कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اتحاد، یا صرف نظریاتی بحث

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی : 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

سرسید احمد خان کا یہ جملہ بظاہر آگ سے متعلق ہے، ان کی کتاب اسباب بغاوت کے تناظر میں ہے۔ جو جنگ کے مقاصد کو بیان کرتا ہے۔ ایک بہترین مثال دے کر سمجھایا گیا ہے۔ اگر کہیں آگ لگ جاتی ہے تو یہ وقت سوال کا نہیں ہوتا کہ آگ کیسے لگی؟ کس نے لگایا؟ یا کیوں لگی؟ بلکہ وہ وقت ہوتا ہے کہ آگ کو کسی طرح قابو میں لایا جائے۔ اور بلا تفریق مذہب و ملت جانی اور مالی نقصان کو کیسے بچایا جائے، اور انسانیت کا تحفظ کیسے کیا جائے۔ قرآن میں اللہ نے ذکر کیا ہے کہ کسی نے ایک نفس کا قتل کیا ہے تو گویا اس نے انسانیت کا قتل کیا ہے۔ اور اگر کسی نے کسی کی عزت و آبرو کی حفاظت کی تو گویا کہ اس نے ساری انسانیت کی بقا اور حفاظت کی۔ اسلام امن اور امان کا مذہب ہے، اور امن کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام کبھی بھی یہ حکم نہیں کرتا کہ تم لوگوں کو اذیت یا تکلیف دو۔ البتہ حق کے خاطر اور ظالم کے خلاف کمر بستہ ہو کر کھڑے رہنے کا حکم کرتا ہے۔ آج اسلام اور اس کے ماننے والوں کو نت نئے چیلنجز اور ہتھکنڈوں اور منظم پالیسیوں کا سامنا ہے، جو وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں۔ فلسطین پر ظلم دہائیوں سے درپیش ہے، جہاں اسرائیلیوں کے ہاتھوں فلسطینی معصوم عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، اور قتل کا ننگا ناچ ہو رہا ہے۔ آج فلسطینی عوام نانِ شبینہ کو محتاج ہیں۔ ادویات اور غذا کی عدم دستیابی سے ہزاروں کی اموات واقع ہو رہی ہیں۔ لیکن ہم صرف نظریاتی بحث میں مبتلا ہیں۔ آج وقت کی سب سے بڑی اور اشد ضرورت یہ ہے کہ امت کی مزید کوئی تقسیم نہ ہو، جو ہماری ترقیات میں رکاوٹ ہو اور نقصان کا مترادف ہو۔ امت میں فرقوں کی تقسیم امتِ مسلمہ کی تخریب کاری کا سبب ہے۔ خدا را ایک ہو جاؤ، اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو، اور آپس میں انتشار سے بچو۔ آج سب سے زیادہ انسانیت کو محبت اور ہمدردی درکار ہے۔ آج سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز بیانات اور نظریاتی بحث کو وائرل کرنے سے اجتناب کریں۔ ہمیں مسجد اقصیٰ کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ آج ہم ایسے وقت میں نظریاتی بحث کو شیئر کر کے اپنے ہی پیر پر کلہاڑی کا وار کر رہے ہیں، اور امت کی ساکھ کو مجروح کر رہے ہیں۔
ایک ہو جائیں تو بن سکتے ہیں خورشید و مبیں
ورنہ ان بکھرے ہوتے تاروں سے کیا بات بنے
یقیناً آج یہ وقت نہیں ہے کہ ہم شیعہ سنی، اور سنی شیعہ کے مسلکی تناظر میں بحث و مباحثہ کریں، بلکہ یہ نادانی اور حماقت کے مترادف ہے، اور دشمنانِ اسلام کو مزید موقع فراہم کرنا ہے۔ ایک طرف مسلمانانِ عالم ایران کے ہاتھوں ظالم اسرائیل کی تباہی دیکھنا چاہتے ہیں، وہیں دوسری جانب ایران کے عقیدہ اور نظریات کو موضوعِ بحث بنائے ہوئے ہیں۔ خود تو کچھ کر نہیں سکتے، اور دوسروں کو بھی کچھ کرنے نہیں دیتے، جو ایک ٹریجڈی اور المیہ ہے۔ ہم اس مذہب کو ماننے والے ہیں جس مذہب کے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنوں کو بھی معاف کیا، اور عفو و صفح سے کام لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلام پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور ساری دنیا پر آشکار ہے۔ مزید برآں ہمیں ہمارے درمیان نظریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد اور اجتماعیت کو فوقیت دینا ہوگا، جبکہ آج ہم میں اتحاد مفقود نظر آتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن تعلیم کہ غیر مسلم پڑوسی کے دکھ و درد میں شریک رہو، اور اگر وہ مر جائے تو اس کے اہلِ خانہ سے غمخواری اور ہمدردی جتاؤ۔ ہماری ناکامی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اتحاد کی بات تو کرتے ہیں، لیکن متحد نہیں ہوتے۔ شیعہ سنی اور سنی شیعہ یہ ہمارا اندرونی مسئلہ ہے، ورنہ ایرانی بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔ اور یہ مسئلہ ہمیں ہی حکمت اور موعظت کے ساتھ حل کرتے رہنا ہے۔ ایرانی ہمارے بھائی ہیں۔ ایران پر حملہ اسلام پر حملہ کے مترادف ہے۔ اسرائیل جو کم و بیش 75 سالوں سے معصوم فلسطینیوں پر ظلم و بربریت کر رہا ہے، اور اتنے طویل عرصہ میں کوئی بھی مسلم ملک نے اس کے سد باب کے لیے پیش رفت نہیں کی۔ زمین کے نقشہ پر ایران ہی اکیلا ہیرو ہے جس نے امریکہ اور اسرائیل سے دو بدو اور آنکھ میں آنکھ ڈال کر مظلوموں کی حمایت کی۔ جبکہ دیگر مسلم ممالک خوابِ غفلت اور عیش و عشرت میں مست ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے سر پر جوں بھی نہیں رینگتی۔ ہاں اپنے ذاتی مفادات اور مقاصد کی بنیاد پر اہلِ مغرب سے یارانہ کیے ہوئے ہیں، جو اسلام میں جائز نہیں۔ ہم نے اہم کو غیر اہم، اور غیر اہم کو اہم بنا دیا۔ ہم وہ قوم ہیں جو اسرائیل کو صرف دعا سے ہلاک کرتے ہیں، اور اپنے بھائی کو خنجر گھونپتے ہیں۔ ہم ایک خدا کو ماننے والے ضرور ہیں، لیکن کئی مسلک اور کئی نظریات اور فرقوں میں منقسم ہیں۔ اور جو کئی خداؤں کو ماننے والے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد ہیں، اسلام کو زک پہنچانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ ہم اتحاد کا سبق پڑھانے والے ہی امت میں تقسیم اور بٹوارہ کر رہے ہیں۔ اور یقیناً شیطان تمہارے درمیان وسوسے ڈال کر تمہارے درمیان عداوت اور دشمنی کو بڑھاتا ہے۔ ایک عربی کی کہاوت ہے: "اذا تعارضا تساقطا” یعنی جب دو چیزیں آپس میں تصادم کرتی ہیں یا ٹکراتی ہیں تو لازم ہے کہ دونوں ختم ہو جائیں یا دونوں کو نقصان پہنچ جائے۔ ہمیں آپس میں دو بدو یا نظریاتی بحث چھیڑنے کے بجائے اپنی شناخت اور اسلامی ساکھ کو مضبوط رکھنا چاہیے۔ شیعہ سنی نظریات کی بحث میں مبتلا نہ ہوتے ہوئے یکجہتی اور اتحاد کا ثبوت پیش کریں، جس سے دشمن کی ہوا اکھڑ جائے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم دنیا میں اتفاق و اتحاد کا مظہر بن جائیں۔ امام آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت اسلام کے عروج کا سبب بنے۔ اللہ اسلام کو سربلندی عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے