कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان میں فرشتے ۔۔بعد میں شیطان

تحریر:ڈاکٹر علیم خان فلکی
سوشیو ریفارمس سوسائٹی آف انڈیا، حیدرآباد

رمضان قریب الختم ہے۔ لوگوں نے روزوں، تراویح اور شب ِ قدر میں خوب عبادتیں کرکے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں نیکیاں کمائیں۔ ماشائاللہ ۔ اِس طرح نیکیوں کے معاملے میں لوگ امیرترین بن گئے۔ سوال یہ ہے کہ اِس عظیم سرمائے کو صحیح انویسٹ کرکے وہ اگلے سال تک اس سرمائے کو ڈبل یا ٹرپل کرتے ہیں ، یا این آرآئیز کی طرح لٹادیتے ہیں؟ صرف چند ایک این آرائیز ہوتے ہیں جو گلف سے اپنی محنت کی کمائی بچا کر لاتے ہیں اور سلیقے سے انویسٹ کرکے باقی عمر ساری شان سے گزارتے ہیں۔ لیکن اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو کماتے تو خوب ہیں لیکن فضول کاموں میں لٹا کر دوچار سال بعد ہی افلاس میں آجاتے ہیں۔
یہی حال رمضان میں اِن لاکھوں نیکیاں کمانے والوں کا ہے۔ جس طرح ایران اسرائیل کی جنگ میں آپ نے دیکھا کہ کس طرح وہ دشمن کی تنصیبات کو ڈرون اور میزائیلس سے تباہ کررہے ہیں، بالکل اسی طرح ایک دشمن ہر رمضانی مسلمان کی نیکیوں کو بموں سے اڑانے کے لئے گھات میں بیٹھا ہے۔ یہ دشمن نہ تو کوئی بھگوا آتنکی ہے ، نہ ٹرمپ نہ اسرائیلی، وہ دشمن دراصل وہ شادیاں ہیں جن کا دعوت نامہ عید کے بعد آپ تک پہنچنے والا ہے۔
رمضان میں جتنے لوگ یک شبی، سہ شبی، پانچ اور دس شبی شبینوں کی تراویح کے لئے مسجد مسجد دوڑتے تھے، کل سے یہی لوگ منگنی، مانڈے، شادی کے ریسیپشن ڈِنّر اور ولیمے کھانے دوڑتے نظرآئیں گے۔
جنہوں نے گھنٹوں رمضان میں تلاوت کا ثواب کمایا، اب وہ شادیوں کی بے شمار غیرشرعی رسومات میں تصویریں کھنچواتے نظرآئیں گے۔ ان کی بیگمات بیوٹی پارلرس سے نکلتی ہوئی نظرآئیں گی۔
جنہوں نے رمضان میں خوب زکوٰۃ، خیرات و صدقات تقسیم کی، عمرے بھی ادا کئے کیونکہ ٹراولنگ ایجنٹس نے اپنی مارکٹنگ چمکانے انہیں قائل کیا کہ رمضان میں عمرہ ادا کرنا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے برابر ہے، یہ تما م اپنے خاندان کی شادیوں میں جوڑے یا ہنڈے کی رقم ، جہیز، کھانے، سلامیاں، بہو کے ماں باپ سے پہلی ڈیلیوری کا خرچہ وصول کرتے ہوئے نظرآئیں گے۔
جتنے مولویوں نے لاکھوں کی زکوٰۃ و خیرات وصول کی، وہ بھی اگلے سال کی کمائی کے پیشِ نظر سال تمام خطبوں اور تقریروں میں یہ فتوے پیش کرتے رہیں گے کہ جہیز یقیناً غلط ہے، بارات کا کھانا اور منگنی وغیرہ یقیناً اسراف ہے، لیکن اگر کوئی خوشی سے تحفہِ جہیز دے یا ضیافتِ بارات کرے تو جائز ہے۔ خوشی سے کی جائے تو پھر کوئی بدعت ، بدعت نہیں رہتی، اسراف ، ا حرام نہیں رہتا، مباح بن جاتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ناقدین کی نظر میں ہماری یہ ساری باتیں لغو اورمبالغہ پر مبنی ہوں ، کیونکہ رمضان کے بعد لوگوں کی جس برائی کی اصلاح کی فوری ضرورت ہے وہ تو نشہ، زنا، سود، عیاشی، لینڈ گرابنگ، قتل و غارتگری ہے وغیرہ۔ ان سب کو چھوڑ کر ہم شادی، شادی ، شادی کا ریکارڈ بجائے جارہے ہیں، اس پر ناقدین کو بہت غصہ آتا ہے۔
یہی بات سمجھنے کی ہے کہ کیوں شادیاں ہی نیوکلیر بم کی حیثیت رکھتی ہیں جس کے سامنے باقی ساری برائیاں پٹرول بم سے زیادہ کی اہمیت نہیں رکھتیں۔ کون ہے جو نہیں جانتا کہ نشہ، سود، زنا، لینڈ گرابنگ، اور قتل و غارت گری حرام نہیں ہیں؟ ایک رکشے والے سے لے کر ایک امیرترین آدمی تک ہر شخص جانتا ہے کہ یہ سب گناہ بدترین حرام ہیں۔ نہیں جانتا تو یہ نہیں جانتا کہ جو شادیاں ہمارے نبیﷺ کے طریقے پر ہونے کے بجائے غیرکلچر پر ہورہی ہیں، وہ سوسائیٹی میں کتنے حرام کے راستے کھول رہی ہیں۔ کسی بھی محفل میں، بالخصوص بزرگوں کی محفل میں ذرا آج کی شادیوں کے طورطریق پر گفتگو چھیڑ کر دیکھئے، ہر شخص لہک لہک کر پورے جوش اور شعلہ بیانی کے ساتھ بولتا چلا جائے گا کہ لوگ کس کس طرح پیسہ اور وقت برباد کررہے ہیں،اور اِس کی وجہ سے امت کو کیا کیا نقصانات ہورہے ہیں۔ ایسے موضوع پر ہر شخص مشوروں اور تنقیدوں کے جیبوں میں انبار لئے پھرتا ہے، لیکن اگر آپ اُسے سے یہ پوچھیں کہ کیا وہ ایسی شادیوںمیں شرکت کرتا ہے؟ تو پتہ چلے گا کہ نہ صرف وہ شرکت کرتا ہے بلکہ خود اپنے خاندان کی ہر شادی میں ایسی رسموں کی سرپرستی بھی کرتا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ ہماری مذہبی قیادت نے ’’خوشی سے دینے اور لینے‘‘ کا شرعی لائسنس دیا ہوا ہے۔ اسی لئے ان کو نشہ، زنا، اور سود وغیرہ میں تو حرام ہی حرام نظرآرہا ہے، لیکن شادیوں کی ان رسومات میں ان کونہ حرام نظرآرہا ہے، نہ بدعت نظرآرہی ہے اور نہ گستاخیٔ رسول کا کوئی پہلو نظرآرہا ہے۔ دوسری ہر سنّت پر تو ایک دوسرے پر فتوؤں کے کلسٹربم مارتے ہیں ، لیکن اِن شادیوں میں سنّت ِ رسول کی غزّہ کی طرح بربادی ہورہی ہے، وہ انہیں دور دور تک نظرنہیں آتی۔
رمضان کے مہینے میں تو سنّتوں سے محبت کا بہترین مظاہرہ ہوتا ہے۔ تراویح سنّت ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو آٹھ رکعت یا بیس رکعت؟ افطار اور سحر میں کس مسلک کے سائرن کو فالو کرنا جائز ہے؟ ایسی ہی بے شمار سنّتوں کی بنیاد پر مسلک اور مسجدیں الگ کرلی جاتی ہیں، ہر جگہ کوئی نہ کوئی مولوی اپنے مسلک کی دفاع میں اسلام کو داؤ پر لگاتا رہتا ہے، لیکن صرف ایک معاملہ ایسا ہے جس پر نہ صرف مسلمان علما کی اکثریت بلکہ سارے ہندو، کرسچین اور یہودی علما کی بھی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ دیگر ہر معاملے میں ہم ایک دوسرے سے اختلاف کریں گے، تضحیک بھی کریں گے اور تکفیر بھی کریں گے، لیکن صرف شادی کے معاملے میں یہ سب متفق ہیں کہ شادی کو سنّت یا بدعت کے احاطے سے باہر رکھیں گے۔ شادی زندگی میں صرف ایک بار ہوتی ہے، اس لئے ہر ایک کو آزادی ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق، اپنے کلچر اور اپنے خاندان کے طورطریق پر شادیاں کرے، شادیوں کے معاملے میں اِن سب کا مسلک ایک ہی ہے یعنی ’’خوشی سے لینا اور دینا جائز ہے‘‘۔ شادیوں کے معاملےمیں کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کی ، اہلِ بیت کی، صحابہؓ یا ائمہ سلف کی شادیوں کے طریقے کو فرض، یا واجب، یا سنّت ماننے تیار نہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان امت آج بدترین غربت، قرض، سود، بیروزگاری،نشہ، زناکاری، لڑکیوں کی بغاوت، طلاق، خلع یا علہٰدگی کے راستے پر جارہی ہے۔
ایسی شادیاں جائز ہیں یا نہیں؟ اِن کا دعوت نامہ قبول کرنا جائز ہے یا نہیں، یہ سوالات خدارا ایک بار اپنے ضمیر سے پوچھئے، کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ کا یہی حکم ہے کہ ’’اِستفتِ بقلبک‘‘ یعنی اپنے دل سے یا ضمیر سے پوچھ۔ضمیر سے بڑا منصف اور سچّا مفتی یا عالم کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ ہم ہرگز ہرگز یہ نہیں کہیں گے کہ جہیز، منگنی اور کھانے حلال ہیں یا حرام، لیکن آپ اپنے ضمیر سے پوچھئے تو اندر سے صحیح آواز آئیگی۔ اگر اس آواز کے آنے کےبعد بھی آپ اللہ اور اس سے رسول ﷺ سے رشتہ قائم رکھنے کے بجائے آج کے دعوت نامہ لانے والوں سے رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں تو یہ ہے رمضان میں کمائی ہوئی لاکھوں نیکیاں کمانے کے بعد شیطانی حرکتوں سے ان نیکیوں کو ضائع کرنا.
آج کی شادیوں کی رسومات حلال ہیں یا حرام ہم ہرگز نہیں کہیں گے ، ہم تو فقہا کے اِس اصول کو مانتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو حرام کے راستے کھولتی ہے، وہ بذاتِ خود حرام ہوجاتی ہے۔ بجائے اِن سے اُن سے پوچھنے کے اپنےاپنے ضمیر سے پوچھئے کہ:
۱۔ جہیز اور کھانے رشوت ہیں یا نہیں؟ رشوت حرام ہے یا نہیں؟
۲۔ خوشی سے دے رہے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ خوشی سے ہے یا مجبوری اور سوشیل بلیک میل کی وجہ سے؟ بلیک میل حرام ہے یا نہیں؟
۳۔ اِن شادیوں کے سسٹم نے لڑکے لڑکوں کو پہلے نکاح کے بجائے پہلے ایجوکیشن اور کیرئیر کے لئے مجبور کردیا، جس کے نتیجے میں لڑکے لڑکیاں تیس سال کی عمر تک شادی سے معذور ہیں اور غلط راستوں پر جارہی ہیں، کیا یہ جائز ہورہا ہے؟
۴۔ جب لڑکیوں کو معلوم ہوچکا کہ بغیرجہیز یا کھانے کے کوئی شادی نہیں کرےگا، تو لڑکیوں نے بھی اپنی شرط رکھ دی کہ لڑکا اچھی نوکری کرتا ہو، ذاتی گھر ہو، ماں باپ اور بہنوں کے ساتھ نہ رہتا ہو؟ کیا یہ جائز ہورہا ہے؟
۵۔ جن لڑکیوں کے باپ یا بھائی نہیں ہیں، جو خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتیں، وہ غیروں کے ساتھ بھاگ کر جانے پر مجبور ہیں، کیا یہ حرام نہیں ہے؟
۶۔ جو لڑکے صحیح وقت پر شادی کرنے سے محروم ہیں ، کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ وہ کتنے حرام کاموںمیں ملوّث ہورہے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ آپ غلط شادیوں میں شرکت کرکے ان مجبور لڑکوں اور لڑکیوںکی حسرتوں میں اضافہ کررہےہیںَ ؟ دراصل یہ آپ ہی ہیں جو ان غلط شادیوں کو پروموٹ کرکے لڑکیوں اور لڑکوں کو غلط راستوں پر جانے کے لئے مجبور کررہے ہیں۔
۷۔ انہی نحوستوں کی وجہ سے آج قوم غربت و افلاس کی بدترین کھائیوں میں گِرچکی ہے۔ لیکن نہ صرف ہمارے پیر، مولوی اور لیڈر فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ فاشسٹ آپ کی بستیوں اور مسجدوں پر کھلے عام بلڈوزر چلارہے ہیں، کیونکہ دفاع کے لئے اگر کوئی تحریک اٹھتی ہے تو اس کو مضبوط کرنے آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے، جو پیسہ ہے وہ صرف شادیوں پر برباد کرنے کے لئے ہے۔ کیا یہ سب صحیح ہورہا ہے؟
حل کیا ہے؟ حل یہ ہے کہ آپ رمضان کی برکتوں کے باقی رکھنے کے لئے آج کے سب سے بڑے دشمن کے خاتمے کے لئے ہمارا ساتھ دیجئے۔ ایسی شادیوں کا دعوت نامہ واپس کیجئے اور ایسے لوگوں پر کھلے عام تنقید کیجئے جن کے گھروں کی شادیاں بجائے سنّت نبیﷺ پر ہونے کے رامچندرجی اور سیتا یا لارڈ شیوا پاروتی یا مہارانی جودھا بائی کی سنّتوں پر ہورہی ہیں۔
جو لوگ ہمارا ساتھ دینے تیار ہیں، ہم سے رابطہ فرمایئے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے