कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسانیت کی پکار جب صلح کروانا بھی جرم بن جائے

تحریر:محمد عادل ارریاوی
8235703061

گزشتہ روز 22 مارچ بروز اتوار ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سننے میں آیا جس نے دل کو بے حد مضطرب اور جسم کو لرزا دیا یہ واقعہ دوپہر تقریباً ڈھائی بجے پیش آیا جب دو کم عمر بچیاں آپس میں کسی بات پر جھگڑ رہی تھیں موقع پر موجود لوگوں نے انسانی ہمدردی کے تحت انہیں الگ کرنے کی کوشش کی جن میں ایک ماں اور اس کی بیٹی بھی شامل تھیں ان دونوں نے مداخلت کر کے بچیوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کو ختم کروایا اور بظاہر معاملہ وہیں ختم ہو گیا تاہم کچھ ہی دیر بعد صورتِ حال نے اچانک ایک خطرناک رخ اختیار کر لیا ایک لڑکی جس کا نام نیحا بتایا گیا اس کے والدین مامو چچا اور بھائیوں نے اچانک اس ماں اور بیٹی پر حملہ کر دیا اس حملے میں مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے جس کے نتیجے میں ماں کے ہاتھ پر شدید زخم آئے اور اسے چار ٹانکے لگوانے پڑے جب اس خاتون کے بیٹے نے یہ منظر دیکھا اور محض یہ پوچھا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے تو حملہ آور افراد نے اس پر بھی بے رحمی سے حملہ کر دیا اس دوران لاٹھیوں اور تیز دھار ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس کے باعث اس نوجوان کے سر پر گہری چوٹ آئی اور اسے سات ٹانکے لگوانے پڑے بعد ازاں یہ معاملہ قریبی تھانے تک پہنچا جہاں پولیس نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے
یہ واقعہ سن کر دل انتہائی رنجیدہ اور خوفزدہ ہو گیا کیونکہ یہ سب کچھ میرے اپنے ہی پڑوس میں پیش آیا یہ سوال ذہن میں بار بار آتا ہے کہ آخر اس طرح کے پرتشدد واقعات کی اصل وجہ کیا ہے؟ بلاشبہ اس کی ایک بڑی وجہ جہالت اور عدم برداشت ہے جہاں لوگوں کو نہ دین کی صحیح سمجھ ہے اور نہ ہی معاشرتی اقدار کا خیال یہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے کہ معمولی جھگڑوں پر اس قدر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے اور جو لوگ صلح کروانے کی نیت سے آگے بڑھتے ہیں وہ بھی ظلم کا نشانہ بن جاتے ہیں کیا کسی کو بچانا اب جرم بن گیا ہے؟ کیا معاشرہ اس حد تک بے حسی کا شکار ہو چکا ہے کہ انسانی جان کی قدر باقی نہیں رہی؟
یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ ایسے کئی واقعات روزانہ سننے میں آتے ہیں جو ہمارے معاشرے کی گرتی ہوئی اخلاقی حالت کی عکاسی کرتے ہیں بعض افراد تو اس طرح کے تشدد کو مزید ہوا دیتے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت رویہ ہے۔
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ وہ ہدایت عطا فرمائے صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کی توفیق دے اور ہمارے معاشرے میں امن برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دے آمین یا ربّ العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے