कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

نفس کُش اور نفس کیش

تحریر: معاذ حیدر

’’اطاعت شعاری” اور "خواہش پرستی” جدا جدا راہیں ہیں، قرآن نے دونوں کو ایک دوسرے سے الگ قرار دیا ہے، اطاعت کا سرچشمہ "آسمانی ہدایت” ہے، اس کی انتہا جنت ہے،‌ اس کی پیروی سے عبدیت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، دلوں میں خشیتِ الہی کی کیفیت حاصل ہوتی ہے، اس کا سرا حضورِ اکرم ﷺ سے ملتا ہے، "نورِ وحی” کے بغیر اس کی دریافت ناممکن ہے، "ایمان” کے بغیر اس میں یقینِ کامل کا حصول مشکل ہے، "اطاعت کیش” ہی درحقیقت خدا پرست ہے۔
‌‌ بسا اوقات ہوی پرستوں کو خدا پرستی کا مغالطہ ہوجاتا ہے، یہ حضرات دعواۓ حقانیت میں دلیر ہوتے ہیں، جب کہ "ہوی پرستی” کا سرا شیطان سے ملتا ہے، اس کی انتہا "دوزخ” ہے، اس میں حاکمیت کا زعم پیدا ہوتا ہے،‌ بے خوفی جنم لیتی ہے، "سماوی روشنی” سے محروم کردیا جاتا ہے، اپنے اعمال کی بدتری میں اچھائی سمجھ میں آنے لگتی ہے، حقیقت میں یہ ایک لاعلاج بیماری ہے۔
نتیجۃً "دل” حق بینی اور حق فہمی کی صلاحیت کھو دیتا ہے، اس کے "مسموم اثرات” گھن کی طرح اندر ہی اندر "ایمان” کو کھائے جاتے ہیں، اس وادی میں قدم رکھنے والا کچھ دور چل کر وساوس اور شبہات کی جھاڑیوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے، قوتِ فہم سلب ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے خلافِ طبع شرعی باتوں میں اس کی کیفیت "تسلیم نما انکار” کی ہوتی ہے، "اسبابِ ہدایت” اس کے حق میں معطل ہوجاتے ہیں، الغرض اس مرض کے اثرات غیر معمولی ہیں، اس کی رنگینیت اپنے اندر برقی تاثیر رکھتی ہے، اس میں تعدیہ کا وصف بھی پایا جاتا ہے۔
اس نوع کے مریض کی عیادت سے بھی ہمیں گریز کرنا چاہیے، کیوں کہ ان کی صحبت شبہ پیدا کرتی ہے، ان کی باتیں دل میں فتنے کا بیج ڈالتی ہے، شریعت کی نگاہ میں یہ طبقہ بالکل بے حیثیت ہے، ” وحیِ حقیقی” نے ان کی باتوں کو "اساطیرِ اولین” کہہ کر محتاجِ نقد بھی نہیں سمجھا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے