कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بلدی انتخابات2026:تلنگانہ میں کانگریس کی چمک، باقی ہندوستان میں سناٹا

تحریر:ڈاکٹرشیخ حاجی حسین
8919967033

مقامی انتخابات، یعنی بلدیاتی انتخابات، جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ یہ وہی سطح ہے جہاں عوام سب سے قریب سے اپنے روزمرہ کے مسائل جیسے پانی، صفائی، سڑکیں، روشنی، سائنی ٹیشن، اسکول، ہسپتال اور مقامی ترقی پر حکمرانی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ انتخابات صرف ووٹوں کی گنتی نہیں ہوتے، بلکہ عوام کی اطمینان، حکومت کی کارکردگی اور سیاسی پارٹیوں کی گراؤنڈ لیول طاقت کا اصل پیمانہ ہوتے ہیں۔ جب کوئی پارٹی مقامی سطح پر جیتتی ہے تو یہ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ اس کی پالیسیاں اور کام عوام کے دل تک پہنچ رہے ہیں۔ اور جب کوئی پارٹی ہار جاتی ہے تو یہ اکثر اس کی اینٹی انکمبسی، غلط فیصلوں یا عوام سے دوری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ سطح وہ جگہ ہے جہاں بڑی ریاستیں یا قومی سیاست کی جڑیں پکڑتی ہیں، اور یہاں کی کامیابی مستقبل کی بڑی لڑائیوں کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔
اسی تناظر میں فروری 2026 کا یہ ہفتہ تلنگانہ کے لیے یادگار ثابت ہوا۔ 11 فروری کو ریاست کے بلدیاتی انتخابات ہوئے، اور 13-14 فروری کو نتائج سامنے آئے تو کانگریس نے نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں اور قصبوں کے بلدیاتی علاقوں میں بھی اپنا رنگ جما لیا۔ یہ انتخابات ریاست کے شہری اور نیم شہری علاقوں کے 123 مقامی اداروں پر مشتمل تھے—سات میونسپل کارپوریشنز اور 116 میونسپلٹیز۔ کل 2,996 وارڈز تھے، جن میں سے تقریباً تمام کے نتائج آ چکے۔ کانگریس نے 1,537 وارڈز جیت لیے یعنی تقریباً 51% سے زیادہ (39.08% ووٹ شیئر کے ساتھ)۔ بی آر ایس کو 781، بی جے پی کو 260-336 (مختلف ذرائع میں معمولی فرق)، AIMIM کو 70، اور باقی دیگر کو معمولی حصہ ملا۔
یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ ان انتخابات میں گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن یعنی GHMC شامل نہیں تھا۔ GHMC کا منتخب باڈی کا دور10 فروری 2026 کو ختم ہو چکا تھا۔ حکومت نے اسے تین نئی کارپوریشنز میں تقسیم کر دیا ہے‘گریٹر حیدرآباد، سائبرآباد اور ملکاجگیری۔ یہ تقسیم ابھی جاری ہے، اور ان نئی کارپوریشنز کے انتخابات الگ شیڈول پر ہوں گے۔ اسی طرح گریٹر ورنگل اور کھمم جیسی کچھ بڑی کارپوریشنز بھی اس مرحلے میں شامل نہیں تھیں۔ اس لیے یہ نتائج صرف ان سات کارپوریشنز جیسے کریم نگر، نظام آباد، رام گنڈم، کوتہ گوڈم اور دیگر چھوٹی کارپوریشنز کے ساتھ ساتھ 116 میونسپلٹیز کے ہیں۔
میونسپلٹیز کی بات کریں تو یہ وہ علاقے ہیں جو شہروں سے لے کر بڑے قصبوں اور دیہاتوں کے قریب کے نیم شہری علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کانگریس نے ان میں سے 64-82 میں براہ راست اکثریت حاصل کر لی (زیادہ تر ذرائع 64-66 کہتے ہیں، چیئر پرسن پوسٹس کے ساتھ 82 تک)۔ بی آر ایس صرف 13-17 تک محدود رہ گئی، جبکہ 38 میونسپلٹیز میں ہنگ رہیں یعنی کوئی پارٹی اکثریت نہ لے سکی۔ یہ میونسپلٹیز ریاست کے مختلف اضلاع میں بکھری ہوئی ہیں جیسے نلگنڈہ، سوریہ پیٹ، حضور نگر، ناگر کرنول، نریدوچرلا، حضورآباد، بھوونگیری، جگن ریڈی گوڑہ وغیرہ۔ یہاں دیہاتوں اور قصبوں کے لوگ بھی ووٹ ڈالنے آئے، جہاں پانی کی قلت، صفائی کا بحران، سڑکوں کی حالت، اسکولوں اور ہسپتالوں کی کمی اور روزمرہ کے شہری مسائل نے ووٹروں کے دل جیت لیے۔ سوریہ پیٹ اور نلگنڈہ جیسی جگہوں پر کانگریس نے بی آر ایس کو بڑے فرق سے ہرا دیا، جہاں مہالکشمی، مفت بجلی اور گھر جگہ جیسی سکیموں کا براہ راست اثر نظر آیا۔ یہ اسکیمیں دیہاتوں اور نیم شہری علاقوں کے غریب گھرانوں تک بھی پہنچیں اور انہوں نے ووٹوں میں تبدیلی لانے کا کام کیا۔7 میونسپل کارپوریشنز میں سے کانگریس نے 5 پر قبضہ جما لیا۔ شمالی تلنگانہ کے کریم نگر اور نظام آباد میں بی جے پی نے تاریخی جیت حاصل کی۔یہاں پہلی بار بی جے پی نے کسی کارپوریشن میں برتری حاصل کی۔ کوتہ گوڈم جیسی جگہوں پر بھی کانگریس مضبوط رہی۔ ووٹر ٹرن آؤٹ 73.01% رہا، جو بتاتا ہے کہ نہ صرف شہری بلکہ دیہاتوں اور قصبوں کے لوگ بھی جاگ اٹھے اور تبدیلی چاہتے ہیں۔
تلنگانہ کا بلدیاتی نظام اپنی تاریخ میں ایک لمبا سفر طے کر چکا ہے۔ 2014 میں ریاست کے قیام کے بعد تلنگانہ میونسپلٹیز ایکٹ 2019 کو اپنایا گیا۔ 2016 میں پہلے بلدیاتی انتخابات ہوئے جہاں ٹی آر ایس نے غلبہ حاصل کیا۔ 2020 میں بی آر ایس نے شہری اور نیم شہری علاقوں پر قبضہ اور مضبوط کر لیا۔ مگر 2023 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت کے بعد یہ 2026 کے بلدیاتی انتخابات ریونت ریڈی حکومت کا پہلا بڑا امتحان بنے۔یہ نتائج سامنے آتے ہی مقامی اور ریاستی قائدین کے بیانات نے سیاسی فضا کو گرم کر دیا۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے فتح کی خوشی میں کہا کہ’’یہ جیت عوام کی طرف سے ہمارے چھ وعدوں کی مکمل منظوری ہے۔ ہمارا ویلفیئر ماڈل مہالکشمی، مفت بجلی، گھر جگہ اور شہری ترقی۔عوام کے دل میں اتر گیا ہے۔ یہ نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں کے قریب کے علاقوں میں بھی کامیاب ہوا۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’بی آر ایس کا زوال عوام کی ناراضگی کا نتیجہ ہے، اور اب ہم تلنگانہ کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جائیں گے۔‘‘ ریونت ریڈی کی یہ بات مقامی سطح پر کانگریس ورکرز کے لیے ایک بوسٹر کی طرح تھی، جو شہروں اور قصبوں میں جشن منا رہے تھے۔
وارڈ نتائج کے بعد، چیئر پرسن، نائب چیئر پرسن، میئر اور ڈپٹی میئر کے بالواسطہ انتخابات 16 فروری کو ہوئے، جبکہ کچھ ملتوی شدہ میونسپلٹیز میں 17 فروری کو مکمل ہوئے۔ اب تک 113 میونسپلٹیز کے چیئر پرسن نتائج اعلان ہو چکے ہیں، جن میں کانگریس نے 93 چیئر پرسن پوسٹس جیت لی ہیں (بعض ذرائع کے مطابق 86-93، اتحادیوں سمیت)۔ بی آر ایس کو 19، بی جے پی، سی پی آئی اور اے آئی ایف بی کو ایک ایک، اور 4 آزاد امیدواروں نے چیئر پرسن جیتے۔ 7 میونسپل کارپوریشنز میں کانگریس نے 5 میں میئر/ڈپٹی میئر دونوں پوسٹس حاصل کیں (جیسے محبوب نگر، منچریال، نلگنڈہ، رام گنڈم سمیت)، بی جے پی نے کریم نگر میں میئر اور ڈپٹی میئر جیتے، جبکہ بی آر ایس کو کوئی نہیں ملا۔ مجموعی طور پر کانگریس اور اتحادیوں نے 86 چیئر پرسن/میئر پوسٹس اور 84 نائب/ڈپٹی پوسٹس جیت لیں۔ کچھ جگہوں پر (جیسے تھورور اور جنگاؤں) برابر ہونے کی وجہ سے قرعہ سے فیصلہ ہوا، جہاں کانگریس کو فائدہ پہنچا۔ تین میونسپلٹیز (جیسے ابراہیم پٹنم، کیتھن پلی، خانہ پور) کے انتخابات اب بھی ملتوی ہیں۔ کچھ جگہوں پر تنازعات اور جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئیں، لیکن کانگریس کی کامیابی غالب رہی۔
قومی سطح پر کانگریس صدر راہول گاندھی نے بھی فوری طور پر ردعمل دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’’تلنگانہ کی یہ شاندار جیت کانگریس کے عوام دوست ماڈل کی فتح ہے۔ ریونت ریڈی اور ان کی ٹیم نے ثابت کیا ہے کہ ویلفیئر اور مقامی مسائل پر توجہ سے عوام کا اعتماد جیتا جا سکتا ہے۔ یہ کامیابی ہمیں قومی سطح پر مزید طاقت دے گی۔‘‘ راہل گاندھی نے یہ بھی زور دیا کہ ’’یہ نتائج بتاتے ہیں کہ جب پارٹی عوام سے جڑتی ہے تو کوئی رکاوٹ نہیں رکھ سکتی۔‘‘ ان کے بیان نے پارٹی کے اندر امید کی کرن جگا دی، خاص طور پر کرناٹک اور ہماچل پردیش جیسے دیگر حکمران ریاستوں میں۔ دوسری طرف، بی آر ایس کے رہنما کے ٹی رام راؤ (KTR) نے شکست کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ”عوام نے ہمیں سزا دی ہے، اور ہم اسے قبول کرتے ہیں۔ بی آر ایس کی بنیاد مضبوط ہے، اور ہم جلد واپس آئیں گے۔ کانگریس کی جیت عارضی ہے، کیونکہ مقامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔” KTR کا یہ بیان پارٹی کے وفاداروں کے لیے تسلی کا باعث بنا، مگر یہ واضح تھا کہ بی آر ایس کو اب شدید خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خاندانی سیاست اور پرانی حکمت عملی پر تنقید بھی کی، جو پارٹی کے اندر بحث کا باعث بن رہی ہے۔
بی جے پی کے مرکزی وزیر بنڈی سنجے نے شمالی تلنگانہ کی اپنی جیت پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ ’’کریم نگر اور نظام آباد میں بی جے پی کی تاریخی فتح تلنگانہ کی سیاست میں نئی ہوا کا جھونکا ہے۔ یہ کانگریس کی کمزوری اور بی آر ایس کے زوال کی نشاندہی کرتی ہے۔ ہمارا ہندوتوا ایجنڈا اور اینٹی کرپشن مہم عوام کے درمیان مقبول ہو رہی ہے۔‘‘ بنڈی سنجے نے کانگریس پر AIMIM سے خفیہ معاہدے کا بھی الزام لگایا، جو انتخابات سے پہلے کی تنقید تھی مگر اب نتائج کے بعد مزید گونج رہی ہے۔ مقامی بی جے پی لیڈرز، جیسے کریم نگر کے میئر امیدوار، نے یہ جیت ’’تلنگانہ میں BJP کا طلوع‘‘ قرار دیا، جو پارٹی کو 2028 اسمبلی انتخابات کے لیے حوصلہ دے رہی ہے۔
یہ جیت محض اعدادوشمار کی نہیں، ایک کہانی کی ہے۔ ریونت ریڈی کی حکومت کو دو سال ہو چکے تھے۔ مہالکشمی سکیم، مفت بجلی، گھر جگہ اور شہری مسائل جیسے پانی، صفائی، ٹریفک پر توجہ یہ سب شہری غریب اور متوسط طبقے کے ساتھ ساتھ دیہاتوں اور قصبوں کے لوگوں تک بھی پہنچے۔ بی آر ایس کی خاندانی سیاست، کرپشن کے الزامات اور شہری بنیاد کا کمزور ہونا اس شکست کی جڑیں ہیں۔ بی جے پی کی ترقی شمالی اضلاع میں ہندوتوا کے رنگ اور اینٹی بی آر ایس ووٹ کے امتزاج سے ہوئی۔
19 فروری کو دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) ہیڈکوارٹرز میں تلنگانہ وفد کے ساتھ ایک اہم ریویو میٹنگ ہوئی، جس کی صدارت کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کی۔ میٹنگ میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی، ان کی پوری کابینہ، ٹی پی سی سی صدر بی مہیش کمار گود، اور دیگر سینئر لیڈرز شریک ہوئے۔ راہل گاندھی، کے سی وینوگوپال، اور AICC کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔اس میٹنگ میں حکومت کے دو سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، خاص طور پر بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کی شاندار جیت (1,537 وارڈز، 5 میونسپل کارپوریشنز، اور 66۔82 میونسپلٹیز میں اکثریت) کو عوام کی طرف سے ویلفیئر ماڈل کی مکمل منظوری قرار دیا گیا۔ ریونت ریڈی نے بریفنگ میں مہالکشمی، مفت بجلی، گھر جگہ جیسی سکیموں کے مثبت اثرات، وعدوں پر عمل درآمد، اور باقی تین سال کا پلان پیش کیا۔ میٹنگ کا فوکس پارٹی کی تنظیم کو مزید مضبوط کرنے، گراؤنڈ لیول مومنٹم برقرار رکھنے، اور آئندہ ZPTC/MPTC انتخابات (مارچ میں متوقع) کی تیاریوں پر تھا۔یہ میٹنگ ’سنگھٹن سریجن ابھیان‘ کا حصہ ہے، جس میں مختلف ریاستوں کے ساتھ ریویوز ہو رہے ہیں۔ بی آر ایس کے ٹی ہریش راؤ نے اسے ’’تلنگانہ کی خودمختاری اور خود اعتمادی پر حملہ‘‘ قرار دے کر تنقید کی، کہتے ہوئے کہ ریاست کی کارکردگی کا جائزہ دہلی میں لینا تلنگانہ کی عزت کے خلاف ہے اور یہ ”ریموٹ کنٹرول” کی علامت ہے۔ تاہم، کانگریس لیڈرز نے اسے پارٹی کی قومی حکمت عملی اور تلنگانہ میں جاری جیت کی لہر کو مستحکم کرنے کا موقع قرار دیا۔یہ میٹنگ کانگریس کی تلنگانہ میں کامیابی کو قومی سطح پر توسیع دینے کی حکمت عملی کا اہم قدم ہے، جو مستقبل کی لڑائیوں (جیسے 2028 اسمبلی اور لوک سبھا) کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
لیکن جب تلنگانہ کی یہ روشنی باقی ہندوستان کی طرف دیکھیں تو منظر بالکل الٹ ہے۔ ایک گہرا، خاموش سناٹا۔ آج فروری 2026 میں کانگریس صرف تین ریاستوں میں براہ راست اقتدار میں ہے—تلنگانہ، کرناٹک اور ہماچل پردیش۔ باقی پچیس ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں یا تو بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کا راج ہے، یا علاقائی پارٹیاں، یا کانگریس محض اپوزیشن بینچوں پر بیٹھی ہے۔ 2025 کا سال کانگریس کے لیے ایک طویل رات کی طرح گزرا۔ بہار میں صرف چھ سیٹیں، دہلی میں صفر۔ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، گجرات، راجستھان، مہاراشٹریہ سب جگہیں جہاں کانگریس کی آواز گونجتی بھی ہے تو بہت کمزور۔ 2024 کے لوک سبھا میں 99 سیٹوں نے کچھ امید جگائی تھی، مگر اب وہ امید بھی دھندلی پڑتی جا رہی ہے۔قومی سطح پر کانگریس کی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں۔ لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی بجٹ سیشن 2026 کے دوران حکومت پر مسلسل تنقیدیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے انڈیا-یو ایس انٹرام ٹریڈ ڈیل کو ایک طرفہ قرار دیا اور کہا کہ کیا آپ شرم نہیں کرتے کہ بھارت ماتا کو بیچ رہے ہیں؟ انہوں نے کسانوں کے وفد سے ملاقات کی، بجٹ بحث میں حصہ لیا اور عالمی عدم استحکام، انرجی اور فنانشل ویپنائزیشن جیسے مسائل اٹھائے۔ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ امریکہ پاکستان کے آرمی چیف کو اعلیٰ سطح پر مدعو کر رہا ہے تو ہندوستان کو اس کا واضح جواب دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یونین منسٹر ہاردیپ سنگھ پوری پر جیفری ایپسٹین کیس سے لنک کے الزامات لگائے، جس پر بی جے پی کی طرف سے پرائیویلیج نوٹس اور اخراج کی مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔کانگریس کا قومی موقف اب زیادہ جارحانہ اور عوام مرکز بن گیا ہے۔ پارٹی معیشت، کسانوں کی حالت، بے روزگاری اور خارجہ پالیسی پر مسلسل حکومت کو گھیر رہی ہے۔ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا کی باقیات اب بھی جاری ہیں، جہاں پارٹی غریبوں، اقلیتوں اور کسانوں کے حقوق کی بات کر رہی ہے۔ ٹریڈ ڈیل پر کانگریس کا موقف واضح ہے کہ یہ ہندوستانی کاٹن فارمرز اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو نقصان پہنچائے گا۔ بجٹ 2026-2027 پر بحث میں راہل گاندھی نے کہا کہ یہ بجٹ غریبوں کے لیے نہیں بلکہ کارپوریٹس کے لیے ہے۔عوامی رائے کیا ہے؟ انڈیا ٹوڈے سی ووٹر کے موڈ آف دی نیشن سروے جنوری 2026 کے مطابق پچپن فیصد لوگ کانگریس کو حقیقی اپوزیشن مانتے ہیں۔ راہل گاندھی کو وزیر اعظم کے طور پر منتخب کرنے والوں کی تعداد 27 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ تلنگانہ کی جیت کو راہل گاندھی نے ویلفیئر ماڈل کی منظوری قرار دیا ہے، اور عوام میں بھی یہ تاثر ہے کہ جہاں کانگریس حکمران ہے، وہاں اسکیموں کا اثر دکھتا ہے۔ ماہرین کی رائے میں بھی یہ امید اور حقیقت کا امتزاج ہے۔ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ راہل کی پارلیمنٹری حکمت عملی آپٹکس تو اچھی ہے مگر ووٹوں میں تبدیلی نہیں لاتی۔ تلنگانہ کے نتائج کو دیکھ کر ماہرین کا کہنا ہے کہ ویلفیئر اسکیمز اور مقامی قیادت جب مل جائیں تو جیت ممکن ہے، مگر قومی سطح پر تنظیم کا زوال، اتحادوں کے جھگڑے اور بی جے پی کی مضبوط مشینری اب بھی بڑی رکاوٹیں ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا تلنگانہ کی یہ ترقی یہ چمک پورے ملک میں پھیل سکتی ہے؟ کیا یہ مقامی کامیابی قومی بحالی کی بنیاد بن سکتی ہے؟ ماہرین اور قائدین دونوں کا خیال ہے کہ ہاں، مگر اس کے لیے کچھ ٹھوس تجاویز اور حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، کانگریس کو تلنگانہ کا ویلفیئر ماڈل جیسے مہالکشمی جیسی خواتین کو مالی مدد، مفت بجلی اور گھر جگہ کو قومی سطح پر اپنانا چاہیے۔ راہل گاندھی کی طرح، پارٹی کو ’’عوام مرکز‘‘ بیانیہ کو مزید مضبوط کرنا ہوگا، جہاں غریب، کسان اور نوجوانوں پر فوکس ہو۔ دوسرا، تنظیم کی مضبوطی بڑی ریاستوں جیسے اتر پردیش، بہار اور مہاراشٹر میں بوتھ لیول ورکرز کو فعال کرنا، نوجوان لیڈرز جیسے دیپیکا پدوکون یا سوپرنیا سرما کو پروموٹ کرنا۔ تیسرا، INDIA بلاک کو بچانا: تنازعات ختم کر کے سیٹ شیئرنگ اور پاور ڈیلوں کو شفاف بنانا، جیسے تامل ناڈو میں DMK کے ساتھ۔ چوتھا، سوشل میڈیا اور گراؤنڈ کام کا امتزاج: تلنگانہ کی طرح، مقامی مسائل پر مہم چلانا اور راہل کی یاتراوں کو مسلسل رکھنا۔ آخر میں، 2026 کے آنے والے انتخابات آسام، کیرالہ، ویسٹ بنگال کو ٹارگٹ کر کے ’’تلنگانہ ماڈل‘‘کو ٹیسٹ کرنا، تاکہ 2028-29 کی لوک سبھا لڑائی میں قومی سطح پر واپسی ممکن ہو۔ اگر یہ سب ہو جائے تو تلنگانہ کی چمک پورے ہندوستان کو روشن کر سکتی ہے، ورنہ یہ صرف ایک مقامی کہانی رہ جائے گی۔
تلنگانہ کی یہ چمک امید کی ایک کرن ضرور ہے۔ ایک چھوٹی سی روشنی جو بتاتی ہے کہ اگر محنت، ویلفیئر اور مقامی مسائل پر توجہ ہو تو جیت ممکن ہے۔ تاریخی طور پر دیکھیں تو آزادی کے بعد کانگریس کی بری حالت کے ادوار میں (جیسے Emergency کے بعد اور 1980-90 کی دہائیوں میں) متحدہ آندھرا پردیش (جس میں تلنگانہ شامل تھا) نے پارٹی کو بہت مضبوط سپورٹ ملا تھااس ریاست کوکانگریس کا’’قلعہ‘‘سمجھا گیا جہاں سے پارٹی کو لوک سبھا میں بڑی تعداد میں سیٹیں ملیں اور مرکزی حکومتوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ اب تلنگانہ کی یہ نئی جیت اور ریونت ریڈی کی قیادت شاید دوبارہ وہی کردار ادا کرے، جہاں یہ علاقہ کانگریس کی قومی بحالی کا ذریعہ بن جائے۔ مگر باقی ہندوستان میں پھیلا یہ سناٹا بھی اتنا ہی حقیقت ہے۔ کانگریس کو اب نئی حکمت عملی، نوجوان خون اور عوام سے دوبارہ جڑنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ یہ چمک بھی ایک دن مدھم پڑ سکتی ہے۔ وقت ابھی ہے، مگر گھڑی تیزی سے چل رہی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے