कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

1920 سے 1940 تک اردو اخبارات کا تفصیلی تجزیہ

تحریر:منجیت سنگھ
کروکشیترا یونیورسٹی کروکشیترا
9671504409

برصغیر میں اردو صحافت کی تاریخ نہایت وسیع اور اہم ہے۔ انیسویں صدی کے وسط سے لے کر بیسویں صدی کے آغاز تک اردو اخبارات نے معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی شعور پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر 1920 سے 1940 تک کا دور اردو صحافت کے لیے ایک فیصلہ کن اور انقلابی دور تھا۔ اس عرصے میں اردو اخبارات نہ صرف خبروں کی ترسیل کا ذریعہ تھے بلکہ وہ عوامی رائے سازی، قومی بیداری، آزادی کی تحریک اور سماجی اصلاح کے طاقتور وسیلے بن گئے تھے۔
یہ دور برصغیر کی سیاسی تاریخ میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس زمانے میں ہندوستان میں آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی اور مختلف سیاسی جماعتیں اور رہنما انگریز حکومت کے خلاف جدوجہد کر رہے تھے۔ اس پس منظر میں اردو اخبارات نے عوام تک سیاسی شعور پہنچانے اور انہیں آزادی کی جدوجہد میں شریک کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
تاریخی پس منظر:
پہلی جنگ عظیم کے بعد ہندوستان میں سیاسی حالات تیزی سے بدلنے لگے۔ انگریز حکومت کی پالیسیوں سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی تھی اور آزادی کی تحریک مختلف شکلوں میں سامنے آ رہی تھی۔ 1919 کے جلیانوالہ باغ کے سانحہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے بعد قومی تحریک مزید تیز ہو گئی۔
1920 میں عدم تعاون تحریک شروع ہوئی جس کی قیادت مہاتما گاندھی نے کی۔ اس تحریک نے ہندوستانی عوام کو پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر انگریز حکومت کے خلاف متحد کیا۔ اسی زمانے میں خلافت تحریک بھی شروع ہوئی جس نے مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کی۔ اردو اخبارات نے ان دونوں تحریکوں کی بھرپور حمایت کی اور ان کے نظریات کو عوام تک پہنچایا۔
1930 کے عشرے میں سول نافرمانی تحریک اور نمک ستیہ گرہ جیسے واقعات پیش آئے جنہوں نے آزادی کی تحریک کو مزید مضبوط کیا۔ اردو اخبارات نے ان تحریکوں کی خبریں اور تجزیے شائع کر کے عوام کو انگریز حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا۔
اردو صحافت کی خصوصیات:
1920 سے 1940 کے درمیان اردو صحافت کی چند نمایاں خصوصیات تھیں۔
سب سے پہلی خصوصیت یہ تھی کہ اس دور کے اردو اخبارات قومی تحریک کے ساتھ گہرا تعلق رکھتے تھے۔ بیشتر اخبارات آزادی کی جدوجہد کی حمایت کرتے تھے اور انگریز حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے تھے۔
دوسری خصوصیت یہ تھی کہ اردو اخبارات صرف سیاسی موضوعات تک محدود نہیں تھے بلکہ ان میں سماجی مسائل، تعلیم، ادب اور ثقافت پر بھی مضامین شائع ہوتے تھے۔
تیسری اہم بات یہ تھی کہ اردو صحافت کی زبان نہایت مؤثر اور ادبی ہوتی تھی۔ اس دور کے صحافیوں میں ادبی صلاحیت بھی موجود ہوتی تھی جس کی وجہ سے ان کے مضامین اور اداریے بہت اثر انگیز ہوتے تھے۔
اہم اردو اخبارات:
زمیندار:
اس دور کا سب سے مشہور اور اثر انگیز اردو اخبار زمیندار تھا۔ اس کے بانی مولانا ظفر علی خان تھے اور یہ لاہور سے شائع ہوتا تھا۔
زمیندار اخبار اپنی جرات مندانہ صحافت کے لیے مشہور تھا۔ اس اخبار نے انگریز حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی اور عوام کو آزادی کی تحریک میں حصہ لینے کے لیے آمادہ کیا۔
اس اخبار کے اداریے بہت مشہور تھے اور ان میں قومی جذبات کی بھرپور ترجمانی ہوتی تھی۔ زمیندار کی اشاعت پنجاب، دہلی اور اتر پردیش سمیت کئی علاقوں میں ہوتی تھی اور اسے اردو صحافت کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا تھا۔
مدینہ:
مدینہ اخبار بھی اس دور کا ایک اہم اردو اخبار تھا۔ یہ بجنور سے شائع ہوتا تھا اور اس کے بانی مولوی مجید حسن تھے۔
مدینہ اخبار نے مسلمانوں کے سماجی اور مذہبی مسائل کے ساتھ ساتھ قومی تحریک کی بھی حمایت کی۔ اس اخبار کے مضامین میں اصلاحی پہلو نمایاں ہوتا تھا اور اس کے ذریعے مسلمانوں کو تعلیم اور سماجی ترقی کی طرف راغب کیا جاتا تھا۔
ملاپ:
ملاپ اخبار 1923 میں لاہور سے جاری ہوا۔ یہ اخبار قومی نظریات کا حامل تھا اور اس نے آزادی کی تحریک کی بھرپور حمایت کی۔
ملاپ میں سیاسی خبروں کے علاوہ ادبی مضامین بھی شائع ہوتے تھے۔ اس کے اداریے بہت اثر انگیز ہوتے تھے اور یہ اخبار عوام میں خاصا مقبول تھا۔
تیج:
تیج اخبار بھی اس دور کا ایک اہم اردو اخبار تھا جس کی بنیاد سوامی شردھانند نے رکھی تھی۔
یہ اخبار قومی تحریک کا حامی تھا اور اس نے انگریز حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی۔ اس اخبار نے سماجی اصلاح کے موضوعات پر بھی مضامین شائع کیے۔
بیسویں صدی:
بیسویں صدی ایک ادبی اور سماجی رسالہ تھا جو 1930 کی دہائی میں شائع ہوا۔ اس رسالے میں افسانے، مضامین اور تنقیدی تحریریں شائع ہوتی تھیں۔
یہ رسالہ اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا تھا اور اس کے ذریعے کئی نئے ادیب منظر عام پر آئے۔
آزادی کی تحریک میں کردار:
1920 سے 1940 کے درمیان اردو اخبارات نے آزادی کی تحریک میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قومی رہنماؤں کے خیالات کو عوام تک پہنچایا اور لوگوں کو سیاسی شعور دیا۔
مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد اور دیگر رہنماؤں کی تقاریر اور بیانات اردو اخبارات میں شائع ہوتے تھے۔ اس طرح عوام کو آزادی کی تحریک کے مقاصد اور نظریات سے آگاہی حاصل ہوتی تھی۔
سماجی اصلاح میں کردار:
اردو اخبارات نے سماجی اصلاح کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا اور معاشرے میں موجود برائیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔
خاص طور پر خواتین کی تعلیم، سماجی مساوات اور مذہبی رواداری جیسے موضوعات پر اردو اخبارات میں مضامین شائع ہوتے تھے۔
ادبی خدمات:
اردو صحافت کا ادب سے گہرا تعلق رہا ہے۔ اس دور کے کئی بڑے ادیب اور شاعر صحافت سے وابستہ تھے۔
اخبارات اور رسائل میں افسانے، نظمیں اور تنقیدی مضامین شائع ہوتے تھے جس سے اردو ادب کو فروغ ملا۔
برطانوی حکومت کی پابندیاں:
انگریز حکومت اردو اخبارات کی سرگرمیوں سے خوش نہیں تھی کیونکہ یہ اخبارات عوام میں بیداری پیدا کر رہے تھے۔ اس لیے حکومت نے پریس پر مختلف پابندیاں عائد کیں۔
کئی اخبارات پر جرمانے کیے گئے، بعض کو بند کر دیا گیا اور بعض صحافیوں کو جیل بھیج دیا گیا۔ اس کے باوجود اردو صحافیوں نے اپنے مشن کو جاری رکھا۔
اردو صحافت کے مسائل:
اس دور میں اردو اخبارات کو کئی مشکلات کا سامنا بھی تھا۔
سب سے بڑی مشکل مالی وسائل کی کمی تھی۔ بہت سے اخبارات محدود وسائل کے باوجود شائع ہوتے تھے۔
دوسری مشکل حکومتی دباؤ اور سنسر شپ تھی۔ اس کے باوجود اردو صحافت نے اپنی آزادی کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
نتیجہ:
1920 سے 1940 تک کا دور اردو صحافت کی تاریخ میں ایک سنہری دور کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس عرصے میں اردو اخبارات نے نہ صرف خبروں کی ترسیل کی بلکہ انہوں نے قوم کی فکری اور سیاسی رہنمائی بھی کی۔
زمیندار، مدینہ، ملاپ اور تیج جیسے اخبارات نے آزادی کی تحریک کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے عوام میں سیاسی شعور پیدا کیا اور معاشرتی اصلاح کے لیے بھی کوششیں کیں۔
اردو صحافت کی یہ خدمات برصغیر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی کیونکہ انہوں نے قوم کو بیدار کرنے اور آزادی کی جدوجہد کو آگے بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے