कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شبِ قدر: فضائل و احکام

تحریر:رضوان الدین حسینی قاسمی
فاضل دارالعلوم وقف دیوبند

اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کو یکساں درجہ میں پیدا نہیں فرمایا بلکہ مختلف جہتوں سے ان میں تفاوت اور ایک دوسرےپر فضیلت قائم رکھی ہے۔ یہ فرق صرف مادی چیزوں میں ہی نہیں بلکہ روحانی اور دینی امور میں بھی پایا جاتا ہے۔ انسانوں میں سب سے افضل اور برگزیدہ جماعت انبیاء علیہم السلام کی ہے؛ تاہم ان کے درمیان بھی درجات کا فرق رکھا گیا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰی بَعْضٍ
(البقرۃ: 253)
ترجمہ: یہ وہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔
اسی طرح عبادات میں بھی تفاوت ہے، بعض عبادات کا اجر و ثواب دوسری عبادات سے زیادہ ہے۔ مقامات میں بھی فضیلت کا فرق پایا جاتا ہے؛ اگرچہ زمین کا سب سے بہترین حصہ وہ ہے جہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہے یعنی مساجد، لیکن ان میں بھی مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ کو خصوصی مقام حاصل ہے۔
یہی فرق زمانوں اور اوقات میں بھی رکھا گیا ہے۔ سال کے بارہ مہینوں میں رمضان المبارک کو خاص عظمت اور برکت عطا کی گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مہینے کو عظیم اور مبارک قرار دیا ہے۔ پھر رمضان کی راتوں میں بھی ایک ایسی رات ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے مثال فضیلت عطا فرمائی ہے اور وہ ہے شبِ قدر۔
شبِ قدر کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اسی مبارک رات میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّا اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ
(القدر: 1)
ترجمہ: بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا۔
قرآن کریم نے اس رات کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:
لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ
(القدر: 3)
یعنی شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ایک رات میں کی جانے والی عبادت کا ثواب ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی زیادہ ہے۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مبارک رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کے ساتھ زمین پر نازل ہوتے ہیں اور جو بندے اللہ کے ذکر، تلاوت اور عبادت میں مشغول ہوتے ہیں ان کے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ شبِ قدر میں عبادت کے لئے کھڑا ہوگا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔”
(صحیح البخاری)
یہ رات دعا کی قبولیت کی بھی رات ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اگر مجھے شبِ قدر مل جائے تو میں کیا دعا پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ دعا پڑھو:
اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ العَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
ترجمہ: اے اللہ! بے شک آپ معاف فرمانے والے ہیں اور معاف کرنا پسند فرماتے ہیں، پس مجھے بھی معاف فرما دیجئے۔
درحقیقت شبِ قدر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے عظیم نعمت اور رحمت کا موقع ہے۔ جو شخص اس رات کو عبادت، دعا، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی میں گزارے گا وہ بے شمار اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔ لیکن جو لوگ اس قیمتی رات کو غفلت اور بے فائدہ کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں وہ بڑی محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔
اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں خصوصاً شبِ قدر کی تلاش کرے اور اس مبارک رات کو عبادت، توبہ، دعا اور ذکرِ الٰہی میں گزار کر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا حاصل کرنے کی کوشش کرےاب رمضان المبارک کے صرف چند ہی ایام باقی رہ گئے ہیں۔ یہ قیمتی اور مبارک لمحات بڑی تیزی سے رخصت ہو رہے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ان باقی دنوں اور راتوں کو غفلت میں ضائع کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عبادت، ذکر و تلاوت اور دعا و استغفار میں گزاریں۔ اپنے نفس کا محاسبہ کریں، اپنی کوتاہیوں پر ندامت کے آنسو بہائیں اور اپنے اعمال کو سنوارنے کی کوشش کریں۔ یہی وہ مبارک گھڑیاں ہیں جن میں بندہ اپنے رب سے مغفرت اور رحمت کا پروانہ حاصل کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کی مغفرت فرمائے، ہمارے گناہوں کو معاف کر دے، ہمیں جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرمائے اور اپنی رحمت سے ہمیں عید الفطر کی حقیقی خوشیاں نصیب فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے