कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

الیکشن کمیشن کی ساکھ اور سیاسی اعتماد کا بحران: ’دفتری لغزش‘ یا ادارہ جاتی کمزوری؟

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ: 9934933992

جمہوریت کی بنیاد محض ووٹنگ کے عمل پر نہیں بلکہ اس عمل کی ساکھ، شفافیت اور غیر جانبداری پر استوار ہوتی ہے۔ جب عوام اپنے ووٹ کے ذریعہ اقتدار کی منتقلی کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو دراصل وہ ایک ایسے نظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں جس کی نگرانی ایک غیر جانبدار اور باوقار ادارہ کرتا ہے۔ ہندوستان میں یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن آف انڈیا کے سپرد ہے، جسے آئینی تحفظ، وسیع اختیارات اور غیر معمولی خودمختاری حاصل ہے۔ لیکن حالیہ تنازعہ نے اس ادارے کی غیر جانبداری اور ساکھ کے حوالے سے ایک سنجیدہ بحث کاآغاز کردیا ہے، جس کے اثرات محض ایک واقعہ تک محدود نہیں بلکہ پورے جمہوری ڈھانچے تک پھیلے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
کیرالہ میں سامنے آنے والا تقریبا سات سال قبل کاوہ خط، جس پر مبینہ طور پر ایک سیاسی جماعت کی مہر پائی گئی، بظاہر ایک معمولی دفتری لغزش قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کے مضمرات نہایت گہرے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کے مختلف حساس اور سیاسی طور پر اہم خطوں میں انتخابی سرگرمیاں زور پکڑ رہی ہوں، اس نوعیت کے واقعات نہ صرف سیاسی درجۂ حرارت کو بڑھاتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی متزلزل کرتے ہیں۔ جمہوریت میں اعتماد کا عنصر سب سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے، اور جب یہی عنصر کمزور پڑنے لگے تو پورا نظام سوالات کی زد میں آ جاتا ہے۔
دراصل یہ تنازعہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک حزبِ اختلاف جماعت کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک دستاویز شیئر کی گئی، جس میں الیکشن کمیشن کے نام سے جاری خط پر ایک سیاسی جماعت کی مہر واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی۔ اس انکشاف کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اسے جمہوری اداروں کی غیر جانبداری کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔ سوال یہ اٹھایا گیا کہ آخر ایک آئینی ادارے کے سرکاری خط پر کسی سیاسی جماعت کی مہر کیسے ظاہر ہو سکتی ہے؟ کیا یہ محض ایک دفتری غلطی ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہری ادارہ جاتی خامی کارفرما ہے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ الیکشن کمیشن محض ایک انتظامی ادارہ نہیں بلکہ جمہوری عمل کا محافظ اور نگران ہے۔ اگر اسی نگہبان کی غیر جانبداری مشکوک ہو جائے تو عوام کا اعتماد متزلزل ہونا فطری امر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، اور اسے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دیا گیا جس میں ادارہ جاتی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے اس واقعہ کو محض ایک اتفاقی غلطی ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات جمہوری اداروں کے اندر بڑھتی ہوئی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ طنزیہ انداز میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا ہر سنگین معاملے کو ’دفتری غلطی‘ کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ یہ دراصل اس عوامی اضطراب کی عکاسی ہے جو نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عام شہریوں کے ذہنوں میں بھی پیدا ہو رہی ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس پورے معاملے پر الیکشن کمیشن کی وضاحت بھی سامنے آئی، جس میں کہا گیا کہ یہ ایک محض دفتری غلطی تھی۔ کمیشن کے مطابق ایک سیاسی جماعت کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویز، جس پر اس کی مہر لگی ہوئی تھی، غلطی سے دیگر جماعتوں کو بھیج دی گئی۔ اس وضاحت کے ساتھ ہی ایک متعلقہ افسر کو معطل کر دیا گیا اور مزید تحقیقات کا اعلان کیا گیا۔ بظاہر یہ اقدام فوری ردعمل کے طور پر مناسب معلوم ہوتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے مسئلے کی اصل جڑ تک پہنچا جا سکے گا؟
اسی دوران کیرالہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ نوٹس نے اس معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا۔ نوٹس میں واضح طور پر کہا گیا کہ متعلقہ پوسٹ نہ صرف ایک معزز قومی ادارے کی توہین ہے بلکہ یہ سماج میں تقسیم اور نفرت کو فروغ دے کر عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ بھی بن سکتی ہے۔ مزید یہ کہ 2019 کے اس خط سے متعلق تمام ڈیجیٹل مواد کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی گئی، جس میں دفتری غلطی کے باعث غیر ارادی طور پر ایک سیاسی جماعت کی مہر شامل ہو گئی تھی اور بعد میں اس کی اصلاح کر دی گئی۔
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس خط کی مسلسل تشہیر دراصل جھوٹے الزامات کو فروغ دینے کی ایک کوشش ہے۔ اسی نوعیت کا نوٹس ایک اپوزیشن رہنما کو بھی جاری کیا گیا، جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ معاملہ اب صرف ایک دفتری غلطی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے قانونی اور سیاسی رنگ بھی اختیار کر لیا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس نوعیت کے نوٹسز مسئلے کے حل میں معاون ثابت ہوں گے یا اس سے اظہارِ رائے کی آزادی اور جمہوری مباحث پر مزید قدغنیں لگنے کا خدشہ پیدا ہوگا؟ جمہوریت میں اختلافِ رائے اور سوال اٹھانے کا حق بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی واقعے پر سوال اٹھانا ہی قابلِ گرفت بن جائے تو یہ ایک خطرناک رجحان کی علامت ہو سکتی ہے۔
اصل مسئلہ یہاں ایک خط یا ایک افسر کی معطلی کا نہیں بلکہ پورے ادارہ جاتی نظام کا ہے۔ کسی بھی ادارے کی ساکھ اس کے داخلی نظم و ضبط، پیشہ ورانہ معیار اور شفافیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر ایک بنیادی نوعیت کی غلطی بھی اس قدر سنگین نتائج پیدا کر دے کہ اس سے ادارے کی غیر جانبداری پر سوال اٹھنے لگیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اندرونی نظام میں کہیں نہ کہیں گہرے نقائص موجود ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں الیکشن کمیشن کے حوالے سے مختلف نوعیت کے سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ کبھی انتخابی شیڈول کے اعلان کے وقت پر اعتراضات سامنے آئے، کبھی ضابطۂ اخلاق کے نفاذ میں مبینہ عدم توازن کی بات کی گئی، اور کبھی شکایات کے ازالے میں غیر مساوی رویے کا الزام لگایا گیا۔ ان تمام معاملات نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں کمیشن کی غیر جانبداری پر شکوک بڑھتے جا رہے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ تنازعہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس نے پہلے سے موجود خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ جمہوریت میں اداروں کی ساکھ ایک دن میں قائم نہیں ہوتی بلکہ یہ برسوں کی محنت، دیانتداری اور شفافیت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اسی طرح اس ساکھ کو نقصان بھی بتدریج ہی پہنچتا ہے، جب بار بار ایسے واقعات پیش آئیں جو عوام کے اعتماد کو کمزور کریں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاست میں الزام تراشی ایک عام روایت ہے، اور ہر جماعت اپنے مفادات کے مطابق بیانیہ ترتیب دیتی ہے۔ لیکن آئینی اداروں کی ذمہ داری اس سے کہیں زیادہ ہے۔ انہیں نہ صرف غیر جانبدار ہونا چاہیے بلکہ ان کا ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر رویہ اس غیر جانبداری کا عملی ثبوت بھی ہونا چاہیے۔ موجودہ معاملے میں یہی پہلو سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک نچلے درجے کے افسر کی معطلی یقیناً ایک فوری قدم ہے، لیکن یہ مسئلے کا مستقل حل نہیں ہو سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور اس کے نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ بھی ضروری ہے کہ اس واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے ادارہ اپنے داخلی نظام کو مزید مضبوط بنائے۔
دستاویزات کی تیاری اور ترسیل کے عمل میں شفافیت، نگرانی اور احتساب کے مؤثر نظام کا ہونا ناگزیر ہے۔ اگر ایک حساس نوعیت کا خط بغیر کسی جانچ پڑتال کے مختلف فریقوں تک پہنچ سکتا ہے تو یہ ایک سنگین انتظامی خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ نہ صرف اس خامی کو دور کیا جائے بلکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
میڈیا کا کردار بھی اس پورے معاملے میں نہایت اہم ہے۔ اگر میڈیا محض سیاسی بیانات کو دہرانے کے بجائے اس طرح کے معاملات کی گہرائی میں جا کر تحقیق کرے، حقائق کو سامنے لائے اور غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرے تو نہ صرف عوام کو درست معلومات ملتی ہیں بلکہ اداروں پر بھی دباؤ بنتا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنائیں۔
سوشل میڈیا کے دور میں صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اب کوئی بھی خبر یا تصویر چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، اور اکثر وضاحتیں آنے سے پہلے ہی عوامی رائے تشکیل پا جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اداروں کے لیے اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ہر سطح پر احتیاط، شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو یقینی بنائیں۔
موجودہ تنازعہ نے ایک بار پھر یہ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ جمہوری اداروں کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے محض آئینی تحفظ کافی نہیں۔ اس کے لیے مسلسل نگرانی، مضبوط داخلی نظام، شفاف طریقۂ کار اور سب سے بڑھ کر عوامی اعتماد کا تحفظ ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ اس واقعے کو محض ایک وقتی بحران کے طور پر نہ لے بلکہ اسے ایک سنجیدہ انتباہ سمجھے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ کمیشن اپنے اندرونی نظام کا جامع جائزہ لے، دستاویزات کی ترسیل کے طریقۂ کار کو جدید تقاضوں کے مطابق بنائے، ذمہ داریوں کا واضح تعین کرے اور ہر سطح پر احتساب کا مؤثر نظام قائم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عوام کے سامنے تحقیقات کے نتائج پیش کر کے اعتماد کی بحالی کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جمہوریت کی اصل طاقت عوام کا اعتماد ہے، اور یہ اعتماد ایک بار مجروح ہو جائے تو اسے بحال کرنا ایک طویل اور مشکل عمل بن جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن جیسے اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس اعتماد کی حفاظت کریں، اسے مضبوط بنائیں اور ہر ایسے اقدام سے گریز کریں جو شکوک و شبہات کو جنم دے۔
اگر واقعی یہ محض ایک دفتری غلطی تھی تو اسے ایک سبق کے طور پر لینا ہوگا، نہ کہ ایک معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرنا ہوگا۔ اور اگر اس کے پیچھے کوئی گہری ادارہ جاتی کمزوری موجود ہے تو اسے تسلیم کر کے دور کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ کیونکہ جمہوریت میں سب سے بڑا خطرہ کسی ایک غلطی سے نہیں بلکہ اس غلطی کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے