कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان المبارک: جسمانی، روحانی اور مالی تطہیر کا سنہری موقع

تحریر:ڈاکٹر سید اقبال ہاشمی
موبائل: 9696387766

رمضان المبارک مومن کے لیے جسمانی، روحانی اور مالی پاکیزگی کا ایک عظیم اور سنہری موقع ہے۔ یہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک جامع تربیتی نظام ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو سنوارتا ہے۔ اگر اسے درست نیت اور صحیح طریقے سے اپنایا جائے تو یہ صحت، دولت اور آخرت،تینوں میدانوں میں کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ رمضان کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے، اور تقویٰ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اپنے کھانے پینے، عبادات، معاملات اور مالی ذمہ داریوں میں اعتدال، نظم اور شعور اختیار کرے۔ یہی مہینہ ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنی جسمانی صحت کا جائزہ لیں، روحانی تعلق کو مضبوط کریں اور اپنے مال کو پاک کرکے معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچائیں۔
جسمانی صحت اور متوازن غذا کی اہمیت:
سب سے پہلے جسمانی صحت کے پہلو کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ صحت مند جسم ہی عبادت میں یکسوئی پیدا کرتا ہے۔ سائنسی اعتبار سے ہم جو غذا استعمال کرتے ہیں وہ بنیادی طور پر تین اجزاء￿ پر مشتمل ہوتی ہے: کاربوہائیڈریٹس، پروٹین اور فیٹس۔ کاربوہائیڈریٹس جیسے چاول، روٹی، دلیہ اور آلو جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ پروٹین جیسے گوشت، انڈا، مچھلی، دال اور دہی جسمانی خلیات کی تعمیر اور مرمت کے لیے ضروری ہیں۔ جبکہ چکنائی یا فیٹس جیسے تیل، گھی اور مکھن توانائی کا مرتکز ذریعہ ہیں لیکن ان کا استعمال اعتدال میں ہونا چاہیے۔ اگر رمضان میں سحری، افطار اور رات کے کھانے کو انہی اصولوں کے مطابق ترتیب دیا جائے تو ایک متوازن غذا ممکن ہے جو نہ صرف جسم کو کمزور ہونے سے بچاتی ہے بلکہ مجموعی صحت کو بہتر بناتی ہے۔
سحری پورے دن کی مضبوط بنیاد:
سحری پورے دن کی بنیاد ہے، اس لیے اس کا سائنسی اور متوازن ہونا نہایت ضروری ہے۔ سحری میں ایسے کاربوہائیڈریٹس شامل کیے جائیں جو آہستہ آہستہ ہضم ہوں، جیسے جو یا گیہوں کی دلیہ، بغیر چھنے آٹے کی چپاتی یا براؤن بریڈ۔ یہ غذائیں دیر تک توانائی فراہم کرتی ہیں اور اچانک کمزوری سے بچاتی ہیں۔ پروٹین کے طور پر انڈا، دال، دہی یا تھوڑی مقدار میں چکن شامل کیا جاسکتا ہے۔ چکنائی کی مقدار بہت محدود رکھی جائے، مثلاً دس گرام کے برابر مکھن یا ہلکی مقدار میں صحت بخش تیل۔ سحری میں کم از کم دو سے تین گلاس پانی پینا چاہیے تاکہ دن بھر پانی کی کمی نہ ہو۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بہت زیادہ چائے، کافی، نمکین اور تلی ہوئی اشیاء￿ سے پرہیز کیا جائے، کیونکہ یہ اشیاء￿ پیاس بڑھاتی ہیں اور معدے پر بوجھ ڈالتی ہیں۔
افطاراعتدال اور سنت کی روشنی میں:
افطار کا طریقہ بھی اعتدال پر مبنی ہونا چاہیے۔ سنت کے مطابق کھجور اور پانی سے افطار کرنا نہ صرف روحانی برکت کا باعث ہے بلکہ طبی لحاظ سے بھی مفید ہے، کیونکہ کھجور فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔ اس کے بعد ہلکا سوپ یا سلاد لیا جائے تاکہ معدہ آہستہ آہستہ کھانے کے لیے تیار ہو۔ بعد ازاں معتدل مقدار میں پروٹین جیسے چکن یا مٹن کا شوربہ اور ساتھ میں روٹی یا تھوڑی مقدار میں چاول لیے جاسکتے ہیں۔ افطار میں بے اعتدالی معدے کی خرابی، شوگر میں اضافے اور دل کے امراض کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے پیٹ بھرنے کے بجائے ضرورت کے مطابق کھانا بہتر ہے۔ رمضان کا مقصد نفس کو قابو میں رکھنا ہے، نہ کہ افطار کو دعوت میں تبدیل کرنا۔
تراویح عبادت اور جسمانی سرگرمی کا حسین امتزاج:
رمضان میں عبادات کے ساتھ جسمانی سرگرمی بھی جاری رہتی ہے۔ تراویح کی نماز ایک روحانی عبادت ہونے کے ساتھ ساتھ معتدل جسمانی ورزش بھی ہے۔ قیام، رکوع اور سجدے جسم کو متحرک رکھتے ہیں اور خون کی گردش کو بہتر بناتے ہیں۔ اس لیے باجماعت تراویح کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تراویح کے بعد ہلکی غذا مثلاً ایک پھل، تھوڑا سا سلاد یا ایک گلاس اسکِمڈ دودھ لیا جاسکتا ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر رمضان میں متوازن غذا اختیار کی جائے تو میٹابولزم میں بہتری، انسولین حساسیت میں اضافہ، وزن میں اعتدال، ذہنی سکون اور جسمانی صفائی جیسے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب افطار اور سحری میں بے اعتدالی نہ کی جائے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے شرعی و طبی رہنمائی:
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے رمضان کے احکام کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:”جو بیمار ہو وہ بعد میں روزے پورے کرے” شریعت آسانی چاہتی ہے، اس لیے اگر بیماری کی شدت روزہ رکھنے میں خطرہ پیدا کرے تو روزہ فرض نہیں رہتا۔ تاہم ہر شوگر کے مریض کے لیے روزہ ممنوع نہیں ہوتا۔ فیصلہ مرض کی نوعیت اور کنٹرول پر منحصر ہے۔ ٹائپ ون ذیابیطس، بار بار شوگر کم ہوجانے والے مریض، شدید گردوں یا دل کے مریض اور حاملہ شوگر مریضہ کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جبکہ ٹائپ ٹو شوگر کے وہ مریض جن کی شوگر گولیوں سے کنٹرول میں ہو اور HbA1c مناسب حد میں ہو، وہ ڈاکٹر کے مشورے سے احتیاط کے ساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں۔
شوگر کے مریضوں کے لیے عملی احتیاطی تدابیر:
شوگر کے مریضوں کے لیے رمضان میں عملی رہنمائی یہ ہے کہ سحری میں جو یا گیہوں کی دلیہ، براؤن بریڈ، انڈا یا دال اور بغیر چینی کا دہی لیا جائے اور سفید آٹا، میٹھی چائے، پراٹھے اور تلی ہوئی اشیاء￿ سے پرہیز کیا جائے۔ افطار میں ایک کھجور، پانی، ہلکا سوپ اور گرل یا ابلا ہوا چکن مناسب ہے جبکہ شربت، پکوڑے، سموسے اور دیگر تلی ہوئی اشیاء￿ سے بچنا چاہیے۔ شوگر کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔ اگر شوگر لیول ستر سے کم ہوجائے تو روزہ توڑ دینا شرعاً بھی جائز ہے۔ ادویات کے اوقات میں تبدیلی ڈاکٹر کے مشورے سے کی جائے، عموماً صبح کی دوا سحری میں اور شام کی دوا افطار میں دی جاتی ہے جبکہ انسولین کی مقدار کم کرنی پڑتی ہے۔
رمضان اور مالی تطہیر:
رمضان صرف جسمانی اور روحانی اصلاح کا نہیں بلکہ مالی تطہیر کا بھی مہینہ ہے۔ زکوٰ اسلام کا بنیادی رکن ہے اور رمضان میں اس کی ادائیگی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا:”یعنی جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اللہ اس کا بدل عطا فرماتا ہے” زکوٰ کے اصول کے مطابق نصاب کے برابر مال پر قمری سال گزرنے کے بعد ڈھائی فیصد زکوٰ ادا کرنا فرض ہے۔ یہ مال کو کم نہیں کرتی بلکہ اسے پاک اور بابرکت بناتی ہے۔
زکوٰ و صدقات کی منظم اور پائیدار ادائیگی:
موجودہ دور میں زکوٰ اور صدقات کی ادائیگی منظم انداز میں کی جاسکتی ہے۔ مستحقین کی فہرست تیار کی جائے، راشن کٹس تقسیم کی جائیں، بیواؤں، یتیموں اور مستحق طلبہ کی کفالت کی جائے۔ آن لائن ذرائع اور بینک ٹرانسفر کے ذریعے شفاف انداز میں ادائیگی ممکن ہے۔ مزید برآں پائیدار صدقہ یعنی ایسا تعاون جو مستقل ذریعہ معاش بن جائے، زیادہ مؤثر ہے۔ مثلاً ہنر سکھانا، سلائی مشین فراہم کرنا، چھوٹا کاروبار شروع کروانا یا تعلیمی اسکالرشپ دینا۔ اس طرح مدد وقتی نہیں بلکہ دیرپا بن جاتی ہے۔
رمضان کے لیے جامع عملی منصوبہ:
رمضان کے لیے ایک جامع عملی منصوبہ بھی ترتیب دینا چاہیے۔ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت کی جائے اور کم از کم پانچ آیات ترجمہ و تفسیر کے ساتھ سمجھ کر پڑھی جائیں۔ نمازوں کی باجماعت پابندی کی جائے، سحری اور افطار میں اعتدال رکھا جائے، زکوٰ کا باقاعدہ حساب لگایا جائے اور کم از کم ایک ضرورت مند خاندان کی مستقل کفالت کی کوشش کی جائے۔ لغویات، فضول گفتگو، جھوٹ اور غیبت سے بچا جائے۔ طہارت اور پاکیزگی کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور اس مہینے کو اصلاحِ نفس کا ذریعہ بنایا جائے۔
رمضان ، شخصیت سازی کا مکمل تربیتی عمل:
یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ رمضان ایک مکمل تربیتی عمل ہے۔ اگر ہم نے اس مہینے کو سنجیدگی، شعور اور اخلاص کے ساتھ گزار لیا تو یہی مہینہ ہماری شخصیت کو بدل سکتا ہے۔ صحت مند جسم، بیدار روح اور پاکیزہ مال—یہ تینوں مل کر ایک متوازن اور کامیاب زندگی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ رمضان ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم اعتدال اختیار کریں، اللہ سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور معاشرے کے کمزور طبقات کا سہارا بنیں۔ اگر ہم نے اس مہینے کی قدر کرلی تو یہی مہینہ ہماری دنیا کو بھی سنوار دے گا اور آخرت کو بھی روشن کردے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی حقیقی برکات سمیٹنے، اپنی اصلاح کرنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے