कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

1940 سے 1960 تک اردو صحافت کا تاریخی اور تنقیدی جائزہ

تحریر:منجیت سنگھ
کروکشیترا یونیورسٹی کروکشیترا
9671504409

1940 سے 1960 کا زمانہ اردو صحافت کی تاریخ میں ایک نہایت اہم دور سمجھا جاتا ہے۔ اس عرصے میں اردو اخبارات صرف خبریں فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ وہ سماجی شعور بیدار کرنے، سیاسی مباحث کو فروغ دینے، ثقافتی اظہار کو وسعت دینے اور ادبی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے مؤثر ادارے بھی تھے۔ برصغیر میں آزادی کی تحریک اپنے آخری مرحلے میں تھی، اسی دوران ملک کی تقسیم کا سانحہ پیش آیا اور آزاد ہندوستان میں ایک نئی سیاسی و سماجی ساخت کی تشکیل بھی اسی زمانے میں ہوئی۔ ان تمام تاریخی واقعات کے اثرات براہِ راست اردو اخبارات پر مرتب ہوئے۔ اس لیے 1940 سے 1960 کے درمیان اردو صحافت کا مطالعہ ہمیں نہ صرف ذرائع ابلاغ کی ترقی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اس زمانے کے معاشرے، سیاست اور ثقافت کی گہری تصویر بھی پیش کرتا ہے۔
اردو زبان خود برصغیر کی مشترکہ تہذیبی روایت کی علامت رہی ہے۔ اردو صحافت کا آغاز انیسویں صدی میں ہی ہو چکا تھا، مگر بیسویں صدی کے وسط تک پہنچتے پہنچتے اس نے خاصی اہمیت اور اثر و رسوخ حاصل کر لیا تھا۔ 1940 کی دہائی میں اردو اخبارات کا دائرۂ اشاعت شمالی ہند کے مختلف شہروں مثلاً دہلی، لکھنؤ، لاہور، علی گڑھ، حیدرآباد، پٹنہ اور کلکتہ تک پھیلا ہوا تھا۔ ان اخبارات کے قارئین صرف مسلمان نہیں تھے بلکہ ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد بھی اردو پڑھتے اور سمجھتے تھے۔ اس طرح اردو اخبارات کا قارئین حلقہ وسیع اور متنوع تھا۔
1940 کی دہائی میں اردو اخبارات کا سب سے نمایاں کردار آزادی کی تحریک کے پس منظر میں نظر آتا ہے۔ اس زمانے میں ہندوستان میں برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد اپنے عروج پر تھی۔ کانگریس، مسلم لیگ، سوشلسٹ تنظیموں اور دیگر سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں اور نظریات کو عوام تک پہنچانے میں اردو اخبارات نے اہم کردار ادا کیا۔ بہت سے اردو اخبارات نے برطانوی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور قومی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ متعدد مدیران اور صحافی خود بھی آزادی کی تحریک سے وابستہ تھے۔ وہ اپنے مضامین اور اداریوں کے ذریعے عوام کو بیدار کرتے اور انہیں سیاسی عمل میں حصہ لینے کی ترغیب دیتے تھے۔
اس زمانے میں اردو صحافت میں سیاسی مضامین کے ساتھ ساتھ ادبی مواد کو بھی نمایاں مقام حاصل تھا۔ بہت سے نامور ادیب اور شاعر اردو اخبارات اور رسائل میں لکھتے تھے۔ غزل، نظم، افسانہ، مضمون اور تنقیدی تحریریں باقاعدگی سے شائع ہوتی تھیں۔ اس طرح اردو صحافت اور اردو ادب کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہو گیا تھا۔ کئی اخبارات صرف خبروں تک محدود نہیں تھے بلکہ ادبی سرگرمیوں کے فروغ کا اہم ذریعہ بھی بن گئے تھے۔ اس سے اردو زبان اور ادب کی ترقی میں بھی نمایاں مدد ملی۔
1940 کی دہائی کے اردو اخبارات کی زبان اور اسلوب بھی خاص اہمیت رکھتے تھے۔ تحریروں میں ادبی لطافت، فصاحت و بلاغت اور خیال کی وضاحت نمایاں ہوتی تھی۔ اداریے اکثر سنجیدہ اور فکر انگیز ہوتے تھے۔ صحافت کے ذریعے سماجی مسائل، تعلیم، اقتصادی حالات اور ثقافتی موضوعات پر گفتگو کی جاتی تھی۔ اس طرح اردو اخبارات کا اثر صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے کے مختلف پہلوؤں تک پھیل گیا۔
1947 میں برصغیر کی تقسیم اردو صحافت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ تقسیم کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو ہجرت کرنی پڑی اور سماجی و سیاسی حالات اچانک بدل گئے۔ اس تبدیلی کا اثر اردو صحافت پر بھی پڑا۔ بہت سے مشہور اردو اخبارات جو لاہور، کراچی یا دیگر شہروں سے شائع ہوتے تھے، پاکستان منتقل ہو گئے۔ اسی طرح متعدد صحافی اور مدیر بھی پاکستان چلے گئے۔ اس صورت حال کے باعث ہندوستان میں اردو صحافت کو ایک طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔
تقسیم کے بعد ہندوستان میں اردو زبان کی حیثیت بھی متاثر ہوئی۔ بعض حلقوں میں اردو کو صرف مسلمانوں کی زبان سمجھا جانے لگا، حالانکہ تاریخی طور پر یہ مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مشترکہ رابطے کی زبان رہی ہے۔ اس تصور کے باعث اردو اخبارات کے قارئین کی تعداد کچھ حد تک کم ہو گئی۔ اقتصادی مشکلات بھی بڑھ گئیں کیونکہ اشتہارات اور مالی وسائل کی کمی ہونے لگی۔ بہت سے چھوٹے اردو اخبارات بند ہو گئے یا ان کی اشاعت غیر باقاعدہ ہو گئی۔
ان مشکلات کے باوجود اردو صحافت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ بہت سے صحافیوں اور ادیبوں نے اسے زندہ رکھنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔ دہلی، لکھنؤ، حیدرآباد، علی گڑھ اور پٹنہ جیسے شہروں میں اردو اخبارات کی اشاعت جاری رہی۔ ان اخبارات نے نئے ہندوستان کے سماجی اور سیاسی حالات پر مضامین شائع کیے۔ آئین کی تشکیل، جمہوری اداروں کے قیام اور قومی زندگی کی نئی سمتوں پر بحث کی جاتی تھی۔
1950 کی دہائی میں اردو صحافت نے بتدریج ایک نئی سمت اختیار کی۔ سیاسی موضوعات کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور ادبی موضوعات پر زیادہ توجہ دی جانے لگی۔ اردو رسائل اور اخبارات میں فلم، موسیقی، ادب اور سماجی زندگی سے متعلق مضامین شائع ہونے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستانی سنیما تیزی سے مقبول ہو رہا تھا۔ بہت سی اردو رسائل نے فلمی دنیا کی خبریں اور اداکاروں کے انٹرویو شائع کیے۔ اس سے اردو صحافت کا قارئین حلقہ دوبارہ بڑھنے لگا۔
اس دور میں مدیران کا کردار بہت اہم تھا۔ وہ صرف خبروں کے انتخاب تک محدود نہیں تھے بلکہ مفکر اور سماجی مصلح بھی سمجھے جاتے تھے۔ اداریوں کے ذریعے وہ سماجی مسائل پر روشنی ڈالتے اور عوام کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ تعلیم، خواتین کے حقوق، سماجی مساوات اور ثقافتی تحفظ جیسے موضوعات پر مسلسل مضامین شائع ہوتے تھے۔ اس طرح اردو اخبارات معاشرتی اصلاح اور مثبت تبدیلی کے مؤثر ذریعہ بن گئے۔
اسی زمانے میں اردو صحافت پر ادبی تحریکوں کا بھی اثر پڑا۔ ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستہ کئی ادیب اردو اخبارات اور رسائل میں سرگرم تھے۔ وہ سماجی انصاف، برابری اور انسانی اقدار کے موضوعات پر تحریریں لکھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں سماجی ناانصافی اور استحصال کے خلاف آواز بلند کی جاتی تھی۔ اس طرح اردو صحافت محض معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ سماجی تبدیلی کا ایک مؤثر وسیلہ بن گئی۔
1940 سے 1960 کے درمیان اردو اخبارات کے مواد کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مختلف موضوعات شامل تھے۔ سب سے اہم حصہ سیاسی خبروں اور تجزیوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ آزادی کی تحریک، برطانوی حکومت کی پالیسیاں، تقسیم ہند کے واقعات اور آزاد ہندوستان کی سیاسی صورتحال جیسے موضوعات نمایاں تھے۔ اس کے علاوہ ادبی تخلیقات، سماجی مسائل پر مضامین، تعلیمی اور ثقافتی موضوعات اور بین الاقوامی خبریں بھی شائع ہوتی تھیں۔
اردو اخبارات کے اداریے خصوصی اہمیت رکھتے تھے۔ ان میں کسی اہم واقعے یا پالیسی پر اخبار کا نقطۂ نظر پیش کیا جاتا تھا۔ اداریوں کے ذریعے قارئین کو معاملات کی گہری سمجھ حاصل ہوتی تھی۔ کئی مرتبہ یہ تحریریں عوامی رائے اور مباحث کو بھی متاثر کرتی تھیں۔ اسی وجہ سے اداریہ اردو صحافت کی ایک نمایاں پہچان سمجھا جاتا ہے۔
تکنیکی لحاظ سے بھی اس زمانے میں اردو صحافت میں تبدیلیاں آئیں۔ طباعت کی تکنیک میں بہتری آئی اور اخبارات کی چھپائی پہلے کے مقابلے میں زیادہ صاف اور تیز ہو گئی۔ اس سے اخبارات کی اشاعت میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ مالی وسائل کی کمی کے باعث کئی چھوٹے اخبارات کو مشکلات پیش آئیں، پھر بھی بڑے شہروں میں اردو اخبارات کی اشاعت جاری رہی۔
اردو صحافت کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اس نے ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش کی۔ اردو زبان مختلف تہذیبوں اور روایتوں کے امتزاج کی علامت ہے۔ اسی لیے اردو اخبارات میں مختلف برادریوں کے تہواروں، ثقافتی تقریبات اور سماجی سرگرمیوں کے بارے میں خبریں اور مضامین شائع کیے جاتے تھے۔ اس سے معاشرے میں باہمی سمجھ بوجھ اور ہم آہنگی کو تقویت ملتی تھی۔
1950 کی دہائی میں اردو صحافت نے تعلیم اور ادب کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ کئی اخبارات میں طلبہ اور نوجوانوں کے لیے خصوصی کالم شائع ہوتے تھے جن میں زبان و ادب اور عمومی معلومات سے متعلق مضامین شامل ہوتے تھے۔ اس طرح نئی نسل میں اردو زبان کے تئیں دلچسپی برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
اس کے باوجود اردو صحافت کو کئی چیلنجوں کا سامنا رہا۔ سب سے بڑی مشکل مالی وسائل کی کمی تھی۔ بہت سے اردو اخبارات محدود وسائل کے ساتھ شائع ہوتے تھے اور انہیں مناسب اشتہارات نہیں ملتے تھے۔ اس کے علاوہ ہندی اور انگریزی صحافت کی تیز رفتار ترقی نے بھی اردو اخبارات کے لیے مسابقت پیدا کر دی۔ تاہم اردو صحافیوں نے اپنی محنت اور لگن سے اس روایت کو برقرار رکھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 1940 سے 1960 کا زمانہ اردو صحافت کے لیے تبدیلی اور جدوجہد کا دور تھا۔ اس عرصے میں اردو اخبارات نے آزادی کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا، تقسیم کے بعد مشکل حالات کا سامنا کیا اور پھر نئے حالات کے مطابق اپنے انداز کو ڈھال لیا۔ انہوں نے سیاسی شعور، ادبی ترقی اور سماجی مکالمے کو فروغ دینے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
اس طرح 1940 سے 1960 کے درمیان اردو اخبارات محض خبریں فراہم کرنے والے ادارے نہیں تھے بلکہ وہ اپنے عہد کے سماجی اور تاریخی عمل میں فعال شریک تھے۔ انہوں نے لوگوں کو معلومات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں سوچنے، بحث کرنے اور معاشرتی تبدیلی کے لیے آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ اسی وجہ سے اردو صحافت کا یہ دور برصغیر کی میڈیا تاریخ میں نہایت اہم مقام رکھتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے