कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان کے استقبال واحترام دونوں کی فکرکریں

تحریر:ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ(صدرجمعیۃ الاقلیۃ المسلمۃ الھندیہ ،لکھنؤ)

ماہ رمضان میں ایسے انداز میں عبادت کو فرض کے طور پر متعین فرما دیا گیا ہے کہ انسان اس عبادت کے ساتھ اپنی تمام ضروریات وحوائج میں بھی مصروف رہ سکتا ہے اور عین اسی خاص طریقہ عبادت میں بھی مشغول ہوسکتا ہے، ایسی خاص طریقہ کی عبادت کو روزہ کہا جاتا ہے، جسے اس ماہ میں فرض فرمادیا گیا ہے، روزہ ایک عجیب عبادت ہے کہ انسان روزہ رکھ کر اپنے ہر کام کو انجام دے سکتا ہے روزہ رکھ کر صنعت و حرفت تجارت و زیارت ہرکام بخوبی احسن کرسکتا ہے اور پھر بڑی بات یہ کہ ان کاموں میں مشغول ہونے کے وقت بھی روزہ کی عبادت روزہ دار سے بے تکلف خودبخود صادر ہوتی رہتی ہے اور اس کو عبادت میں مشغولی کا ثواب ملتا رہتا ہے۔ اس ماہ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مقدس کا نزول اسی پاک مہینے میں ہوا۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرہ عشرہ جہنم کی آگ سے نجات کا ہے۔
جب رمضان المبارک کا چاند نظر آتا تو آپؐ فرماتے تھے کہ یہ چاند خیر و برکت کا ہے‘ یہ چاند خیر و برکت کا ہے، میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔حضرت جبرائیل علیہ سلام نے دعا کی کہ ہلاک ہوجائے وہ شخص جس کو رمضان کا مہینہ ملے اور وہ اپنی بخشش نہ کرواسکے، جس پر حضرت محمد ؐنے ارشاد فرمایا آمین! حضرت جبرائیل علیہ سلام کی یہ دعا اوراس پر حضرت محمد ؐ کا آمین کہنا اس دعا سے ہمیں رمضان کی اہمیت کو سمجھ لینا چاہئے۔
روزہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کو رب ذوالجلال نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن رب تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر بغیر کسی واسطہ کے بذات خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے۔خداوند کریم نے اپنے بندوں کے لئے عبادات کے جتنے بھی طریقے بتائے ہیں ان میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور پوشیدہ ہے۔ نماز خدا کے وصال کا ذریعہ ہے۔ اس میں بندہ اپنے معبودِ حقیقی سے گفتگو کرتا ہے۔ بعینہ روزہ بھی خدا تعالیٰ سے لَو لگانے کا ایک ذریعہ ہے۔
امت محمدیہ کے لیے ایک سال میں ایک ماہ کے روزے فرض کیے گئے اور روزے کا وقت طلوع سحر سے لے کر غروب آفتاب تک رکھا گیا، جو مزاج انسانی کے لیے انتہائی معتدل اور مناسب ہے۔ اگر اس وقت میں کمی یا زیادتی کر کے دیکھا جائے تو بھی انسان وہ مقاصد حاصل نہیں کر سکتا جو طلوع سحر سے غروب آفتاب کے درمیان اپنے نفس کی تربیت اور ریاضت کرکے حاصل کر لیتا ہے۔
جس نے اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور آتش دوزخ سے آزادی کا ذریعہ ہوگا، اور اس کو روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا۔ بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ؐ! ہم میں سے ہر ایک کو تو افطار کرانے کا سامان میسر نہیں ہوتا۔ آپؐ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی دے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسّی پر یا صرف پانی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کا روزہ افطار کروا دے۔ پھر فرمایا کہ جو کوئی کسی روزہ دار کو پورا کھانا کھلا دے اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے ایسا سیراب کرے گا جس کے بعد اس کو کبھی پیاس ہی نہیں لگے گی۔ یہاں تک کہ وہ جنّت میں پہنچ جائے گا۔ اس کے بعد فرمایا : اس ماہ مبارک کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ آتش جہنم سے آزادی ہے۔ جو آدمی اس مہینے میں اپنے غلام و خادم کے کام میں تخفیف اور کمی کر دے گا اللہ تعالی اس کی مغفرت فرما دے گا اور اس کو دوزخ سے رہائی اور آزادی دے گا۔‘‘ (شعب الایمان )
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک خاص قسم کی تاثیر رکھی ہے جو دنیا کی اور کسی کتا ب میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے ہی نہیںبلکہ سننے والے پر بھی ایک خاص اثر پڑتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمؐ نے مجھ سے فرمایا : ’’ مجھے قرآن سناؤ، میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ سے سننا چاہتے ہیں جب کہ قرآن پاک آپ ؐپر نازل ہوا ہے۔ آپ ؐنے فرمایا: ہاں! دل یہی چاہتا ہے کہ قرآن کسی اور سے سنوں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں، میں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب اس آیت کریمہ پر پہنچا، مفہوم: ’’ اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ کو حاضر کریں گے۔‘‘ تو آپؐ نے فرمایا: اب بس کردو! میں نے آپؐ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو آپؐ کی مبارک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔‘‘ (بخاری)
یہی حال رسول اکرمؐ کے اصحابؓ کا بھی تھا۔ ایک رات حضرت عمر ؓ شہر کی دیکھ بھال کے لیے نکلے تو ایک گھر سے کسی مسلمان کے قرآن پڑھنے کی آواز سنائی دی، آپؐ نے سواری روکی اور کھڑے ہو کر سننے لگے۔ جب وہ اس آیت پر پہنچے: ’’ بے شک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر ہی رہے گا، اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں۔‘‘ تو حضرت عمرؓکی زبان بے ساختہ یہ الفاظ نکلے: ’’رب کعبہ کی قسم سچ ہے۔‘‘ پھر آپ ؐ سواری سے اتر ے اور دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے، یہاں تک کے چلنے پھرنے کی طاقت بھی نہ رہی۔ امیرالمومنین حضرت عمر ؓاس آیت کو سننے کے بعد ایسے بیمار ہوئے کہ کم و بیش ایک ماہ تک بستر علالت پر پڑے رہے۔
یہ تو وہ بزرگ، مقدس و مطہر شخصیات تھیں جن سے اللہ رب العزت راضی ہو نے کا اعلان خود قرآن میں کرچکے تھے، مگر اس کے باوجود بھی ان کا یہ حال تھا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہم مسلمانی کا دعوی کرنے کے بعد کس موڑ پر کھڑے ہیں؟ کیا ہم نے اس طرح قرآن کریم میں غوطہ زن ہوکر اس کے رموز و اسرار کو پانے کی کوشش کی؟ کیا ہماری نوجوان نسل شعور قرآنی کو حاصل کرنے کی خواہاں ہے؟ کیا ہماری خواتین مسائل قرآنی کو سمجھنے کی سکت رکھتی ہیں؟ کیا ہم میں قرآن کو سمجھنے کی تڑپ ہے۔ ؟
آئیے، آج سچی تڑپ کے ساتھ ا پنے قلوب کو بیدار کیجیے اور اس ماہ رمضان کی آمد پر عہد کیجیے کہ نبی آخرالزماں ؐکے بتائے ہوئے طریقے پر چل کر، ان کے صحابہؓ کی سی تڑپ کو اپنے دلوں میں سلگا کر، قرآن کریم کو صرف پڑھنے ہی نہیں بل کہ ہر حرف میں ڈوب کر، آیات کو سمجھ کر اللہ رب العزت کے دیے گئے احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے