कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مسلم سیاست، اخلاقی زوال اور اسلامی ترجیحات

از قلم : مولانا سید اصف ندوی (امام وخطیب مسجد غنی پورہ ، ناندیڑ)
موبائل : 9892794952

یہ زمانہ عجیب تضادات کا زمانہ ہے۔ زبان پر دین کا چرچا، نعروں میں قرآن و سنت کا حوالہ، خدمت خلق وہ انسانیت کے بلند بانگ دعوے، اور عملی میدان میں ان ہی اقدار کی پامالی، یہ وہ المیہ ہے جو آج مسلم سیاست کے چہرے پر ایک گہرا اور بدنما داغ بن کر ابھر آیا ہے۔ ریاست مہاراشٹر کے حالیہ کارپوریشن انتخابات نے اس حقیقت کو پوری تلخی کے ساتھ بے نقاب کر دیا ہے کہ سیاست کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کا اخلاق، شرافت اور اسلامی تعلیمات سے دور دور تک کوئی تعلق باقی نہیں رہا۔
انتخابات محض اقتدار کی دوڑ نہیں ہوتے، بلکہ وہ قوموں کے فکری و اخلاقی مزاج کا آئینہ دار ہوتے ہیں، افسوس کہ گزشتہ انتخابات کے دوران اس آئینے میں جو عکس ہمیں نظر آیا، وہ نہ صرف پریشان کن بلکہ شرمناک بھی ہے۔
یہ ہمارے عہد کا ایک نہایت تلخ، مگر ناقابلِ انکار المیہ ہے کہ آج مسلم سیاست کا ایک بڑا حصہ اپنی شناخت، اپنی فکری خود مختاری اور اپنی دینی ترجیحات سے رفتہ رفتہ دست بردار ہوتا جا رہا ہے۔ سیاست، جو اصول و اقدار کی امین ہونی چاہیے تھی، اب مصلحتوں، سہولت پسندی اور وقتی فائدوں کی اسیر بن چکی ہے۔ اور اس زوال کی سب سے تکلیف دہ صورت وہ ہے جب مسلمان ایسے سیاسی پلیٹ فارموں کے تحت انتخابی میدان میں اترتے ہیں جن کی تنظیمی شناخت، فکری تاریخ اور عملی کردار اسلام دشمنی سے جڑے ہونے میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ یہ محض ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں، بلکہ ایک سنگین فکری لغزش ہے۔ اس طرزِ عمل میں نہ خود داری باقی رہتی ہے، نہ دینی غیرت، اور نہ ہی ملت کے اجتماعی شعور کا کوئی روشن پہلو۔ جو ہاتھ کل تک مسلمانوں کے خلاف اٹھے رہے ہوں، جن کی زبانوں سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے شعلے نکلتے رہے ہوں، انہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اقتدار کی دہلیز تک پہنچنے کی کوشش کرنا دراصل اپنے ہی نظریاتی وجود سے دست برداری کے مترادف ہے۔ اسی طرح مسلم امیدواروں کا محض ذاتی انا، وقتی مفاد اور عددی کھیل کے تحت ایسی جگہوں سے کھڑا ہونا جہاں کامیابی کا کوئی حقیقی امکان نہ ہو اور نتیجتاً غیر مسلم طاقتوں کو تقویت پہنچانا۔ یہ سب کچھ کسی سادہ سیاسی غلطی کا نام نہیں، بلکہ ایک سنگین دینی اور اخلاقی لغزش ہے۔
انتخابی فضا میں ایک نہایت تکلیف دہ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مسلم امیدواران اور تنظیمی ذمہ داران نے اپنے جلسوں کو اپنی فکر اور منصوبے پیش کرنے کے بجائے دوسرے مسلم امیدواروں، بلکہ بعض اہلِ فکر و دانش اور علماء کرام کے نام لے کر تنقید و تنقیص اور تمسخر کا ذریعہ بنا لیا، اور افسوس کہ کہیں کہیں یہ روش خود اُن حلقوں سے بھی دیکھنے میں آئی جن سے وقار، توازن اور خیر خواہی کی توقع کی جاتی ہے حالانکہ اسلامی تعلیمات ہمیں اختلاف کے آداب سکھاتی ہیں، نہ کہ اختلاف کو تماشہ بنانے کی اجازت دیتی ہیں۔ قرآن ہمیں تمسخر سے روکتا ہے، اور سیرتِ نبوی ﷺ یہ سبق دیتی ہے کہ حق بات کہی جائے مگر اس انداز میں کہ مخالف کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو، لہٰذا مسلم سیاست کا شایانِ شان یہی تھا کہ انتخابی خطابت کو ذاتی حملوں کے بجائے اصولی گفتگو، تعمیری تنقید اور مثبت لائحۂ عمل تک محدود رکھا جاتا، کیونکہ جو سیاست اپنی بنیاد زبان کی بے احتیاطی اور باہمی تحقیر پر رکھتی ہے وہ وقتی داد تو سمیٹ سکتی ہے، مگر قوم کے اخلاقی سرمائے کو خاموشی سے کھو دیتی ہے۔
انتخابی عمل کے دوران ایک نہایت شرمناک اور افسوس ناک حقیقت یہ بھی نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ ووٹ جیسی مقدس امانت کو چند ہزار روپوں کے عوض خریدا اور بیچا گیا، کہیں ایک ایک ووٹ کے بدلے ہزار ہزار اور کہیں دو دو ہزار روپیہ تقسیم کیا گیا، حالانکہ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ محض ایک انتخابی بے ضابطگی نہیں بلکہ صریح خیانت اور کھلی رشوت ہے، جس کے بارے میں قرآن امانتوں کو اہلِ امانت تک پہنچانے کا حکم دیتا ہے اور نبی کریم ﷺ رشوت دینے اور لینے والے دونوں پر لعنت فرماتے ہیں؛ ووٹ، جو اجتماعی فیصلے میں شریک ہونے کا حق اور ذمہ داری ہے، اگر وہی مالِ حرام کی نذر ہو جائے تو پھر اس سے نکلنے والا اقتدار بھی برکت سے خالی رہتا ہے، اس لیے مسلم سیاست کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس عمل سے خود بھی مکمل اجتناب کرتی اور عوام کو بھی یہ شعور دیتی کہ وقتی مالی فائدہ اگرچہ چند دن کی سہولت دے سکتا ہے، مگر اس کی قیمت قوم کو اخلاقی زوال اور اجتماعی خسارے کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔
انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ایک نہایت افسوس ناک صورتِ حال یہ بھی سامنے آئی کہ اکثر کامیاب امیدواران نے فتح کے لمحے کو شکر، وقار اور احساسِ ذمہ داری کے بجائے لہو و لعب اور اسراف کا عنوان بنا لیا، کہیں رنگ و غل، ناچ گانا اور بے ہنگم شور شرابہ ہوا، کہیں آتش بازی اور دینگی مشتی کے مظاہر دکھائی دیے، اور کہیں دولت کو اس بے دردی سے اڑایا گیا گویا یہ سب کچھ جائز ہو چکا ہو؛ حالانکہ قرآن کریم اسراف سے سختی کے ساتھ روکتا ہے اور اہلِ ایمان کی پہچان یہ بتاتا ہے کہ وہ خوشی کے مواقع پر بھی حد سے تجاوز نہیں کرتے، جبکہ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی اور فتح کا حقیقی اظہار شکر، تواضع اور خدمت کے عزم سے ہوتا ہے نہ کہ ایسے افعال سے جو دین و اخلاق دونوں کی نگاہ میں مذموم ہوں، اس لیے مسلم سیاست کے لیے یہی راستہ لائقِ اختیار تھا کہ وہ جشنِ فتح کو اخلاقی حدود کے اندر رکھتے ہوئے اللہ کے حضور سجدۂ شکر اور عوام کے سامنے خدمت کے وعدے کی تجدید کا ذریعہ بناتی، کیونکہ جو خوشی معصیت کے رنگ میں ڈوب جائے وہ درحقیقت خوشی نہیں بلکہ اخلاقی خسارے کا اعلان ہوتی ہے۔
انتخابی نتائج کے بعد ایک اور نہایت افسوس ناک منظر یہ دیکھنے میں آیا کہ بعض جیتنے والے امیدواران نے فتح کو شکر اور ذمہ داری کے احساس کے بجائے غرور، انتقام اور تذلیل کا ذریعہ بنا لیا، یہاں تک کہ اسٹیج سے نام لے کر ہارنے والوں کے خلاف عداوت کے اعلانات کیے گئے اور یوں جیت کے لمحے کو اخلاقی شکست میں بدل دیا گیا؛ حالانکہ قرآن ہمیں فتح کے بعد سرکشی سے نہیں بلکہ عاجزی اور احسان کی تلقین کرتا ہے، اسلام میں فتح کا تصور سرکشی نہیں، عاجزی ہے؛ غرور نہیں، شکر ہے؛ انتقام نہیں، عفو و درگزر ہے۔ نبی ﷺ مکہ فاتح بن کر داخل ہوئے تو سر جھکا ہوا تھا، زبان پر شکر تھا اور دل میں دشمنوں کے لیے بھی معافی تھی۔ اس لیے اسلامی سیاست کا تقاضا یہی تھا کہ جیت کو خدمت کی امانت سمجھا جاتا، مخالفین کے لیے دل میں کدورت کے بجائے کشادہ دلی اور تحمل رکھا جاتا، کیونکہ جو فتح دوسروں کی تذلیل پر قائم ہو وہ وقتی مسرت تو دے سکتی ہے، مگر قوم کے دلوں میں نفرت کے ایسے بیج بو دیتی ہے جو آنے والے وقت میں اجتماعی تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتے۔
اسلام سیاست سے فرار کا نہیں، بلکہ سیاست کو اخلاق کے تابع کرنے کا دین ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔
جو شخص خود کو مسلمان کہہ کر، اسلامی شعائر کو اپنی انتخابی تشہیر کا زینہ بنائے، اس پر ذمہ داری دو چند ہو جاتی ہے۔ قرآن، حدیث، اللہ اور رسول ﷺ کا نام محض ووٹ بٹورنے کے لیے استعمال کرنا اور اقتدار میں آتے ہی دین و ایمان کی حرمت کو پامال کرنا، نہ صرف نفاق کی علامت ہے بلکہ امت کے اعتماد سے کھلا کھلواڑ بھی ہے۔ ہارنے والوں کے ساتھ شائستہ رویہ، اختلاف کے باوجود عزت و وقار کی حفاظت، اور سیاسی رقابت کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دینا یہ وہ اخلاقی قدریں ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں۔ مسلم سیاست دان اگر ان اقدار کو پامال کریں گے تو پھر غیر مسلم طاقتوں کے ظلم پر شکوہ کرنے کا اخلاقی جواز بھی کھو بیٹھیں گے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اقتدار ملنے کے بعد کیا کیا جائے؟ اسلام کا جواب واضح ہے: وعدے پورے کیے جائیں، عوام کی امانت میں خیانت نہ ہو، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کی جائے، اور منصب کو خدمت کا ذریعہ سمجھا جائے، غنیمت کا نہیں۔ جو وعدے انتخابی جلسوں میں کیے گئے، وہ محض کاغذی نعرے نہ ہوں بلکہ عملی منصوبوں کی صورت میں زمین پر اترتے نظر آئیں۔
آج مسلم سیاست کو سب سے زیادہ ضرورت اپنے قبلے کی درستگی کی ہے۔ دین کو سیاست کے تابع کرنے کے بجائے سیاست کو دین کے تابع کرنا ہوگا۔ وقتی فائدے، ذاتی مفادات اور گروہی انا سے بلند ہو کر امت کے مجموعی مفاد کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ تاریخ ہمیں صرف ایک اور ناکام تجربہ قرار دے کر آگے بڑھ جائے گی۔
یہ وقت خود احتسابی کا ہے، شور و غوغا کا نہیں۔ یہ لمحہ نعروں کا نہیں، نیتوں کی اصلاح کا ہے۔ اگر مسلم سیاست دان واقعی امت کے خیر خواہ ہیں تو انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ اقتدار چند برسوں کا ہوتا ہے، مگر اللہ کی عدالت ابدی ہے۔ وہاں نہ پارٹی کام آئے گی، نہ نوٹوں کی گڈی، نہ ہجوم کے نعرے—صرف عمل، نیت اور دیانت۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھنے اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور باطل کو باطل جان کر اس سے اجتناب کی ہمت دے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے