कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اکیسویں صدی میں اُردو صحافت کی ترقی اور چیلنجز

تحریر:منجیت سنگھ
کروکشیترا یونیورسٹی کروکشیترا
9671504409

سَن 2000 سے لے کر موجودہ دور تک اُردو صحافت کی تاریخ تبدیلی، جدوجہد اور نئے مواقع کی داستان ہے۔ اُردو زبان برصغیر کی ایک اہم تہذیبی اور ادبی زبان رہی ہے اور اسی وجہ سے اُردو اخبارات نے ہمیشہ معاشرے میں بیداری پیدا کرنے، عوام تک معلومات پہنچانے اور ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بیسویں صدی کے آخر تک اُردو صحافت بنیادی طور پر طباعتی یعنی پرنٹ میڈیا تک محدود تھی، لیکن اکیسویں صدی کے آغاز کے ساتھ ہی میڈیا کی دنیا میں تیز رفتار تبدیلیاں آئیں جنہوں نے اُردو صحافت کو بھی متاثر کیا۔
سن 2000 کے آس پاس بھارت میں کئی اہم اُردو اخبارات شائع ہو رہے تھے جو مختلف شہروں سے نکلتے تھے اور پورے ملک میں پڑھے جاتے تھے۔ ان اخبارات میں خاص طور پر Roznama Rashtriya Sahara، Inquilab، Siasat Daily، Daily Salar اور Munsif Daily جیسے اہم نام شامل تھے۔ یہ اخبارات نہ صرف قومی بلکہ بین الاقوامی خبروں کو بھی اُردو زبان میں پیش کرتے تھے۔ ان میں سیاست، معیشت، تعلیم، سماج، مذہب، کھیل اور ادب جیسے مختلف موضوعات شامل ہوتے تھے۔
اُردو صحافت کی ایک خاص بات یہ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ ادب اور ثقافت کو اہم مقام دیا ہے۔ بہت سے اُردو اخبارات میں باقاعدہ ادبی صفحات شائع ہوتے تھے جن میں شاعری، غزلیں، افسانے اور ادبی مضامین شامل ہوتے تھے۔ اس طرح اُردو اخبارات نے نہ صرف خبریں فراہم کیں بلکہ اُردو زبان و ادب کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
سن 2000 کے بعد دنیا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے میڈیا کے شعبے کو یکسر بدل دیا۔ انٹرنیٹ کے پھیلاؤ، کمپیوٹر کے عام استعمال اور موبائل فون کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے خبر رسانی کے طریقوں کو بدل دیا۔ پہلے لوگ صبح کے وقت اخبار خرید کر خبریں پڑھتے تھے، لیکن اب خبریں انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے فوراً دستیاب ہونے لگیں۔ اس تبدیلی نے اُردو صحافت کو بھی متاثر کیا اور اُردو اخبارات نے آہستہ آہستہ آن لائن ایڈیشن شروع کرنا شروع کر دیے۔
مثال کے طور پر Siasat Daily اور Inquilab نے اپنی ویب سائٹس شروع کیں جہاں روزانہ کی خبریں شائع ہونے لگیں۔ اس سے بیرونِ ملک رہنے والے اُردو قارئین بھی اپنے ملک اور معاشرے کی خبروں سے باخبر رہنے لگے۔ اس طرح اُردو صحافت کا دائرہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں رہا بلکہ عالمی سطح تک پھیل گیا۔
تاہم اس دور میں اُردو صحافت کو کئی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سب سے بڑی مشکل قارئین کی تعداد میں کمی تھی۔ نئی نسل میں انگریزی اور ہندی میڈیا کی طرف زیادہ رجحان پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے اُردو اخبارات کے قارئین میں کمی آنے لگی۔ اس کے علاوہ اشتہارات کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ تھا کیونکہ اخبارات کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ اشتہارات ہوتے ہیں۔ جب اشتہارات کم ہوئے تو بہت سے چھوٹے اُردو اخبارات مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔
اس کے باوجود کئی بڑے اُردو اخبارات نے اپنی صحافتی روایت کو برقرار رکھا اور جدید تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر Roznama Rashtriya Sahara نے مختلف شہروں سے اپنے ایڈیشن شائع کیے اور قارئین کو قومی اور عالمی خبروں سے باخبر رکھا۔ اسی طرح Munsif Daily اور Daily Salar نے بھی جنوبی ہند میں اُردو صحافت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
سن 2010 کے بعد سوشل میڈیا کا دور شروع ہوا۔ فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارم عام ہونے لگے اور میڈیا اداروں نے بھی ان کا استعمال شروع کر دیا۔ اُردو اخبارات نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے خبروں کو زیادہ تیزی سے قارئین تک پہنچانا شروع کیا۔ اس سے ایک طرف تو خبروں کی رسائی میں اضافہ ہوا اور دوسری طرف نوجوان نسل بھی اُردو صحافت سے جڑنے لگی۔
اس عرصے میں اُردو صحافت میں ایک اور اہم تبدیلی یہ آئی کہ بہت سے اخبارات نے ملٹی میڈیا صحافت کو اپنایا۔ اب صرف تحریری خبریں ہی نہیں بلکہ ویڈیو رپورٹس، تصویری گیلریاں اور آن لائن پروگرام بھی پیش کیے جانے لگے۔ اس سے قارئین کو خبروں کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع ملا اور میڈیا کی پیشکش زیادہ مؤثر ہو گئی۔
2014 کے بعد بھارت کے سیاسی اور سماجی ماحول میں کئی تبدیلیاں آئیں۔ ان تبدیلیوں کے دوران اُردو اخبارات نے اہم کردار ادا کیا اور اپنے قارئین کو حالات سے آگاہ رکھا۔ Inquilab اور Roznama Rashtriya Sahara جیسے اخبارات نے مختلف قومی مسائل، سرکاری پالیسیوں اور سماجی موضوعات پر تفصیلی تجزیے شائع کیے۔
اُردو صحافت ہمیشہ سے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کا ذریعہ رہی ہے۔ تعلیم، صحت، خواتین کے حقوق، نوجوانوں کے مسائل اور اقلیتوں کے مسائل جیسے موضوعات پر اُردو اخبارات میں مضامین اور اداریے شائع ہوتے رہے ہیں۔ اس طرح اُردو صحافت نے نہ صرف خبروں کی فراہمی بلکہ سماجی شعور کو بیدار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
2020 میں جب کورونا وائرس کی عالمی وبا پھیلی تو پوری دنیا کے میڈیا کو ایک نئی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران اُردو اخبارات نے بھی عوام تک درست معلومات پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ Siasat Daily اور Munsif Daily جیسے اخبارات نے صحت سے متعلق معلومات، حکومتی ہدایات اور احتیاطی تدابیر کو مسلسل شائع کیا تاکہ عوام میں بیداری پیدا ہو سکے۔
موجودہ دور میں اُردو صحافت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آج اُردو اخبارات نہ صرف پرنٹ شکل میں شائع ہو رہے ہیں بلکہ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بھی وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں۔ بہت سے اخبارات نے موبائل ایپلیکیشنز اور آن لائن پلیٹ فارم شروع کیے ہیں جہاں قارئین کسی بھی وقت اور کہیں بھی خبریں پڑھ سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ اُردو صحافت نے نئی نسل کے صحافیوں کو بھی مواقع فراہم کیے ہیں۔ مختلف جامعات اور میڈیا اداروں میں اُردو صحافت کی تعلیم دی جا رہی ہے جس کی وجہ سے تربیت یافتہ صحافی اس میدان میں آ رہے ہیں۔ یہ نوجوان صحافی جدید ٹیکنالوجی اور نئے اندازِ صحافت کے ساتھ اُردو میڈیا کو آگے بڑھانے میں مدد کر رہے ہیں۔
آج کے دور میں اگرچہ اُردو صحافت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سے مواقع بھی موجود ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے اُردو صحافت کو عالمی سطح پر پہنچنے کا موقع ملا ہے۔ بیرونِ ملک رہنے والے لاکھوں اُردو قارئین اب آن لائن اخبارات کے ذریعے اپنے ملک اور زبان سے جڑے ہوئے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے دیکھا جائے تو اُردو صحافت کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنائے اور معیاری صحافت کو برقرار رکھے۔ اگر اُردو اخبارات جدید ذرائع ابلاغ کا مؤثر استعمال کریں اور نوجوان نسل کو اپنی طرف متوجہ کریں تو اُردو صحافت کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ سن 2000 سے لے کر آج تک اُردو اخبارات کی تاریخ ترقی اور جدوجہد کی داستان ہے۔ مختلف مشکلات اور چیلنجز کے باوجود اُردو صحافت نے اپنی شناخت کو برقرار رکھا ہے اور معاشرے میں اپنی اہمیت ثابت کی ہے۔ آج بھی Roznama Rashtriya Sahara، Inquilab، Siasat Daily، Daily Salar اور Munsif Daily جیسے اخبارات اُردو زبان، ثقافت اور صحافت کی روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اُردو صحافت نہ صرف معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ ہے بلکہ یہ زبان، تہذیب اور ثقافت کے تحفظ کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔ آنے والے وقت میں اگر اُردو میڈیا جدید تقاضوں کے مطابق ترقی کرتا رہا تو یہ نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا میں اُردو زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے