہ کی فہم و ادراک کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ ماہرینِ تعلیم کے مطابق مادری یا ریاستی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ پیچیدہ تصورات کو زیادہ آسانی سے سمجھتے ہیں۔
مزید برآں، ہندوستان میں متعدد مسابقتی امتحانات ریاستی زبانوں میں بھی منعقد ہوتے ہیں، اس لیے ان زبانوں پر عبور عملی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ اس تناظر میں اسکولوں میں ریاستی زبان کے ماہر اساتذہ کی دستیابی نہایت اہمت کی حامل اور اہم ہے۔
ہماری مراٹھی زبان اورریاستی شناخت:
ہر قوم اپنی زبان کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ مہاراشٹرا میں ہماریے مراٹھی بولنے والے مراٹھی براددرس کے درمیان اتحاد اور یگانگت کا ذریعہ ہے۔ یہ زبان نہ صرف گھروں میں بولی جاتی ہے بلکہ عدالتوں، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بھی اس کا استعمال عام ہے۔ مراٹھی ادب میں عظیم شعراء اور ادباء نے اپنی تخلیقات کے ذریعے معاشرتی اصلاح اور شعور بیدار کیا۔
مسابقتی امتحانات میں مراٹھی زبان کی اہمیت:
مہاراشٹرا کے بیشتر مسابقتی امتحانات، جیسے MPSC اور دیگر سرکاری امتحانات، میں مراٹھی زبان کا علم لازمی ہوتا ہے۔ سوالات کو سمجھنے، جوابات تحریر کرنے اور انٹرویو میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مراٹھی پر عبور انتہائی ضروری ہے۔ جو طلبہ اس زبان میں مہارت رکھتے ہیں، وہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں۔
پانچویں جماعت سے تیاری کی ضرورت:
ماہرینِ تعلیم کے مطابق بچپن سیکھنے کا بہترین دور ہوتا ہے۔ اگر طلبہ کو پانچویں جماعت سے مراٹھی زبان کی مضبوط بنیاد فراہم کی جائے تو وہ مستقبل میں نہ صرف تعلیمی میدان میں کامیاب ہوتے ہیں بلکہ مسابقتی امتحانات میں بھی نمایاں کارکردگی دکھاتے ہیں۔
ابتدائی سطح پر:
الفاظ کا ذخیرہ بڑھایا جائے
درست املا اور گرامر سکھائی جائے
تحریری اور زبانی مشق کروائی جائے
یہ تمام اقدامات طلبہ کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اساتذہ کی ذمہ داریاں:
اساتذہ معاشرے کے معمار ہوتے ہیں۔ ان کا فرض ہے کہ وہ طلبہ میں زبان کے تئیں محبت اور دلچسپی پیدا کریں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
تدریس کو دلچسپ اور آسان بنایا جائے
طلبہ کو عملی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے
کہانی مکالمہ اور مباحثے کے ذریعے زبان سکھائی جائے
مسابقتی امتحانات کے بارے میں ابتدائی شعور دیا جائے
اساتذہ اگر خلوص اور محنت سے کام کریں تو وہ طلبہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
زبان اور ترقی کا تعلق:
جو قوم اپنی زبان کو اہمیت دیتی ہے، وہ ترقی کی راہ پر گامزن رہتی ہے۔ مراٹھی زبان کے فروغ سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ سماجی ہم آہنگی بھی بڑھے گی۔ طلبہ جب اپنی زبان میں مضبوط ہوں گے تو وہ دیگر زبانوں کو بھی بہتر انداز میں سیکھ سکیں گے۔
انگریزی زبان کی افادیت (Significance of English Language):
انگریزی زبان اس وقت دنیا کی سب سے مؤثر عالمی زبان بن چکی ہے۔ سائنسی تحقیق ٹیکنالوجی، بین الاقوامی تجارت اور اعلیٰ تعلیم میں انگریزی کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
بھارت جیسے ترقی پذیر ملک میں انگریزی مہارت معاشی ترقی اور عالمی مواقع تک رسائی کا ذریعہ پہے۔ تاہم، تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اگر انگریزی کو مقامی زبانوں پر فوقیت دے کر پڑھایا جائے تو طلبہ میں فکری کمزوری اور شناختی بحران پیدا ہو سکتا ہے
اردو اور عربی زبان کا تہذیبی و مذہبی کردار:
اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب، ادب اور ثقافتی ورثے کی نمائندہ ہے۔ اس زبان میں شاعری، نثر اور علمی ذخیرہ نہایت وسیع ہے، جو معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے۔
دوسری طرف عربی زبان اسلامی تعلیمات کی بنیاد ہے۔ قرآنِ مجید، حدیث اور دیگر دینی علوم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان کا علم ناگزیر ہے۔ اگر نئی نسل عربی اور اردو سے دور ہو جائے تو وہ اپنے مذہبی اور تہذیبی ورثے سے کٹ سکتی ہے، جو فکری انتشار اور بعض صورتوں میں الحاد کا سبب بن سکتا ہے۔
زبان اور فکری انحراف (Language and Intellectual Deviation):
تحقیقی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب افراد اپنی تہذیبی اور مذہبی زبانوں سے دور ہو جاتے ہیں تو ان میں شناختی بحران پیدا ہوتا ہے۔ یہ بحران بعض اوقات مذہب سے دوری اور الحاد کی طرف لے جاتا ہے۔
لہٰذا زبان کا تحفظ صرف ثقافتی نہیں بلکہ فکری اور مذہبی استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
مختلف طبقات کی ذمہ داریاں (Responsibilities of Different Stakeholders)
مسلم دانشوروں کی ذمہ داری:
دانشوروں کو چاہیے کہ وہ زبانوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کریں اور نئی نسل کو فکری رہنمائی فراہم کریں۔
اساتذہ کی ذمہ داری:
اساتذہ طلبہ میں زبانوں کے سیکھنے کا شوق پیدا کریں اور انہیں عملی زندگی کے تقاضوں کے مطابق تیار کریں۔
اسکول و کالج کی ذمہ داری:
تعلیمی اداروں کو ایسا نصاب تشکیل دینا چاہیے جس میں ریاستی زبان، انگریزی اور اردو کو متوازن اہمیت حاصل ہو۔
معاشرہ سماج (سوسائٹی) کی ذمہ داری:
معاشرہ زبان کی بنیاد پر احساسِ کمتری پیدا نہ کرے بلکہ ہر زبان کو اہمیت اور عزت دیں۔
علما کی ذمہ داری:
۹علما کو چاہیے کہ وہ عربی اور اردو کے ذریعے دین کی صحیح تعلیم عام کریں اور نوجوان نسل کو مذہب سے جوڑیں۔
والدین کی ذمہ داری:
والدین بچوں کی ابتدائی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ بچوں کو اپنی زبان، ثقافت اور مذہب سے جوڑیں اور انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو و عربی سیکھنے کی ترغیب دیں۔
بحث (Discussion):
موجودہ تعلیمی نظام میں سب سے بڑا مسئلہ زبانوں کے درمیان عدم توازن ہے۔ ایک طرف انگریزی کو حد سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ریاستی اور تہذیبی زبانوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس عدم توازن کو ختم کرنے کے لیے ایک مربوط پالیسی کی ضرورت ہے جس میں تینوں زبانوں کو مناسب مقام دیا جائے۔
نتیجہ (Conclusion):
اس تحقیقی جائزے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ زبانوں کے درمیان توازن قائم رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ریاستی زبانیں ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑتی ہیں، انگریزی ہمیں عالمی دنیا سے مربوط کرتی ہے، جبکہ اردو اور عربی ہماری تہذیبی اور مذہبی شناخت کو محفوظ رکھتی ہیں۔
اگر مختلف طبقات اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر انجام دیں تو ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو علمی، تہذیبی اور فکری لحاظ سے مضبوط ہو۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے