कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اعتکاف احکام اور آداب

تحریر:ابو خالد قاسمی آسامی
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ، کلچھینہ، غازی آباد

انسان کا اپنے خالق کے ساتھ رشتہ بندگی اور غلامی کا رشتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مالک اور معبود ہے اور انسان اس کا بندہ اور مملوک۔ بندے کی کامیابی اسی میں ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، اور مملوک کے لیے سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ اسے اپنے مالک کی خوشنودی حاصل ہو۔
محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہو جائے۔ عاشق کو اپنے معشوق کی راہ میں تکلیف بھی راحت محسوس ہوتی ہے اور محب اپنے محبوب کے لیے کھو کر بھی پانے کی لذت محسوس کرتا ہے۔ اسی محبت، بندگی اور وفاداری کے جذبے کو عملی شکل دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عبادات کے مختلف طریقے مقرر فرمائے اور انہیں انسان کی تخلیق کا بنیادی مقصد قرار دیا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ۔
اسلام کی عبادات میں ہر قدم پر بندگی اور عاجزی کا اظہار ہوتا ہے۔ نماز میں بندہ اپنے رب کے حضور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوتا ہے، اس کی کبریائی بیان کرتا ہے، رکوع اور سجدہ میں جھک کر اپنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ زکوٰۃ دینا اس بات کا اعلان ہے کہ انسان کی ذات اور اس کا مال بھی اللہ کی ملکیت ہے۔ روزہ اور حج بھی اللہ کی بندگی کے مظاہر ہیں جن میں خوف کے ساتھ ساتھ محبت اور اخلاص کا رنگ نمایاں ہوتا ہے۔
روزہ دار بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، موسم کی سختی سہتا ہے، مگر اپنے رب کی رضا کے لیے ہر مشقت کو خوشی سے قبول کرتا ہے۔ تاہم روزے کی حالت میں انسان اپنے گھریلو اور معاشرتی تعلقات سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوتا۔ محبت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ انسان دنیا کے تمام تعلقات کو بھی اللہ کے تعلق کے سامنے قربان کر دے۔ اسی مقصد کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں ایک عظیم عبادت رکھی گئی ہے جسے اعتکاف کہا جاتا ہے۔
اعتکاف کا مفہوم
اعتکاف کے لغوی معنی ہیں: کسی چیز کے ساتھ جم کر رہنا اور اس سے وابستہ ہو جانا۔ شریعت کی اصطلاح میں اعتکاف یہ ہے کہ آدمی روزہ کی حالت میں مسجد میں قیام اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جائے۔ گویا اعتکاف اللہ کے دربار پر سر رکھ دینے اور اس کی رحمت کے دامن کو مضبوطی سے تھام لینے کا نام ہے۔
اعتکاف کی فضیلت
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ معتکف گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور جو نیک اعمال وہ اعتکاف سے باہر کیا کرتا تھا ان کا ثواب بھی اس کے لیے جاری رہتا ہے۔
نبی کریم ﷺ اعتکاف کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ آپ ﷺ ہر سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے۔ جس سال آپ ﷺ کا وصال ہوا، اس سال آپ ﷺ نے بیس دن اعتکاف فرمایا۔
اعتکاف کی اقسام
اعتکاف بنیادی طور پر تین قسموں کا ہوتا ہے:
اعتکافِ نفل
اس کے لیے نہ روزہ شرط ہے اور نہ مخصوص وقت۔ اگر کوئی شخص کچھ دیر کے لیے بھی اعتکاف کی نیت سے مسجد میں بیٹھ جائے تو نفل اعتکاف ہو جاتا ہے۔
اعتکافِ واجب
یہ اس وقت واجب ہوتا ہے جب کوئی شخص اعتکاف کی نذر مان لے یا نفل اعتکاف شروع کر کے اسے پورا کیے بغیر توڑ دے۔ اس صورت میں اتنے دن کا اعتکاف واجب ہو جاتا ہے جتنے دن کی نیت کی تھی۔ اس اعتکاف میں روزہ رکھنا ضروری ہے۔
اعتکافِ سنت
رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی اگر بستی کے کچھ لوگ اعتکاف کر لیں تو سب کی طرف سے سنت ادا ہو جاتی ہے، لیکن اگر کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو پوری بستی کے لوگ گناہ گار ہوں گے۔
اعتکاف کا طریقہ
اعتکافِ مسنون کے لیے بہتر یہ ہے کہ ۲۰ رمضان کو غروبِ آفتاب سے پہلے مسجد میں داخل ہو جائے، کیونکہ غروب کے ساتھ ہی اکیسویں رات شروع ہو جاتی ہے اور اعتکاف کا ایک مقصد شبِ قدر کی تلاش بھی ہے۔
اعتکاف کی شرائط
اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں:
معتکف کا مسلمان ہونا
بالغ اور صاحبِ عقل ہونا
جنابت، حیض اور نفاس سے پاک ہونا
اعتکاف کی نیت کرنا
اعتکاف کی جگہ
مردوں کے لیے اعتکاف مسجد میں کرنا ضروری ہے۔ بہتر یہ ہے کہ ایسی مسجد میں اعتکاف کیا جائے جہاں باجماعت نماز ہوتی ہو۔
عورتوں کے لیے گھر میں نماز کی مخصوص جگہ ہی اعتکاف کی جگہ ہوگی۔ اگر گھر میں ایسی جگہ متعین نہ ہو تو کسی جگہ کو نماز اور اعتکاف کے لیے مقرر کر لیا جائے۔ عورت کے لیے شوہر کی اجازت سے اعتکاف کرنا ضروری ہے۔
اعتکاف کے آداب
اعتکاف کے دوران زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارنا چاہیے، جیسے:
قرآن مجید کی تلاوت، حدیث کا مطالعہ، دینی کتب کا مطالعہ، ذکر و دعا، علمی گفتگو، فضول گفتگو اور گناہ والی باتوں سے بچنا چاہیے۔
اعتکاف کو فاسد کرنے والی چیزیں، بلا ضرورت مسجد سے باہر نکلنا اعتکاف کو فاسد کر دیتا ہے۔ البتہ ضروری امور کے لیے نکلنا جائز ہے، جیسے: قضائے حاجت، وضو یا غسل، جمعہ کی نماز کے لیے جانا (اگر مسجد جامع نہ ہو)، کھانا لانے والا نہ ہو تو کھانے کے لیے جانا
اعتکاف میں ممنوع امور
اعتکاف کی حالت میں بیوی سے جنسی تعلق یا اس کے مقدمات (جیسے بوس و کنار) جائز نہیں۔ اگر ایسا ہو جائے تو اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے۔
رمضان المبارک کا آخری عشرہ اللہ کی رحمتوں کے نزول کا خاص وقت ہے۔ ایسے مبارک لمحات میں اعتکاف اختیار کر کے بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کی سعادت حاصل کر سکتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے