कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تحریکِ طالبِ علم ( اقوالِ زرین۔ قسط:5)

(طلبہ و طالبات کی ہمت و حوصلہ افزائی ، غوروفکر ، احساس کی بیداری کے لئے مندرجہ ذیل اقوال زرین پیش کیے جارہے ہیں )

اقوالِ زرّین نگار: عبدالحمید خان غضنفرؔ ( ناندیڑ) 

٭ اچھے اخلاق سونے سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں کیونکہ سونا تو بہت لوگ پہنتے ہیں لیکن اچھے اخلاق بہت کم لوگوں میں ہوتے ہیں۔

٭ جس انسان کی زندگی میں بُرے حالات آتے ہیں وہ ہی لوگ بہت کچھ سیکھتے ہیں اور دُنیا کو بھی بہت کچھ سکھاتے ہیں۔

٭ کسی کے عیب ڈھونڈنے سے اپنے عیبوں کی اصلاح نہیں ہوتی ، اپنے عیبوں کی اصلاح کرو گے تو دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

٭ کمزوروں پر وہی آدمی ظلم کرتا ہے جو اندر سے بہت کمزور ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس طاقتور آدمی سے لڑنے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔

٭ زندگی میں کامیاب ہونا بڑی بات نہیں ہے بلکہ کامیابی کو ہمیشہ برقرار رکھنا اور اپنے آپ کو گھمنڈ و تکبر سے پاک رکھنا بڑی بات ہے۔

٭ کسی کی قابلیت سے حسد مت کرو، کیونکہ ہر انسان ایک پوشیدہ قابلیت رکھتا ہے، اِسے تلاش کرکے اُس کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔

٭ اگر آپ بغیر مقصد کے زندگی گزار رہے ہیں تو سمجھو آپ اِس دُنیا میں کامیاب انسان بننے کے لیے نہیں بلکہ ناکام انسان بننے کے لئے آئے ہیں!

٭ آسانی سے ملنے والی کامیابی ایسی ہے جیسے سمندر کی لہروں کے ساتھ تیرنا اور مشکل سے ملنے والی کامیابی ایسی ہے جیسے سمندر کی مخالف لہروں کی سمت تیرنا۔

٭ جس قوم و ملک کے نوجوانوں میں سنجیدگی، فرض شناسی، محنت و جدوجہد کا جذبہ نہ ہو اُس قوم و ملک کو کبھی بھی ترقی کا خواب نہیں دیکھنا چاہیے۔

٭ اگر آپ کو اچھی باتیں اچھی لگتی ہیں تو سمجھو آپ کا ضمیر زِندہ ہے اگر آپ کو اچھی باتیں اچھی نہیں لگتیں تو سمجھو آپ کا ضمیر صرف آکسیجن پر زِندہ ہے۔

٭ ہم دوسروں سے تو اپنے لیے اچھائی کی بہت سی اُمیدیں رکھتے ہیں لیکن کیا ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ دوسرے بھی ہم سے اُن کے لیے اچھائی کی اُمیدیں رکھتے ہوں گے !

٭ کوئی بھی انسان خود کی نظروں میں بڑا ہونے سے بڑا انسان نہیں ہوتا بلکہ معاشرے میں اچھے کردار و برتاؤ سے وہ دوسروں کی نظروں میں بڑا انسان بنتا ہے۔

٭ وقت انسان کی ترقی کے لیے اُس کا آخری سانس تک انتظار کرتا رہتا ہے کیونکہ گزرا ہوا وقت ماضی ہوتا ہے لیکن حال اور مستقبل انسان کے پاس موجود رہتا ہے۔

٭ ہوشیاری او رمکاری میں فرق صرف اِتنا ہے کہ ہوشیاری سے خود کا اور دوسروں کا فائدہ ہوتا ہے جبکہ مکاری سے دوسروں کو نقصان پہنچاکر خود کا فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔

٭ ہم جیتنے کے لیے کھیل رہے ہیں یا ہارنے کے لیے؟ پہلے طئے کرو پھر کھیلو، اسی طرح کیا ہم کامیاب انسان بننے کے لیے پڑھ رہے ہیں یا صرف وقت گزاری کے لیے؟ پہلے سوچو پھر پڑھو۔

٭ جس قوم میں نوجوان زیادہ ہوتے ہیں وہ قوم اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتی ہے ، ہماری قوم میں نوجوان زیادہ ہونے کے باوجود غیر ذمہ دار ہیں یہ کتنی حیرت کی بات ہے!

٭ کسی بھی قوم کو ترقی اُسی وقت حاصل ہوتی ہے جب اُس کا ہر فرد ہر قسم کی قربانی دیں، اور کسی بھی قوم کو زوال اُس وقت آتا ہے جب اُس قوم کے بہت سے افرادمفاد پرست ہوجاتے ہیں۔

٭ سورج خود جلتا ہے اور دوسروں کو روشنی دیتا ہے اُسی طرح جو لوگ صبر‘ برداشت و قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں وہ خود تو نقصان اُٹھاتے ہیں لیکن دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

٭ بچہ جب چلنا سیکھتا ہے تو کئی بار گرتا ہے اور کئی بار کھڑا ہوکر چلنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر ایک دن وہ اچھی طرح چلنا سیکھ جاتا ہے، اس کا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ بار بار کوشش کرنے سے ہی کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

٭ کسی بھی انسان میں خود اعتمادی کا فقدان اُس کی ناکامی کا سبب بنتا ہے، خود اعتمادی نصف کامیابی کی ضمانت ہے تو محنت و کوشش نصف کامیابی کی، اور ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی زوال کی علامت ہے۔

٭ اچھائی و سچائی دُنیا سے کم ہوتی جارہی ہے اور برائی دُنیا میں زیادہ ہوتی جارہی ہے، جو چیز دُنیا میں بہت کم پائی جاتی ہے اِس کی قدر و قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے، جیسے ہیرا ‘ اور جو چیز دُنیا میں بہت زیادہ پائی جاتی ہے اِس کی قدر وقیمت بھی کم ہوتی ہے جیسے لوہا۔

٭ اچھائی اچھائی ہوتی ہے‘ برائی برائی ہوتی ہے، ہم کس کے ساتھ رہتے ہیں اور کس کا ساتھ دیتے ہیں یہ ہمارے ضمیر پر منحصر کرتا ہے، ہم اچھائی کے ساتھ رہتے ہیں اور اچھائی کا ساتھ دیتے ہیں تو سمجھو ہمارا ضمیر زندہ ہے اور ہم برائی کے ساتھ رہتے ہیں اور برائی کا ہی ساتھ دیتے ہیں تو سمجھو ہمارا ضمیر مردہ ہوچکا ہے۔

٭ ایک گلاس میں اگر آدھا پانی بھرا ہوا ہو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ گلاس آدھا بھرا ہوا ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ گلاس آدھا خالی ہے، دونوں کی سوچ اپنی اپنی جگہ صحیح ہے لیکن جو لوگ گلاس آدھا بھرا ہوا کہتے ہیں تو اُن کی سوچ مثبت ہوتی ہے اور وہ عموماً شکر گزار ہوتے ہیں اور جو لوگ گلاس آدھا خالی کہتے ہیں اُن کی سوچ منفی ہوتی ہے جس سے شکایت کا اظہار ہوتا ہے۔

٭ انصاف ہمیں کب پسند ہے؟ جب انصاف سے ہمارا فائدہ ہورہا ہو! اور انصاف ہمیں کب پسند نہیں ہے؟ جب انصاف سے ہمارا نقصان ہورہا ہو!

٭ تحقیق و تخلیق‘ غوروفکر‘ کوشش و جدوجہد کرنے والے لوگ ہی ہمیشہ بے چین رہتے ہیں اور بے چین لوگ ہی دُنیا میں انقلاب برپا کرتے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے