कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انسانی جنین کی تخلیق: قرآنی بیانیہ اور جدید سائنسی تحقیق

از قلم : عارف محمد خان

انسانی زندگی کا آغاز ایک نہایت باریک حیاتیاتی عمل سے ہوتا ہے، مگر اس کی تکمیل ایک پیچیدہ اور منظم ارتقائی سفر کے ذریعے ہوتی ہے۔ چودہ سو سال قبل نازل ہونے والی قرآن مجید نے انسانی تخلیق کے جن مراحل کا ذکر کیا، جدید علمِ جنین (Embryology) نے انہی مراحل کو تجرباتی تحقیق اور مائیکروسکوپی مشاہدات کے ذریعے واضح کیا ہے۔ اس مضمون میں ہم قرآنی آیات اور سائنسی شواہد کو یکجا انداز میں پیش کرتے ہیں۔
1) حیاتیاتی بنیاد: پانی اور کیمیائی عناصر
قرآن اعلان کرتا ہے۔
وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ
(الأنبياء 21:30)
سائنسی اعتبار سے انسانی جسم تقریباً 60–70 فیصد پانی پر مشتمل ہے۔ خلیاتی (cellular) سطح پر تمام حیاتیاتی کیمیائی عمل پروٹین سازی، ڈی این اے کی نقل (replication)، میٹابولزم پانی کے ماحول میں انجام پاتے ہیں۔ مزید برآں، انسانی جسم کے عناصر (کاربن، آکسیجن، نائٹروجن، کیلشیم وغیرہ) زمین کے ہی عناصر سے ماخوذ ہیں، جس کی طرف قرآن نے “تراب/طین” کے الفاظ سے اشارہ کیا۔
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ
(المؤمنون 23:12)
2) نطفہ: جینیاتی امتزاج اور “قرارِ مکین”
إِنَّا خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن نُّطْفَةٍ أَمْشَاجٍ…
(الإنسان 76:2)
“نطفۂ اَمشاج” سے مراد ملے جلے جرثومے ہیں یعنی مرد کے اسپرْم اور عورت کے اووم (ovum) کا امتزاج۔ جدید حیاتیات کے مطابق فرٹیلائزیشن (fertilization) کے لمحے میں 23+23 کروموسوم مل کر 46 کروموسومز کا زائیگوٹ (zygote) بناتے ہیں، جس میں بچے کا مکمل جینیاتی نقشہ (genome) محفوظ ہوتا ہے۔
ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ
(المؤمنون 23:13)
“قرارِ مکین” رحم (uterus) کی اس محفوظ گہا کی طرف اشارہ ہے جہاں زائیگوٹ مسلسل خلیاتی تقسیم (cleavage) کے بعد بلاسٹو سسٹ (blastocyst) بن کر جا ٹھہرتا ہے۔
3) علقہ: چمٹنا اور ابتدائی امپلانٹیشن
خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ
(العلق 96:2)
“علق” کے لغوی معنی چمٹنے والی چیز یا جونک سے مشابہ ہیں۔ حیاتیاتی طور پر بلاسٹو سسٹ رحم کی دیوار میں implant ہوتا ہے اور ٹروفوبلاسٹ خلیات (trophoblast cells) نالی دار ساختیں بنا کر ماں کے خون سے غذائی تبادلہ شروع کرتے ہیں۔ اس مرحلے میں جنین کا حجم ملی میٹرز میں ہوتا ہے، مگر اس کی ساخت فعال اور مربوط ہوتی ہے۔
4) مضغہ: ساختی خاکہ اور سومیٹائٹس
فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً…
(المؤمنون 23:14)
“مضغہ” یعنی چبایا ہوا لوتھڑا۔ ایمبریالوجی کے مطابق تیسرے تا چوتھے ہفتے میں جنین پر سومیٹائٹس (somites) کی قطاریں بنتی ہیں، جو ریڑھ کی ہڈی اور پٹھوں کے ابتدائی خدوخال کا نقشہ تیار کرتی ہیں۔ خوردبین میں یہ ابھار ایسے دکھائی دیتے ہیں جیسے کسی نرم شے پر دانتوں کے نشانات ہوں—جو لفظ “مضغہ” کے تصور سے مطابقت رکھتے ہیں۔
سورۂ حج اس مرحلے کی جزئیات یوں بیان کرتی ہے۔
…ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ مِن مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ…
(الحج 22:5)
“مُّخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ” اس امر کی طرف اشارہ سمجھا جاتا ہے کہ کچھ بافتیں واضح بن رہی ہوتی ہیں جبکہ کچھ ابھی نامکمل ہوتی ہیں یعنی organogenesis کا تدریجی عمل۔
5) ہڈیوں اور عضلات کی تشکیل
فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا…
(المؤمنون 23:14)
سائنسی تحقیق بتاتی ہے کہ پہلے کارٹیلیج (cartilage) کا سانچہ بنتا ہے، پھر اس میں ہڈی سازی (ossification) ہوتی ہے، اور ساتھ ہی عضلاتی بافت (muscle tissue) تشکیل پاتی ہے جو ڈھانچے کو “کسوت” یعنی لباس کی طرح ڈھانپتی ہے۔ یہ مرحلہ جنین کو واضح انسانی خدوخال دیتا ہے۔
6) “خلقًا آخر”: اعصابی نظام اور فعالیّت
ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ
(المؤمنون 23:14)
اس فقرے کو بہت سے مفسرین اس مرحلے سے جوڑتے ہیں جب اعصابی نظام (central nervous system) فعال ہوتا ہے، دل کی دھڑکن منظم ہوتی ہے اور جنین ایک مربوط حیاتیاتی وجود کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ جدید الٹراساؤنڈ اور فِیٹل مانیٹرنگ اس فعالیّت کو واضح دکھاتے ہیں۔
7) مدتِ حمل، پیدائش اور بعد از پیدائش نشوونما
وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا…
(الأحقاف 46:15)
حمل کی اوسط مدت تقریباً 38–40 ہفتے (تقریباً 9 ماہ) ہے۔ قرآن ماں کی مشقت کا بھی ذکر کرتا ہے۔
حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ…
(لقمان 31:14)
پیدائش کے بعد نشوونما کے مراحل طفولیت، بلوغت اور بڑھاپابھی بیان ہوئے۔
ثُمَّ نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوا أَشُدَّكُمْ…
(الحج 22:5)
سائنسی و فکری ہم آہنگی
جدید ایمبریالوجی خلیاتی تقسیم، جینیاتی کوڈنگ، امپلانٹیشن، آرگینو جینیسیس، اوسِفیکیشن ان تمام مراحل کو تجرباتی شواہد سے ثابت کرتی ہے۔ قرآنی بیانیہ ان مراحل کو سادہ مگر بامعنی الفاظ میں پیش کرتا ہے: نطفہ → علقہ → مضغہ → عظام → لحم → خلقًا آخر۔
یہ ہم آہنگی قرآن کے سائنسی اعجاز کی دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے، تاہم سائنسی میگزین کے تناظر میں اہم نکتہ یہ ہے کہ مذہبی متن انسان کو غور و فکر، مشاہدہ اور تحقیق کی دعوت دیتا ہےاور یہی دعوت جدید سائنس کی روح بھی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے