कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سماجی اداروں اور تحریکوں کے زوال کی اندرونی کہانی

تحریر:خمیسہ محمد جنیدابن خمیسہ غلام محمد پربھنی

سماجی ادارے، تنظیمیں اور تحریکیں محض نام یا ڈھانچے نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امیدوں کا مرکز ہوتی ہیں۔ لوگ ان کے ساتھ اپنے خواب جوڑتے ہیں، اپنی محنت لگاتے ہیں اور دل سے یہ چاہتے ہیں کہ یہ پلیٹ فارم معاشرے میں بہتری اور انصاف کا ذریعہ بنے۔ مگر ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ اکثر انہی اداروں کے اندر ایسے عوامل جنم لیتے ہیں جو آہستہ آہستہ ان کی بنیادوں کو کمزور کر دیتے ہیں۔ یہ زوال باہر سے مسلط نہیں ہوتا، بلکہ خاموشی کے ساتھ اندر سے پروان چڑھتا ہے، یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب سب کچھ بکھرا ہوا محسوس ہونے لگتا ہے۔
اس بگاڑ کی جڑ عموماً وہ افراد ہوتے ہیں جو بظاہر ادارے یا تحریک کا حصہ ہوتے ہیں مگر ان کا کردار تعمیر کے بجائے تخریب کا ہوتا ہے۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ براہِ راست مخالفت نہیں کرتے بلکہ پردے کے پیچھے رہ کر فضا کو متاثر کرتے ہیں۔ وہ بات کو موڑنے کا ہنر رکھتے ہیں، چھوٹے مسائل کو بڑا بنا کر پیش کرتے ہیں، اور بڑے مسائل کو نظر انداز کروا دیتے ہیں۔ ان کے انداز میں ایک خاص قسم کی چالاکی ہوتی ہے وہ کبھی خود کو مظلوم بنا لیتے ہیں، کبھی خیرخواہ کے روپ میں آ جاتے ہیں، اور کبھی اختلاف کو اصولی رنگ دے کر دراصل اپنے مفاد کو آگے بڑھاتے ہیں۔
ایسے افراد کی ایک اور پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ اتحاد کے بجائے گروہ بندی کو فروغ دیتے ہیں۔ وہ لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں، باتوں کو ادھورا منتقل کرتے ہیں اور دلوں میں شکوک پیدا کرتے ہیں۔ بظاہر وہ ادارے کی فکر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اقدامات سے انتشار بڑھتا ہے، اعتماد کم ہوتا ہے اور ماحول میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ ان کی موجودگی ایک خاموش زہر کی طرح ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ پورے نظام کو متاثر کر دیتا ہے۔
جب ایسے عناصر کو بروقت نہ پہچانا جائے یا ان کے اثرات کو نظر انداز کیا جائے تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہوتے ہیں۔ سماجی ادارے اپنی اصل سمت کھو دیتے ہیں، فیصلے ذاتی پسند و ناپسند کا شکار ہو جاتے ہیں، اور توانائیاں اصل مقصد کے بجائے آپسی تنازعات میں صرف ہونے لگتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارہ بظاہر چلتا ہوا نظر آتا ہے مگر حقیقت میں وہ ایک دائرے میں گھوم رہا ہوتا ہے—نہ ترقی ہوتی ہے، نہ استحکام آتا ہے، اور نہ ہی وہ اثر باقی رہتا ہے جس کے لیے وہ قائم کیا گیا تھا۔
ایسے حالات میں قیادت کا کردار انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔ قیادت سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ صرف رہنمائی ہی نہ کرے بلکہ ادارے کے ماحول کی حفاظت بھی کرے۔ مگر اگر قیادت کسی وجہ سے ان عناصر کی نشاندہی کرنے، ان کے اثر کو محدود کرنے یا ان کے خلاف بروقت فیصلہ لینے میں کمزور پڑ جائے تو یہ کمزوری پورے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ یہ کمزوری کبھی حالات کی وجہ سے ہوتی ہے، کبھی معلومات کی کمی کی وجہ سے اور کبھی غیر ضروری مصلحتوں کی وجہ سے، مگر اس کا اثر ہمیشہ گہرا اور دور رس ہوتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے، اور وہ ہے دیگر اراکین اور کارکنان کی ذمہ داری۔ کسی بھی سماجی ادارے یا تحریک کی کامیابی صرف قیادت پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ اس کے ہر فرد کا کردار اہم ہوتا ہے۔ اگر کہیں بگاڑ پیدا ہو رہا ہو، اگر کچھ عناصر ماحول کو خراب کر رہے ہوں، تو باقی افراد کی یہ اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خاموش نہ رہیں بلکہ مثبت اور حکمت کے ساتھ اس کی نشاندہی کریں۔ قیادت کو مضبوط بنانا، اس کے سامنے حقیقت رکھنا اور اس کے ساتھ کھڑے ہونا ہی اصل وفاداری ہے۔
سماجی ادارے اعتماد، اخلاص اور نظم و ضبط پر کھڑے ہوتے ہیں۔ جب ان بنیادوں کو اندر سے کمزور کیا جاتا ہے تو کوئی بھی بیرونی طاقت انہیں زیادہ دیر تک سنبھال نہیں سکتی۔ اس لیے اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ بروقت پہچان، جرأت مندانہ فیصلے اور اجتماعی شعور کے ذریعے اس بگاڑ کو روکا جائے۔ ورنہ یہ خاموش فتنہ آہستہ آہستہ ہر اس چیز کو ختم کر دیتا ہے جس کے لیے یہ ادارے قائم کیے گئے تھے۔
آخر میں یہ احساس دل کو جھنجھوڑتا ہے کہ اگر ہم نے ایسے عناصر کو نہ روکا، اگر ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو نہ سمجھا، اور اگر ہم نے سچ کے ساتھ کھڑے ہونے کی ہمت نہ کی، تو ہمارے سماجی ادارے، تنظیمیں اور تحریکیں صرف نام کی حد تک رہ جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچ کو پہچاننے کی بصیرت، حق پر قائم رہنے کی ہمت، اور اپنے اداروں کو ہر قسم کے اندرونی فتنوں سے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے