कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سنت کی آڑ میں بے احتیاطی: سوشل میڈیا، پردہ اور دینی شعور کا تقاضا

از قلم: ڈاکٹر مولانا محمد عبدالسمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
رابطہ: 9325217306

چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک خبر غیر معمولی طور پر زیرِ بحث ہے کہ ایک 65 سالہ حکیم صاحب نے 26 سالہ خوبرو مطلقہ خاتون سے نکاح کیا ہے۔ دونوں عاقل و بالغ ہیں، دونوں اپنی مرضی اور اختیار رکھتے ہیں، اس لیے شرعی اعتبار سے اس نکاح میں کوئی قباحت نہیں۔ شریعت نے بالغ افراد کو اپنی پسند سے نکاح کا حق دیا ہے، اور یہی اسلام کی وسعت اور فطری مزاج کی دلیل ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو اس نکاح پر اعتراض یا طنز و تمسخر کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ معاشرے کو ایسے معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
عام طور پر ایک کہاوت بھی زبان زد خاص و عام ہے کہ “میاں بیوی راضی تو کیا کرے قاضی”، جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نکاح دو افراد کا باہمی معاہدہ ہے، نہ کہ عوامی تماشا۔ اس لیے عمر کے فرق کو بنیاد بنا کر اس نکاح کو موضوعِ مذاق بنانا یا اسے غیر معمولی واقعہ قرار دینا درست نہیں۔ اسلام میں بیوہ اور مطلقہ خواتین کے نکاح کو نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر قرار دیا گیا ہے، تاکہ معاشرہ پاکیزگی، تحفظ اور استحکام کی طرف بڑھے۔
تاہم اس واقعے کا ایک دوسرا پہلو زیادہ اہم اور قابلِ توجہ ہے، جس نے عوام میں بحث کو جنم دیا ہے۔ حکیم صاحب نے اس نکاح کو “سنت پر عمل” قرار دیا، لیکن اسی کے ساتھ اپنی نئی نویلی اہلیہ کی تصاویر اور ویڈیوز مختلف زاویوں سے بنا کر سوشل میڈیا پر نشر کیں، انٹرویوز دیے اور اس معاملے کو شہرت اور منافع کے ایک ذریعہ میں بدل دیا۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر سنجیدہ اور دیندار طبقے کو غور کرنا چاہیے۔
یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام میں پردہ صرف ایک سماجی رسم نہیں بلکہ ایک واضح شرعی حکم ہے۔ پردہ واجب ہی نہیں بلکہ فرض ہے، اور اس کی خلاف ورزی گناہ ہے۔ نکاح کے بعد عورت کی عزت و عصمت کی حفاظت شوہر کی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں اپنی اہلیہ کو سوشل میڈیا کی نمائش بنانا، بے پردگی کو فروغ دینا اور اسے تفریح یا کمائی کا ذریعہ بنانا نہ سنت ہے اور نہ ہی دینداری کا تقاضا۔ سنت پر عمل صرف نکاح تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں حیا، وقار اور ذمہ داری کو اختیار کرنا بھی سنت کا حصہ ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے واقعی سنت کی نیت سے نکاح کیا تھا تو کیا اس کے بعد اپنی نجی زندگی کو عوامی تماشا بنانا بھی سنت میں شامل ہے؟ کیا رسولِ اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی نمائش، تشہیر اور واہ واہی کا ذریعہ تھی؟ یقیناً نہیں۔ آپ ﷺ نے حیا، پردہ اور نجی معاملات کی حفاظت کو ہمیشہ ترجیح دی۔ اس لیے سنت کے نام پر صرف ایک عمل کو اختیار کرنا اور باقی تعلیمات کو نظر انداز کرنا ایک خطرناک رجحان ہے۔
اس واقعے کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے عوام میں دین کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہوتا ہے۔ لوگ دین کو سنجیدگی کے بجائے طنز اور مذاق کا موضوع بنانے لگتے ہیں۔ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں ایسے واقعات کا غیر ضروری چرچا روحانیت کو متاثر کرتا ہے اور نوجوان نسل کو دین سے دور کر سکتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف فرد کے لیے بلکہ پوری امت کے لیے نقصان دہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر معاملے کو اعتدال اور حکمت کے ساتھ دیکھیں۔ ایک طرف عمر کے فرق والے نکاح یا مطلقہ خواتین کے نکاح کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے، کیونکہ یہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔ دوسری طرف ایسے افراد کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ دینداری صرف ظاہری وضع قطع یا چند اعمال تک محدود نہیں۔ حقیقی دینداری میں حیا، وقار، ذمہ داری اور معاشرتی شعور شامل ہے۔
سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے، لیکن اس کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ نجی زندگی کو نمائش بنانا، دین کو تشہیر کا ذریعہ بنانا اور شہرت کے لیے مذہبی جذبات کا استعمال کرنا نہ عقلمندی ہے اور نہ ہی تقویٰ کا تقاضا۔ علماء اور اہلِ فکر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مواقع پر رہنمائی کریں، جذباتی ردِ عمل کے بجائے علمی اور متوازن گفتگو کو فروغ دیں۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ نکاح ایک مقدس رشتہ ہے، اسے سادگی، حیا اور وقار کے ساتھ نبھانا ہی اصل سنت ہے۔ اگر ہم اس واقعے سے کوئی سبق لینا چاہتے ہیں تو وہ یہی ہے کہ دین کو تماشہ بنانے کے بجائے اس کی روح کو سمجھیں، اور اپنی زندگیوں میں ایسے اعمال اختیار کریں جو اللہ کی رضا اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنیں۔ یہی طرزِ عمل فرد کو بھی باوقار بنائے گا اور امت کو بھی مضبوط کرے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے