कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیرتﷺ سے عطر کشیدگی کی نزاکت آفرینی

تحریر: معاذ حیدر

ایسے ماحول میں نشونما ہوئی جہاں حضورِ اکرم ﷺ کی سیرت اور صحابہ -رضی اللہ عنہم- کے حالات کا خوب چرچا رہا ہے، "کتاب الرقائق” کی بیشتر روایتیں گھر میں رہتے ہوۓ گذر گئ تھیں، "سیرت” کے اجمالی علم کی روشنی میں بولنے کی مشق تھی، نتیجہ اخذ کرنے کا ذوق بھی بن گیا تھا، "سیرۃ المصطفی ﷺ” کی ورق گردانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فکر کو بالکل آزادانہ انداز میں بولتا تھا، "پنجم” کے زمانے میں ایک کاپی لے لی تھی، علاقائی ضرورتوں کو عنوان بنا کر آیات، روایات اور سیرت کے واقعات کو درج کرتا تھا، تشریح وتطبیق میں عقلی گھوڑی دوڑاتا۔
*حضرت الاستاذ مفتی نذیر احمد قاسمی -دامت برکاتہم-* کے ایماء پر جب *”حضرت معاذ بن جبل -رضی اللہ عنہ-"* کی زندگی کو دیکھنا شروع کیا تو ان کی خدمات کو عملی نمونہ بنا کر پیش کرنے کا غلبہ ہوا، ان کے متعلق تمام چیزیں یکجا کیں، ہماری یادداشت کے مطابق پچھتر سے زائد کتابیں نظر سے گذریں، اسی دوران حضرت -رضی اللہ عنہ- کے بارے میں یہ بات معلوم ہوئی کہ *”صحابہ -رضی اللہ عنہم- آپ -رضی اللہ عنہ- کو حضرت ابراھیم -علیہ السّلام- سے تشبیہ دیتے تھے”*، ان سے فارغ ہونے کے بعد *”حضرت سیدنا ابراھیم -علیہ السّلام-"* کے حالات کو بھی اسی عینک سے دیکھنا شروع کیا۔
ہفتم کے سال *”محدثِ عصر حضرت مفتی عبد اللہ معروفی -دامت برکاتہم-* سے پڑھنے کا موقع ملا، آپ کے افادات سے ذہن بدلا، سیرت کے واقعات سے آزادانہ استدلال کی عادت پر نظرِ ثانی کی ضرورت محسوس ہونے لگی، کیوں کہ کسی بھی پر جب تک "پوری شریعت” نگاہ کے سامنے نہ ہو تو حتمی بات نہیں کہی جاسکتی، بارہا درس میں یہ بات سنی کہ *”دلائل کے باب میں فرقِ مراتب کا خیال کرنا بے حد ضروری ہے؛ اس لیے کہ "گر فرقِ مراتب نہ کنی زندیقی”*۔
اس وقت احساس ہوا کہ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے، اس کے لیے آبلہ پائی کرنی پڑتی ہے، نصوص کی استنادی حیثیت سے واقف ہونا پڑتا ہے، درایتی پہلو پر غور کرنا ہوتا ہے، قابلِ عمل ہونے کی نشان دہی کرنی ہوتی ہے، نصوص کے وسیع ذخیرے پر عمیق نظر رکھنی پڑتی ہے، شریعت کے مزاج ومذاق کی آگہی کے بغیر یہ کام ناممکن ہے، مراد کی تعیین ایک مستقل عمل ہے، قرائن کی رعایت ہر ایک کے بس کی بات نہیں، مقصدِ شارع تک رسائی تو بہت ہی کم لوگوں کی ہوپاتی ہے، علت کی دریافت اور در پیش مسائل میں اس کے انطباق کے لیے گہری بصیرت مطلوب ہے، غیر معمولی علم درکار ہے، تب جاکر "آیات، روایات اور سیرت سے عطر بیزیاں” کی جاسکتی ہیں۔
مشکوۃ شریف پڑھنے کے زمانے میں جب پرانا ذوق بے دار ہوتا تھا تو روایتوں پر آزادانہ ترجمہ باندھتا تھا پھر حضرت -دامت برکاتہم- کو سناتا تھا، ایک مرتبہ دریافت کیا کہ *”اس باب میں ہم کون سی کتاب سے مدد لیں؟”* تو فرمایا: *”علامہ عینی -رحمہ اللہ- کو دیکھو، انہوں نے "عمدۃ القاری” میں اس کا اہتمام کیا ہے۔”*

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے