कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عیدُ الفطر: مساوات اور سماجی ہم آہنگی کا تہوار

تحریر:منجیت سنگھ
اسسٹنٹ پروفیسر اُردو
کُرکشیتر یونیورسٹی

بھارت ایک ایسا ملک ہے جہاں تنوع ہی اس کی سب سے بڑی پہچان ہے۔ یہاں متعدد مذاہب، زبانیں، ثقافتیں، روایات اور طرزِ زندگی ایک ساتھ مل کر معاشرے کو مالا مال بناتے ہیں۔ بھارتی تہذیب کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں اختلافات کے باوجود اتحاد اور یگانگت کا جذبہ ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کو “تنوع کا ملک” کہا جاتا ہے۔ مختلف برادریوں کے لوگ اپنے اپنے مذہبی عقائد اور ثقافتی روایات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، مگر اس کے باوجود وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت، تعاون اور احترام کا برتاؤ کرتے ہیں۔ بھارتی ثقافت میں تہواروں کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں ہوتے بلکہ سماجی میل جول، ثقافتی تبادلے اور انسانی اقدار کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ انہی تہواروں میں ایک اہم تہوار عیدُ الفطر ہے جو بھائی چارے، ہمدردی اور تنوع میں اتحاد کے جذبے کو مضبوطی سے ظاہر کرتا ہے۔
عیدُ الفطر اسلام کا ایک نہایت مقدس اور اہم تہوار ہے۔ یہ تہوار مقدس مہینے رمضان کے اختتام پر منایا جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لیے ضبطِ نفس، روحانی تربیت اور خدا کے حضور عاجزی و بندگی کا زمانہ ہوتا ہے۔ اس پورے مہینے میں مسلمان طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ یہ خود احتسابی اور روحانی پاکیزگی کا ایک عمل بھی ہے۔ اس دوران لوگ اپنے خیالات، رویوں اور اعمال کو پاکیزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ جھوٹ، غصہ، حسد اور دیگر منفی جذبات سے دور رہنے کا عہد کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ وقت عبادت، دعا اور خدمتِ خلق میں گزارتے ہیں۔
رمضان کے دوران مسلمانوں کی زندگی میں نظم و ضبط اور صبر و تحمل کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ وہ صبح کے وقت سحری کرتے ہیں اور پورا دن روزہ رکھتے ہیں۔ غروبِ آفتاب کے وقت افطار کے ساتھ روزہ کھولا جاتا ہے۔ اس وقت گھر کے افراد اور دوست احباب ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں جس سے باہمی محبت اور تعاون کے جذبات کو فروغ ملتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں لوگ غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ اسلام میں صدقہ اور خیرات کو بہت اہمیت دی گئی ہے، اس لیے اس مہینے میں لوگ زیادہ سے زیادہ خیرات کرتے ہیں اور معاشرے کے کمزور طبقوں کی مدد کرتے ہیں۔
جب رمضان کا مہینہ ختم ہوتا ہے اور آسمان پر نیا چاند نظر آتا ہے تو عیدُ الفطر کا تہوار منایا جاتا ہے۔ چاند نظر آنے کی خبر پورے معاشرے میں خوشی اور جوش و خروش کا ماحول پیدا کر دیتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور اگلے دن عید منانے کی تیاری کرتے ہیں۔ عید کے دن صبح لوگ جلدی اٹھتے ہیں، غسل کرتے ہیں، نئے یا صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہیں اور مسجد یا عیدگاہ میں خصوصی نماز ادا کرنے جاتے ہیں۔ نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں اور “عید مبارک” کہہ کر نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ منظر سماجی اتحاد اور بھائی چارے کی ایک خوبصورت مثال پیش کرتا ہے۔
عیدُ الفطر کا ایک اہم پہلو فطرہ یا صدقہ کی روایت ہے۔ عید کی نماز سے پہلے مسلمانوں کے لیے فطرہ ادا کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کے غریب اور ضرورت مند افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ یہ روایت سماجی مساوات اور ہمدردی کے جذبے کو مضبوط بناتی ہے۔ جب معاشرے کے صاحبِ استطاعت لوگ ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں تو اس سے معاشرے میں توازن اور ہم آہنگی برقرار رہتی ہے۔ اس طرح عید کا تہوار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی خوشی اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنی خوشیوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔
عیدُ الفطر صرف مذہبی رسومات تک محدود نہیں بلکہ یہ سماجی اور ثقافتی میل جول کا بھی ایک موقع ہوتا ہے۔ اس دن گھروں میں مختلف قسم کے لذیذ پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ ان میں سیوئیاں خاص طور پر مشہور ہیں جنہیں شیر خرما کے طور پر بھی بنایا جاتا ہے۔ گھر کے افراد، رشتہ دار اور دوست ایک دوسرے کے گھروں میں جاتے ہیں اور مل کر کھانا کھاتے ہیں۔ بچے اس دن خاص طور پر بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ انہیں “عیدی” کے طور پر تحفے یا رقم ملتی ہے۔
بھارت جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں عیدُ الفطر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہاں یہ تہوار صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ تمام مذاہب اور برادریوں کے لوگ اس میں حصہ لیتے ہیں۔ ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر برادریوں کے لوگ اپنے مسلم دوستوں اور پڑوسیوں کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور ان کے ساتھ تہوار کی خوشیاں بانٹتے ہیں۔ کئی مقامات پر لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں جا کر سیوئیاں کھاتے ہیں اور باہمی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس طرح عیدُ الفطر سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی ایک خوبصورت علامت بن جاتی ہے۔
بھارتی معاشرے میں تنوع میں اتحاد کا جذبہ بہت گہرا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے تہواروں کا احترام کرتے ہیں۔ جس طرح ہندو دیوالی اور ہولی مناتے ہیں، مسلمان عید مناتے ہیں اور سکھ گرُوپرب مناتے ہیں۔ لیکن ان تمام تہواروں کی خوشیوں میں ہر برادری کے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ یہی بھارتی ثقافت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ عیدُ الفطر اس ثقافتی ہم آہنگی کی ایک بہترین مثال ہے۔
تاریخ میں بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب مختلف مذاہب اور برادریوں کے لوگوں نے ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کی اور باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا۔ بھارت کے بہت سے شہروں اور دیہاتوں میں آج بھی یہ روایت زندہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے تہواروں پر مل کر خوشی مناتے ہیں۔ عید کے موقع پر کئی جگہوں پر اجتماعی دعوتوں اور سماجی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں تمام برادریوں کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اس سے معاشرے میں باہمی اعتماد اور تعاون کے جذبات مضبوط ہوتے ہیں۔
عید کا تہوار ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ مذہب کا اصل مقصد انسان کے اندر اچھے اوصاف پیدا کرنا ہے۔ چاہے کوئی بھی مذہب ہو، تمام مذاہب محبت، ہمدردی، برداشت اور انسانیت کا پیغام دیتے ہیں۔ عیدُ الفطر بھی یہی سبق دیتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اخلاقی اقدار کو اپنانا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی اور احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
آج کے جدید دور میں جب معاشرہ مختلف قسم کے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے، ایسے میں عید جیسے تہوار ہمیں اتحاد اور تعاون کی ضرورت کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ تہوار ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہماری مختلفتیں ہمیں الگ نہیں کرتیں بلکہ ہمارے معاشرے کو مزید مالا مال بناتی ہیں۔ جب مختلف ثقافتیں اور روایات ایک ساتھ ملتی ہیں تو معاشرے میں تخلیقی صلاحیت اور اجتماعی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔
عید کے موقع پر بازاروں اور گلیوں میں خاص رونق دیکھنے کو ملتی ہے۔ لوگ نئے کپڑے خریدتے ہیں، مٹھائیاں اور تحائف لیتے ہیں اور اپنے گھروں کو سجاتے ہیں۔ یہ ماحول نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے بلکہ سماجی تعلقات کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ تہواروں کے ذریعے لوگ اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کر خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں جس سے رشتوں میں مٹھاس برقرار رہتی ہے۔
عیدُ الفطر کا پیغام صرف ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے پوری زندگی میں اپنانا چاہیے۔ اگر ہم عید کی اقدار — جیسے محبت، ہمدردی، برداشت اور سخاوت — کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کریں تو معاشرے میں امن اور ہم آہنگی قائم رہ سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عیدُ الفطر صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ انسانیت، سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اختلافات کے باوجود ہم سب ایک ہی معاشرے اور قوم کے رکن ہیں۔ جب ہم ایک دوسرے کی روایات اور جذبات کا احترام کرتے ہیں تو حقیقی اتحاد قائم ہوتا ہے۔
اس طرح عیدُ الفطر بھارتی ثقافت میں تنوع میں اتحاد کے جذبے کی ایک نہایت خوبصورت اور متاثر کن مثال پیش کرتی ہے۔ یہ تہوار ہمیں محبت، بھائی چارے اور تعاون کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے اور یہ پیغام دیتا ہے کہ حقیقی خوشیاں وہی ہیں جو ہم دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے