कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

معصومیت کا استحصال بند کیا جائے

تحریر:فیروز ہاشمی(یوپی)
9811742537

قوم کے رہنما و ذمہ داران سے گزارش ہے کہ معصوم بچّوں اور اُن کے غریب والدین کی معصومیت کا استحصال بند کیا جائے۔ اُنہیں وہ حقوق ادا کئے جائیں جن کا شریعت نے حصّہ مقرر کیا ہے۔ بات تھوڑی کڑوی ہے غور کیا جائے تو ایسے مسائل کا حل نکلنا آسان ہے۔
کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک مسجد اپنے دم پر قائم کر سکیں؟
کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک مدرسہ اپنے دم پر قائم کر سکیں؟
کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک لائبریری اپنے دم پر قائم کر سکیں؟
کیا ہم اِس قابل نہیں ہیں کہ اپنے محلّہ میں ایک پرائمری تک کاادارہ اپنے دم پر تعمیر کر سکیں؟
ویسے پرائمری اسکول کا قیام حکومت کی ذمہ داری ہے اور جہاں تک مجھے علم ہے کہ ہر گاؤں میں ایک پرائمری اسکول موجود ہے۔ کس حالت میں ہے؟ اس سے استفادہ کون کر رہا ہے؟ اس قسم کے سوالات تفصیل طلب ہیں۔ لیکن اتنا تو اندازہ ہے کہ گاؤں گاؤں تک میں پیسے کے معاملے خود کفیل ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ اپنے بچّوں کو کنوینٹ اسکول میں بھیجنے لگے ہیں۔ اگر سرکاری ادارہ سے استفادہ کرنے یا مسجد و مدرسے کے ساتھ ضم کرکے چلانے کی بات کی جائے گی تومجھے اندازہ ہے کہ اس کا جواب کس کس انداز میں آئے گا۔
کچھ لوگ کہیں کہ ’’نہیں‘‘ ہم لوگ غریب ہیں۔
کچھ لوگ کہیں کہ ’’اتنا آسان نہیں ہے‘‘
کچھ لوگ کہیں کہ ’’غریب ہیں تو کیا ہوا، چندہ کرکے تو کر ہی سکتے ہیں۔ دُنیا جہاں ایسے ہی کر کے مسجد یا مدرسہ بنا رہی ہے‘‘ ۔
بس اسی سوچ نے ہمیں صدیوں سے غریب اور پسماندہ بنا رکھا۔ اور ساتھ ساتھ خود غرض اور مطلب پرست بھی۔
ہم ابھی تک اپنے محلّے یا گاؤں کی مسجد کو بطورِ مکتب کیوں نہیں استعمال کرتے؟ لاکھوں کروڑں روپے خرچ کرکے عمارت کیا صرف پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے لیے بنائی جانی چاہیے۔ ؟؟ … بہتر تو یہی ہوگا کہ تعلیم کے نام پر اب غریب و معصوم لوگوں کے بچوں کے استحصال اور ذہنی طور پر اغوا کرنے کا سلسلہ کو ختم کیا جائے۔ اپنے علاقے کی مسجد کو ہی پرائمری تک کی تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ دینی اور عصری تعلیم اتنی دی جائے کہ اگر بچہ آگے کی تعلیم کے لیے اسکول میں جانا چاہے تو آسانی سے داخل ہو سکے۔ … ذہن نشین کر لیجیے کہ بچّوں کو دور دراز لے جانے یا بھیجنے سے کئی قسم کے جانی، مالی اخلاقی اور معاشرتی خرابی سے بچا سکیں گے۔ بہت زیادہ محنت اور سرمایہ خرچ کرکے ہم بچوں کو ناظرہ والا یا حافظ قرآن بنا پاتے ہیں۔ یہ کام ہمیں علاقائی سطح پر ہی کرنا ضروری ہے۔ ہندوستان میں بہت سے مدارس ایسے موجود ہیں جو مڈل کلاس سے آگے کی تعلیم دیتے ہیں، جہاں نصاب میں بڑی آسانی سے دینیات کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دسویں تک کرا دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد گنجائش یہ رہتی ہے کہ اگر بچّہ آگے کے لیے اسکول جانا چاہے تو آسانی سے گیارہویں میں داخل ہو جاتا ہے اور اس کے سامنے سارے عصری تعلیم کے راستے کھلے ہوئے ملتے ہیں۔ اگر وہ دسویں کے بعد مدرسہ کی تعلیم ہی جاری رکھنا چاہتے ہیں تو چند سال کی مزید تعلیم مکمل کرکے دینیات کے ماہر بن جاتے ہیں، اب مزید تعلیم کے لیے وہ کالج کا رُخ کر سکتے ہیں۔ اس دوران اُنہیں کئی قسم کے ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ اپنی پسند اور دلچسپی کا سیکھ کر اپنی روزی کا بندوبست کر سکیں۔
علم تو ایک روشنی کا آلہ ہے جو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، جس طرح ٹارچ ، اگر استعمال کریں گے تو وہ آپ کو راستہ دکھائے گا۔ اور آپ راستے کے خطرات سے بچ کر اپنی منزل طے کر سکیں گے۔ علم نہ کہ پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے اور ناہی زیادہ علم والا زیادہ پیسہ کما سکتا ہے۔ پیسہ کمانے کے لیے ہنر سیکھنا ضروری ہے اور اللہ نے جو آپ کو دل و دماغ عطا کیا ہے، اس کا درست استعمال آپ کو مال و دولت، عزت و شہرت، دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرخ روئی عطا کرتا ہے۔اب طے کرنا یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کا استعمال کس طرح کرتے ہیں، مثبت طریقے سے یا منفی طریقے سے۔
افسوس تو تب ہوتا ہے کہ جب اکثر علماء کرام بغیر ہنر سیکھے منبر و محراب کے والی بن جاتے ہیں یا اسے ہی اپنا منصب سمجھ کر قابض ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہی عالموں کے ساتھ دقتیں آتی ہیں تو یہ شکایتیں کرتے ہیں کہ ہماری قدر نہیں کی جاتی۔ … … … قدری اور ناقدری تو دُنیا کے ہر کام اور پیشہ میں ہوتا ہے۔ دشواری اور نامرادی تب ہوتی ہے جب ایک نااہل کو وہ عہدہ یا مرتبہ دے دیا جاتا ہے یا وہ قابض ہو جاتا ہے تو معاشرہ بگڑتا ہے۔
آخر یہ کون سی سوچ کی خرابی اور کمی ہے کہ ناظرہ پڑھانے کے لیے آٹھ سے دس برس کے بچے کو دور دراز کے علاقے میں لایا جائے یا بھیجا جائے؟ اور پھر ان غریب اور یتیم بچوں کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے کے لیے شہر شہر گھوما جائے؟
مساجد کی بھی صورتِ حال کچھ ایسی یہ بنا دی گئی ہے کہ تعمیر مسجد کے نام پر دور دراز کے علاقوں سے چندہ اکٹھاکیا جاتا ہے۔ مسجد اور ابتدائی مدرسہ کی ضرورت اپنے علاقے میں ہے تو تعمیر کریں اور اپنے خرچے سے تعمیر کریں۔ جب آپ کی اپنی ضرورت اپنی کمائی سے پوری ہوتی ہے تو کیا آپ نے اس کمائی میں مدرسہ و مسجد کا کوئی حصہ مقرر نہیں کیا؟؟ اگر نہیں کیا ہے تو اب کیجیے۔ خدارا اپنے دین اور اپنے اعمال کی حفاظت کیجیے۔ دین کے نام پر لوگوں کا مال غلط طریقے سے استعمال نہ کیجیے۔ جذباتی بنا کر چندہ اکٹھا نہ کیجیے۔ اللہ کے یہاں حساب سب کو دینا ہے۔ اپنی بھی باری آئے گی۔
ہندوستان میں بہت کم علاقے ایسے ہیں، جہاں پرائمری درجات کی تعلیم نہ کے برابر ہے۔ یا بالکل نہیں ہے۔ اگر بیابان جگہ ہے تو پھر بھی ایک سے پانچ کلو میٹر کے اندر کہیںنہ کہیں تعلیم کا بندوبست ضرور ہے۔ نماز کے لیے انتظام ضرور ہے۔ لیکن جن بچّوں کو دین کی تعلیم کے نام پر دوسرے شہروں میں لایا جاتا ہے، وہ اتنے پچھڑے علاقہ کے نہیں ہیں کہ ان کے یہاں ادارہ نہیں ہے، یا محلّہ میں مسجد نہیں ہے جہاں انہیں ناظرہ پڑھایا جا سکے۔ ہم نے گھوم پھر کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اصلیت یہ دیکھی گئی ہے کہ لوگ آرام طلب ہوتے جا رہے ہیں۔ نہ خود سیکھتے ہیں نہ بچّوں کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں۔ بس مسجد میں ایک دو مولوی کو رکھ لیا اور یہ سوچ لیا کہ وہی تعلیم اور تربیت کریں گے۔ اب میرے بچّے میرے حکم اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ جب تعلیم دینے والا مولوی اور گارجین خود خدائی اصول پر عمل پیرا نہیں ہیں تو ایسے میں اُن سے بہتر نتائج کی کیسے اُمید کی جا سکتی ہے۔؟
اس ماحول میں وہی تبرکاتی نسل تیار ہوگی پھر نسل در نسل جذباتی تعلیم اور طریقہ جاری رہے گا۔ جیسا کہ جاری ہے۔ مقاصد بہتر انسان اور معاشرہ تیار کرنا تھا، لیکن کہیں کہیں دکھائی دیتا ہے۔ اور بغیر احکام خداوندی کو طریقۂ رسولﷺ کے مطابق انجام دیے مثبت نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ نہ ذلت سے چھٹکارا حاصل ہوگا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے