कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اردو طرزِ تعلیم کی گرتی ساکھ: ایک فکری و سماجی جائزہ

ازقلم : محمود علی لیکچرر

اردو زبان ہماری مذہبی اور تہذیبی شناخت، ادبی روایت اور علمی ورثے کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ زبان صدیوں تک علم و ادب صحافت اور تدریس کا مؤثر ذریعہ رہی مگر موجودہ دور میں اردو زبان اپنی وسعت لچک اور ادبی حسن کے باعث ہر دور میں نئے موضوعات کو سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ مگر جب بات سائنسی اصطلاحات کی آتی ہے تو ایک عرصے سے یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اردو اس میدان میں پیچھے رہ گئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو میں سائنسی اصطلاحات موجود بھی ہیں اور بنائی بھی جا سکتی ہیں، مگر ان کے استعمال اور فروغ میں کمی ہے۔اردو طرزِ تعلیم خصوصاً کالج اور اعلیٰ تعلیمی سطح پر زوال کا شکار ہے۔ یہ زوال صرف تعلیمی نظام تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات ہماری سماجی نفسیات اور اجتماعی رویّوں پر بھی واضح طور پر نظر آتا ہے
آج کے دور میں انگریزی زبان کو غیر معمولی برتری اور اہمت حاصل ہو چکی ہے۔ اقتصادی لحاظ سے مستحکم لوگ اپنے بچوں کو اچھے انگریزی اسکول میں تعلیم کے حصول کو لازمی قرار دیتے ہیں اور 90 فی صد اردو میڈیم میں پڑھانے والی اساتذہ اپنے بچوں کو انگریزی طرز تعلیم کے لیے ہی فکر مند رہتے ہیں کیونکہ وہ اچھی طریقے سے اردو میڈیم کے اسکولوں اور اور وہاں کے ادراروں کے سر پرستوں سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں انجینئرنگ اور میڈیکل اور نفارمیشن ٹکنالوجی جیسے اہم شعبوں کے مسابقتی امتحانات انگریزی میں منعقد ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے طلبہ کی اکثریت انگریزی میڈیم کا انتخاب کرتی ہے۔ نتیجتاً اردو میڈیم کو کم تر سمجھا جانے لگا ہے اور زیادہ تر غریب طبقہ ہی اس کا رخ کرتے ہیں جو ایک سماجی تفریق کو بھی جنم دیتا ہے۔
بی اے سطح پر اردو کے طلبہ کی تعداد میں مسلسل کمی ایک سنگین صورت حال بن چکی ہے۔ کلاسوں میں نشستیں خالی رہتی ہیں، جس کے باعث بعض اساتذہ کو خود طلبہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی پڑتی ہے۔ جونیر کالج کے نتائج آنے کے بعد اساتذہ طلبہ کو اپنے کالج میں داخلہ لینے کے لیے آمادہ کرتے اور اصرار کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اردو تعلیم کی گرتی ہوئی اہمیت اور طلب کی عکاسی کرتی ہے، جو یقیناً لمحۂ فکریہ ہے۔
اعلیٰ تعلیم میں بھی اردو کے طلبہ کو خاطر خواہ مواقع میسر نہیں۔ بی اے کے بعد ایم اے اور پی ایچ ڈی کرنے والے افراد کو بھی مناسب ملازمت نہیں ملتی۔ پروفیسر بننے کے مواقع محدود ہیں اور بعض اوقات سفارش یا مالی وسائل (ڈونیشن) کے بغیر یہ عہدہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے طلبہ میں اردو تعلیم کے حوالے سے مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اردو کے بعض اساتذہ جدید علوم، خصوصاً سائنس اور ٹیکنالوجی پر توجہ نہیں دیتے۔ اس کے نتیجے میں طلبہ صرف روایتی مضامین تک محدود رہ جاتے ہیں اور عملی زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔ مزید یہ کہ جب بھی اردو سے متعلق کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں تو اکثر ان میں علمی و تحقیقی گفتگو کے بجائے رسمی تعارف اور آپسی تعریف پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پلیٹ فارمز کو طلبہ کی رہنمائی، مسابقتی امتحانات (جیسے UPSC، MPSC) کی تیاری، اور جدید تعلیم کے تقاضوں سے آگاہی کے لیے استعمال کیا جائے۔
ادبی سرگرمیوں خصوصاً مشاعروں کی صورتِ حال بھی قابلِ غور ہے۔ بعض مشاعرے سنجیدہ ادبی محفل کے بجائے محض تفریح یا تماشہ بن جاتے ہیں۔ بعض مواقع پر خاتون شعرا کو نمائشی انداز میں پیش کیا جاتا ہے، اور محفل میں نظم و ضبط کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ سامعین کی جانب سے غیر سنجیدہ رویّے جیسے شور و غل نامناسب جملے یا بے ادبی نہ صرف ادب کی توہین ہیں بلکہ پوری قوم اور ملت کے وقار کو بھی مجروح کرتے ہیں۔ ایک حال کچھ سال پہلے کا واقعیہ مجھے یاد ہے ہمارے یہاں شہر کے کسی حال میں ادبی محفل اختتام پذیر ہو رہی تھی شہر کی ایک قابل خاتون پروفیسر اپنا تخلیقی مقالہ پڑھ کر جب وہ کرسی پر براجمان ہوگئی لوگوں نے سمجھا شاید شاعرہ ہیں اس وادی پُررونق کے آس پاس لوگ اور جو برسرِ روزگار اور برسر بے روزگار محنت کش لوگ تہاری کھانے کے لیے ہر وقت موجود رہتے ہیں وہ سب کے سب تمام لوگ مجتمع ہو گئے اس طرح کی محافل معاشرہ کے بجائے اس کے بگاڑ کا سبب بن رہی ہیں
سماجی نفسیات کے اعتبار سے دیکھا جائے تو جب کسی زبان یا تعلیمی شعبے کو معاشرے میں کم اہمیت دی جاتی ہے تو لوگ خود بھی اس سے دوری اختیار کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے فروغ کے دعوے کرنے والے افراد بھی اپنے بچوں کو انگریزی میڈیم میں تعلیم دلواتے ہیں جس سے ایک واضح تضاد پیدا ہوتا ہے اور اردو کی ساکھ مزید متاثر ہوتی ہے۔
ان تمام مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ اردو طرزِ تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ سائنسی اور تکنیکی مضامین کو اردو میں فروغ دیا جائے، اور طلبہ کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے مناسب رہنمائی فراہم کی جائے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنی تدریس میں جدت پیدا کریں اور طلبہ کو عملی زندگی کے لیے تیار کریں۔ابھی حال ہی میں ایک قابل رٹائیرڈ پروفیسر سے ملاقات ہوئی وہ اج بھی لوگوں کو مسابقتی امتحانات اور نادر اور غریب طلبا کی رہنمائی میں مصروف رہتے ہیں حکومت اور تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ اردو میڈیم کے طلبہ کے لیے مواقع، وظائف اور روزگار کے بہتر امکانات پیدا کریں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری تہذیب، شناخت اور اجتماعی شعور کی نمائندہ ہے۔ اگر ہم نے اس کے تعلیمی اور ادبی نظام کو سنجیدگی سے نہ سنبھالا تو ہم اپنی ایک قیمتی وراثت کھو بیٹھیں گے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم شعور سنجیدگی اور عملی اقدامات کے ذریعے اردو طرزِ تعلیم کو دوبارہ مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
اردو زبان ہماری تہذیب، شناخت اور علمی ورثے کی امین ہے۔ موجودہ دور میں اس کی بقا اور ترقی کے لیے *سنجیدہ اور عملی اقدامات* کی ضرورت ہے، تاکہ یہ زبان جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔
تعلیمی نظام میں فروغ:
اردو کو اسکولوں اور کالجوں میں بطورِ ذریعۂ تعلیم مضبوط بنایا جائے۔ خاص طور پر سائنسی اور تکنیکی مضامین کو اردو میں پڑھانے کا انتظام کیا جائے تاکہ طلبہ اپنی مادری زبان میں بہتر انداز میں سیکھ سکیں۔
سائنسی و تکنیکی اصطلاحات کی ترویج:
اردو میں جدید سائنسی اصطلاحات تیار کر کے انہیں نصاب اور عام استعمال میں لایا جائے۔ سادہ اور قابلِ فہم انداز میں کتب اور مواد تیار کیا جائے تاکہ طلبہ آسانی سے سمجھ سکیں۔
اساتذہ کی تربیت:
اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں اور نئی معلومات سے آراستہ کیا جائے، تاکہ وہ اردو میں بھی جدید علوم کو مؤثر طریقے سے پڑھا سکیں۔
مسابقتی امتحانات کی تیاری:
طلبہ کو UPSC، MPSC اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے لیے اردو میں رہنمائی فراہم کی جائے۔ اس کے لیے کوچنگ، کتابیں اور آن لائن وسائل مہیا کیے جائیں
ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا استعمال:
اردو کو انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور موبائل ایپس کے ذریعے فروغ دیا جائے اردو میں بلاگز، ویڈیوز اور آن لائن کورسز تیار کیے جائیں تاکہ نئی نسل اس سے جڑی رہے۔
ادبی و ثقافتی سرگرمیاں:
مشاعروں، سیمینارز اور کانفرنسوں کو سنجیدہ اور بامقصد بنایا جائے۔ ان میں محض رسمی تقاریر کے بجائے تعلیمی، سائنسی اور سماجی موضوعات پر گفتگو کی جائے۔
سرکاری سرپرستی:
حکومت کو چاہیے کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے پالیسیاں بنائے، وظائف دے اور ملازمتوں میں اردو داں افراد کے لیے مواقع پیدا کرے۔
سماجی شعور کی بیداری:
لوگوں میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ ہماری پہچان ہے۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ خود بھی اردو کو اہمیت دیں اور نئی نسل کو اس کی طرف راغب کریں۔
آخری بات :
اردو کی ترقی و ترویج صرف بلند بانگ نعروں سے ممکن نہیں بلکہ عملی اقدامات سنجیدہ کوششوں اور اجتماعی شعور سے ہی ممکن ہے۔ لیکن بڑے افسوسں کی بات ہے ہمارے یہاں اجتمائی شعور ممکن نہیں اگر ہم نے بروقت اس زبان کی طرف توجہ نہ دی تو ہم اپنی تہذیبی شناخت سے محروم ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اردو کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے
مزید برآں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ زبان کسی بھی قوم کی فکری آزادی اور تخلیقی صلاحیتوں کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ جب ایک قوم اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی فہم، تجزیہ اور اظہار کی قوت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، غیر مادری زبان میں تعلیم اکثر طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو محدود کر دیتی ہے اور وہ محض رٹنے کے عمل تک محدود ہو جاتے ہیں۔
اردو زبان کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ اسے دانستہ یا نادانستہ طور پر صرف ادبی زبان بنا کر پیش کیا گیا، حالانکہ یہ زبان فلسفہ، تاریخ، سائنس اور دیگر علوم کو بیان کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اردو کو محض شاعری ۵اور نثر تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے عملی اور سائنسی میدانوں میں بھی بروئے کار لائیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نجی تعلیمی ادارے (Private Institutions) انگریزی کو بطورِ کاروبار استعمال کر رہے ہیں۔ والدین اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ صرف انگریزی ہی کامیابی کی ضمانت ہے، جبکہ دنیا کی کئی ترقی یافتہ اقوام جیسے جاپان چین اور جرمنی اپنی مادری زبان میں تعلیم دے کر ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
اردو اساتذہ کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ اگر اساتذہ خود جدید رجحانات تحقیق اور ڈیجیٹل ذرائع سے جڑے رہیں تو وہ طلبہ کو بھی ایک نئی سمت دے سکتے ہیں۔ آن لائن تعلیم، یوٹیوب لیکچرز، اور ڈیجیٹل لائبریریز کے ذریعے اردو میں معیاری مواد کی فراہمی آج کے دور کی اہم ضرورت ہے۔
مزید یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ اردو زبان کے فروغ کے لیے مستقل اور مؤثر پالیسیاں مرتب کرے۔ اردو اکیڈمیوں کو فعال بنایا جائے، تحقیقی منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں اور اردو داں طلبہ کے لیے سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ یا ترجیح دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ نصاب میں بھی ایسی اصلاحات کی جائیں جو اردو کو ایک زندہ اور متحرک زبان کے طور پر پیش کریں۔
سماجی سطح پر ہمیں اپنے رویّوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔ ہمیں یہ احساس کرنا ہوگا کہ زبان کی قدر و قیمت اس کے بولنے والوں کے رویّے سے طے ہوتی ہے۔ اگر ہم خود اردو کو کمتر سمجھیں گے تو دنیا بھی اسے وہ مقام نہیں دے گی جس کی یہ مستحق ہے۔
آخرکار، اردو زبان کا مسئلہ محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہماری تہذیبی بقا، فکری آزادی اور سماجی خودمختاری کا مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے بروقت اس کی اہمیت کو نہ سمجھا اور عملی اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
لہٰذا، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم محض جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر عملی میدان میں قدم رکھیں، اپنی تعلیمی پالیسیوں کو ازسرِ نو ترتیب ریا جائے اور اردو زبان کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے سنجیدہ اور مستقل جدوجہد کریں۔
موجودہ حالات کے پیشِ نظر ایک عملی اور متوازن تعلیمی ماڈل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں یہ تجویز نہایت قابلِ غور ہے کہ طلبہ کو جماعت بارہویں تک اردو میڈیم میں تعلیم دی جائے، تاہم اسے سیمی میڈیم (Semi-Medium) کی شکل دی جائے، یعنی بنیادی مضامین اردو میں ہوں جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق مضامین انگریزی میں پڑھائے جائیں۔ اس طریقے سے طلبہ اپنی مادری زبان میں مضبوط بنیاد بھی حاصل کریں گے اور ساتھ ہی جدید سائنسی اصطلاحات اور عالمی علمی زبان سے بھی جڑے رہیں گے۔
مزید برآں بارہویں کے بعد طلبہ کو روایتی طور پر صرف سینئر کالجوں میں وقت ضائع کرنے کے بجائے ہنر اور تکنیکی تعلیم کی طرف راغب کیا جانا چاہیے۔ بی اے اور ایم اے جیسی ڈگریوں کو محض رسمی یا علمی تکمیل کے طور پر رکھا جائے جبکہ اصل توجہ ٹیکنیکل کورسز، اسکل ڈیولپمنٹ اور پیشہ ورانہ تربیت پر دی جائے۔ اس سے طلبہ نہ صرف خود کفیل بن سکیں گے بلکہ ملک کی معیشت میں بھی مثبت کردار ادا کریں گے۔
یہ ماڈل نہ صرف اردو زبان کو تعلیمی سطح پر زندہ رکھے گا بلکہ طلبہ کو عملی زندگی کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ کرے گا۔ اس طرح ہم ایک ایسے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو زبان، علم اور روزگار تینوں کے درمیان توازن قائم کرے
اخر میں اختتامیہ کے طور پر موجودہ تعلیمی بحران کے تناظر میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ ریگولر تعلیم کو ایک مخصوص حد تک مؤثر رکھا جائے اور اس کے بعد طلبہ کو عملی میدان کی طرف موڑا جائے۔ اس سلسلے میں ایک متوازن ماڈل یہ ہو سکتا ہے کہ:
طلبہ کو جماعت بارہویں (12th) تک ریگولر تعلیم دی جائے، اور یہ تعلیم اردو سیمی میڈیم ہو یعنی بنیادی مضامین اردو میں جبکہ سائنسی اور تکنیکی مضامین انگریزی میں پڑھائے جائیں۔ اس سے طلبہ کی فکری بنیاد بھی مضبوط ہوگی اور وہ جدید علوم سے بھی کٹے نہیں رہیں گے۔
تاہم، بارہویں کے بعد روایتی انداز میں ریگولر سینئر کالج جانے کا سلسلہ محدود کیا جائے۔ اس کے بجائے طلبہ کو درج ذیل راستوں کی طرف رہنمائی دی جائے:
ٹیکنیکل کورسز (ITI، پولی ٹیکنک، اسکل ڈیولپمنٹ)
پیشہ ورانہ تربیت (Vocational Training)
روزگار سے جڑی عملی مہارتیں
البتہ جو طلبہ علمی میدان میں آگے بڑھنا چاہتے ہوں، وہ بی اے اور ایم اے ریگولر یا اوپن موڈ میں جاری رکھ سکتے ہیں، مگر اسے لازمی راستہ نہ بنایا جائے بلکہ ایک اختیاری علمی سفر کے طور پر رکھا جائے۔
ختم شد

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے