कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

1900 سے 1920 تک اردو اخبارات کا تفصیلی تجزیہ

تحریر:منجیت سنگھ
اسسٹنٹ پروفیسر اردو
کروکشیتر یونیورسٹی، کروکشیتر

انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستانی معاشرہ ایک بڑے سماجی، سیاسی اور ثقافتی تغیر کے دور سے گزر رہا تھا۔ اسی زمانے میں اردو صحافت نے بھی اپنی ترقی کا ایک اہم مرحلہ دیکھا۔ 1900 سے 1920 تک کا زمانہ اردو اخبارات کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس عرصے میں صحافت صرف خبروں کی اشاعت تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ سماجی بیداری، سیاسی شعور اور ثقافتی ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ بن گئی۔ اس دور میں اردو اخبارات نے عوام میں شعور، آگاہی اور بیداری پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان انگریزی حکومت کے زیرِ اقتدار تھا۔ برطانوی حکومت کی پالیسیاں ہندوستانی معاشرے پر گہرا اثر ڈال رہی تھیں۔ ایسے حالات میں اردو اخبارات نے عوام کے خیالات اور جذبات کو اظہار دینے کا کام کیا۔ ان اخبارات کے ذریعے لوگوں کو سیاسی حالات، سماجی اصلاحات اور قومی تحریکوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی تھیں۔ اردو صحافت کا یہ دور صرف خبروں کا دور نہیں تھا بلکہ یہ فکر و نظر کو فروغ دینے کا بھی زمانہ تھا۔
1900 کے بعد اردو اخبارات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مختلف شہروں جیسے لاہور، دہلی، لکھنؤ، علی گڑھ، کلکتہ اور حیدرآباد سے کئی اہم اردو اخبارات شائع ہونے لگے۔ ان اخبارات میں سیاسی، سماجی، ادبی اور تعلیمی موضوعات پر مضامین شائع ہوتے تھے۔ اس زمانے کے مدیر صرف صحافی ہی نہیں بلکہ سماجی مصلح اور مفکر بھی تھے۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے میں اصلاح اور ترقی کے جذبے کو فروغ دیتے تھے۔
1900 سے 1920 کے درمیان اردو اخبارات نے قومی تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ جب ہندوستانی عوام میں آزادی کی خواہش بڑھنے لگی تو اردو اخبارات نے اس جذبے کو مزید مضبوط کیا۔ ان اخبارات کے اداریوں میں انگریزی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی جاتی تھی اور عوام کو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا جاتا تھا۔ اس زمانے کے بہت سے مضامین میں آزادی، حق، انصاف اور قومی اتحاد جیسے الفاظ بار بار نظر آتے ہیں۔
اس دور میں اردو اخبارات کی زبان اور اسلوب بھی خاص طور پر قابلِ ذکر تھا۔ صحافی اپنی تحریروں میں سادہ اور مؤثر زبان استعمال کرتے تھے جس میں ہندی اور فارسی الفاظ کے ساتھ ساتھ عربی ماخذ کے الفاظ بھی شامل ہوتے تھے۔ اس طرح اردو صحافت کی زبان ایک طرف ادبی رنگ رکھتی تھی اور دوسری طرف عوامی زبان کے قریب بھی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان اخبارات کے قارئین کی تعداد مسلسل بڑھتی گئی۔
1905 میں بنگال کی تقسیم کا واقعہ ہندوستانی سیاست میں ایک نیا موڑ لے کر آیا۔ اس واقعے کا اثر اردو اخبارات پر بھی پڑا۔ کئی اخبارات نے اس فیصلے پر تنقید کی اور اسے برطانوی حکومت کی “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔ اردو اخبارات نے اس موضوع پر متعدد مضامین شائع کیے اور عوام کو اتحاد قائم رکھنے کا پیغام دیا۔ اس طرح صحافت صرف خبر دینے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ سیاسی نظریات کے اظہار کا ایک اہم پلیٹ فارم بھی بن گئی۔
1910 کے آس پاس برطانوی حکومت نے پریس پر کنٹرول بڑھانے کے لیے کئی قوانین نافذ کیے۔ ان قوانین کا مقصد ان اخبارات کو روکنا تھا جو حکومت پر تنقید کرتے تھے۔ اس کے باوجود اردو صحافیوں نے اپنی ہمت اور جرأت کا مظاہرہ کیا اور سچائی کو سامنے لانے کی کوشش جاری رکھی۔ کئی مدیران کو جرمانوں اور قید کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے اپنی صحافتی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنا قبول نہیں کیا۔
1914 میں پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی جس کا اثر ہندوستان پر بھی پڑا۔ اس زمانے میں اردو اخبارات نے جنگ سے متعلق خبروں اور تجزیوں کو نمایاں طور پر شائع کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جنگ کا ہندوستان کی معیشت اور معاشرے پر کیا اثر پڑ سکتا ہے۔ ان مضامین میں اکثر سیاست، معیشت اور عالمی حالات جیسے موضوعات پر گفتگو کی جاتی تھی۔
1919 کا سال ہندوستانی تاریخ میں انتہائی اہم تھا۔ اسی سال جلیانوالہ باغ کا سانحہ پیش آیا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اردو اخبارات نے اس واقعے کی سخت مذمت کی اور اسے انسانیت کے خلاف ایک بڑا ظلم قرار دیا۔ بہت سے اداریوں میں ظلم، استبداد اور انسانیت جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے برطانوی حکومت کی پالیسیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ ان تحریروں نے عوام کے دلوں میں آزادی کی خواہش کو مزید مضبوط کر دیا۔
1919 کے بعد مہاتما گاندھی کی قیادت میں عدم تعاون تحریک کا آغاز ہوا۔ اردو اخبارات نے اس تحریک کی بھرپور کوریج کی اور عوام کو اس میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ بہت سے مضامین میں قومی یکجہتی، حریت اور انقلاب جیسے الفاظ استعمال کیے گئے۔ اس طرح اردو صحافت قومی تحریک کا ایک اہم حصہ بن گئی۔
1900 سے 1920 کے دوران اردو اخبارات نے صرف سیاست ہی نہیں بلکہ سماج اور ثقافت کے میدان میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان اخبارات میں تعلیم، خواتین کی اصلاح، سماجی برائیوں اور ادبی سرگرمیوں کے بارے میں بھی مضامین شائع ہوتے تھے۔ کئی تحریروں میں اس بات پر زور دیا جاتا تھا کہ معاشرے کی ترقی کے لیے تعلیم اور اخلاقی اقدار کا فروغ ضروری ہے۔ اس طرح اردو صحافت معاشرے میں اخلاق اور تہذیب کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بھی بنی۔
اس دور میں اردو اخبارات نے ادب کی ترقی میں بھی اہم حصہ لیا۔ بہت سے مشہور شعرا اور ادیبوں کی تحریریں اخبارات میں شائع ہوتی تھیں۔ ان تحریروں کے ذریعے قارئین کو ادبی لطف کے ساتھ ساتھ سماجی اور سیاسی خیالات بھی حاصل ہوتے تھے۔ اس طرح اردو اخبارات ادب اور صحافت کے درمیان ایک پل کا کام کر رہے تھے۔
اگرچہ اس زمانے میں اردو صحافت کو کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مالی وسائل کی کمی، سرکاری سنسرشپ اور طباعت کی تکنیکی حدود اس کی ترقی میں رکاوٹ بنتی تھیں۔ اس کے باوجود صحافیوں کی محنت اور لگن کی وجہ سے اردو اخبارات مسلسل شائع ہوتے رہے۔ یہ ان کے جذبۂ خدمت اور عزم و ہمت کا واضح ثبوت تھا۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 1900 سے 1920 کا زمانہ اردو صحافت کی تاریخ میں نہایت اہم اور اثر انگیز رہا۔ اس عرصے میں اردو اخبارات نے صرف خبریں فراہم نہیں کیں بلکہ انہوں نے معاشرے میں سیاسی شعور، سماجی اصلاح اور ثقافتی ترقی کو فروغ دیا۔ ان اخبارات کے ذریعے عوام کو اپنے حقوق اور فرائض کا شعور ملا اور آزادی کے جذبے کو تقویت ملی۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس دور کی اردو صحافت ہندوستانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس نے عوام کے درمیان آگاہی، اتحاد اور آزادی کے جذبے کو مضبوط کیا اور قومی تحریک کو فکری بنیاد فراہم کی۔ اردو اخبارات کی یہ روایت آج بھی صحافت کے میدان میں ایک اہم ذریعۂ تحریک سمجھی جاتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے