कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ایس آئی آر SIR ، ہماری ذمہ داری اور ذمہ دار شہری ہونے کا امتحان قوی

تحریر:صحافی محمد احسان سر
ملکاپور ، ضلع بلڈھانہ، مہاراشٹر

ایس آئی آر (SIR) کا مطلب عام طور پر خصوصی نظرثانی رجسٹریشن Special Intensive Revision یا خصوصی نظرثانی رجسٹریشن کا عمل ہوتا ہے خاص طور پر الیکٹورل رول ( ووٹر لسٹ) میں نام شامل کرنے یا درستگی کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف انڈیا میں استعمال ہوتا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی اہل شہری ووٹر لسٹ سے باہر نہ رہے اور کوںٔی نا اہل شخص شامل نہ ہو. ووٹر لسٹ کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ اور بہتر بنانے کا عمل ہے. جمہوریت کی اصل طاقت عوام کے ووٹ میں چھپی ہے۔ ووٹ صرف ایک پرچی نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والی طاقت ہے۔ اسی ووٹ کے ذریعے عوام اپنی پسند کا نظام اور قیادت منتخب کرتی ہے مگر اس حق کے صحیح استعمال کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری کا نام ووٹر لسٹ میں درست طور پر درج ہو۔ اگر ووٹر لسٹ میں غلطی رہ جائے یا کسی اہل ووٹر کا نام شامل نہ ہو تو جمہوریت کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر ہر چند سال بعد ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور تجدید کا عمل شروع کیا جاتا ہے تاکہ ہر شہری کا حق رائے وہی محفوظ رہے۔ اسی سلسلے میں اس سال بھی (SIR) یعنی
Special Intensive Revision کا کام شروع ہو چکا ہے۔ یہ نہایت اہم اور ذمہ دارانہ مرحلہ ہے. جس میں ہر شہری کا تعاون لازمی ہے. یہ کام صرف ایک رسمی کاروائی نہیں بلکہ قوم کی بیداری ،شعور اور دیانت داری کا امتحان بھی ہے. ایس آئی آر کے تحت BLO صاحبان آپ کے گھروں پر آئیں گے ۔ ہر اس فرد کے لیے جو اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کا ہے اور جس کا نام ووٹر لسٹ میں موجود ہے ، ایک فارم (دو نقول میں ) فراہم کریں گے۔ جب BLO آپ کے دروازے پر آئیں تو احترام کے ساتھ ان سے ملاقات کریں ، ان کی ہدایت غور سے سنیں اور جو معلومات درکار ہوں، وہ پوری ذمہ داری سے فراہم کریں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کو وہ فارم کم و بیش دو تین دن کے اندر اندر بھر کر واپس کرنا ہے۔ تاخیر سے آپ کے اندراج یا تصدیق میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ اس فارم کو مکمل کرنے کے لیے درج ذیل کاغذات اور معلومات پہلے سے تیار رکھنا نہایت ضروری ہے تا کہ جب BLO آئیں تو وقت ضائع نہ ہو۔ اگر آپ کو نئے فوٹو بنوانے ہیں تو فوٹو گرافر سے صاف کہہ دیں کہ فوٹو کے پیچھے کا پردہ سفید رنگ کا ہو۔ دھندلے یا رنگ دار پس منظر والے فوٹو ہو سکتا ہے قابل قبول نہیں ہوں گے .آدھار کارڈ اور ووٹر شناختی کارڈ یہ دونوں لازمی کاغذات ہیں۔ ان کے ساتھ آپ کا موبائل نمبر بھی لازماً درج ہونا چاہیے تا کہ کسی بھی ضرورت پر آپ سے فوری رابطہ کیا جا سکے۔ چالیس سال یا اس سے زیادہ عمر کے ووٹروں کے لیے ضروری ہے کہ اُن کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں موجود ہو۔ اگر کسی وجہ سے اس فہرست میں نام درج نہیں ہے تو ان کے والد یا والدہ کا نام اس میں ہونا چاہیے تا کہ تصدیق ممکن ہو۔ اس زمرے کے ووٹروں کا نام 2002 کی لسٹ میں نہیں ہو گا مگر اُن کے والد یا والدہ کا نام اس فہرست میں ضرور ہو گا۔ اسی بنیاد پر ان کی Mapping میپنگ کر دی جائے گی۔ وہ خواتین جن کی شادی 2002 سے پہلے یہاں ہوئی ہے اُن کے نام یہاں کی 2002 کی ووٹر لسٹ میں ہو سکتے ہیں اور جن کی شادی 2002 کے بعد ہو کر یہاں ہوئی ہے اُن کے نام ممکن ہے کہ مایکے کی ووٹر لسٹ میں درج ہوں۔ اگر وہاں بھی نام نہ ہو تو ان کے والد یا والدہ کا نام مایکے کی لسٹ میں ضرور ہو گا۔ ایسی خواتین 2002 کی ووٹر لسٹ کے اُس صفحے کی تصویر منگوالیں جس میں اُن کا یا ان کے والدین کا نام درج ہو ۔ 2002 کی ووٹر لسٹ کا حصہ نمبر کیا تھا۔ اسمبلی حلقہ نمبر کیا تھا ، یادی بھاگ نمبر کیا ہے اور مایکے کا ضلع کون سا تھا۔ یہ تمام تفصیلات فارم پُر کرنے کے وقت پر ہونا ضروری ہوں گی اس لیے انہیں پہلے سے تیار رکھنا بہتر ہے۔
یادرکھیں ! یہ مرحلہ صرف فارم بھر نے یاد ستخط کرنے کا نہیں بلکہ جمہوری نظام کو درست سمت و سمت دینے کا عمل ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اس موقع پر لاپر واہی کرتے ہیں پھر بعد میں شکایت کرتے ہیں کہ ووٹر لسٹ میں نام نہیں آیا یا ووٹ کٹ گیا۔ ایسے مسائل سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہم ابھی سے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ جب BLO آئیں تو ان کے ساتھ مکمل تعاون کریں، ضروری دستاویزات فوراً دکھائیں اور فارم صحیح طرح سے بھریں. یہ عمل آپ کے ووٹ کو محفوظ کرے گا اور آنے والے وقت میں کسی بھی پریشانی سے بچائے گا۔ سمجھدار ،سوجھ بوجھ رکھنے والے حضرات، سماجی خدمتگار و نوجوان طبقے کو اس موقع پر آگے بڑھ کر ذمہ داری نبھانی چاہیے۔ جن گھروں میں بزرگ یا خواتین کو فارم سمجھنے میں دشواری ہو وہاں نوجوان ان کی مدد کریں۔ اسی طرح خواتین بھی اپنی ووٹر لسٹ سے متعلق معلومات بر وقت حاصل کر کے فارم کی تیاری مکمل رکھیں۔ یہی اجتماعی شعور ایک مضبوط قوم کی پہچان ہے۔ یہ کام محض ایک سرکاری کار روائی نہیں بلکہ قوم کے شعور اور بیداری کی علامت ہے۔ اگر ہم سب تھوڑی سی توجہ دیں، اپنے وقت سے چند منٹ نکالیں تو نہ صرف اپنا حق محفوظ کریں گے بلکہ نظام جمہوریت کو بھی مضبوط بنائیں گے۔ یہ موقع ہے کہ ہم اپنی قوم ، اپنے شہر اور اپنے ووٹ کے احترام کو پہچانیں۔ ہم سب کا یہ فرض ہے کہ BLO حضرات کے ساتھ احترام اور دیانت داری کے ساتھ پیش آئیں۔ اس کام کو معمولی نہ سمجھیں۔ آپ کی آج کی یہ تھوڑی سی محنت آنے والے وقت میں آپ کے لیے آسانی اور سکون کا سبب بنے گی۔ یہی وقت ہے ہم اپنے ملک کے باشعور اور ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دے سکتے ہیں. افسوس کہ ہم ایسے حساس مواقع پر اکثر لا پرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں. ہم اپنے مسائل کے لیے ہمیشہ دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں مگر اپنی کوتاہیوں پر کم ہی غور کرتے ہیں۔ ہم جلسوں میں نعرے لگاتے ہیں ، تقریروں میں جوش دکھاتے ہیں مگر جب عمل کا وقت آتا ہے تو سستی، بہانے اور بےحسی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑتی یہی رویہ ہمیں مسلسل پیچھے دھکیل رہا ہے۔ اگر ہم اپنی شہری ذمہ داریوں کو معمولی سمجھتے رہیں گے تو ترقی کے سارے دروازے ہم پر بند ہوتے چلے جائیں گے ۔ ووٹر لسٹ میں نام درج کرانا کوئی چھوٹا سا کام نہیں یہ قوم کے شعور کا آئینہ ہے۔ اگر کسی علاقے کے لوگوں کے نام لسٹ میں نہیں ہوں گے تو وہ علاقہ ترقی کے نقشے پر کمزور پڑ جائے گا۔ حکومتیں اور انتظامیہ انہی علاقوں پر توجہ دیتی ہیں جہاں ووٹروں کی تعداد درست اور مکمل ہوتی ہے۔ اس لیے یہ کام صرف ووٹ دینے تک محدود نہیں بلکہ اپنی موجود گی منوانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ افسوس کہ بہت سے ہمارے بھائی بہنیں اب تک یہ سمجھتے ہیں کہ ووٹر لسٹ میں نام ہونا ایک رسمی چیز ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ہمارے سیاسی و سماجی اور معاشی حقوق قائم ہوتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب BLO حضرات گھروں پر پہنچتے ہیں تو بعض لوگ اُن سے بد تمیزی یا بے رخی سے پیش آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے ابھی وقت نہیں، کوئی دروازہ بند کر دیتا ہے اور کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب فضول کارروائی ہے۔ حالانکہ یہی لوگ بعد میں شکایت کرتے ہیں کہ ووٹ کٹ گیا یا نام لسٹ میں نہیں آیا۔ اگر ہم نے ابھی ذرا سی توجہ دے دی تو کل ہمیں کسی دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ لیکن اگر ہم نے آج لا پرواہی کی تو کل اپنی محرومی پر سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا. ہمیں چاہیے کہ ہم اس موقع کو ایک اجتماعی مہم کی شکل دیں محلے کی سطح پر نوجوانوں کی ٹیمیں بنائی جائیں جو ہر گھر جا کر ووٹر لسٹ کی جانچ کریں، بزرگوں کی مدد کریں، خواتین کے فارم بھریں اور اگر کسی کو سمجھنے میں دشواری ہو تو اسے سمجھائیں۔ یہ کام کوئی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح مساجد و مدارس اور دینی مراکز کو بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ جمعہ کے خطبات میں ، درسِ کی محفلوں میں اور عوامی اجتماعات میں اس بات کا ذکر کیا جانا چاہیے کہ ووٹر لسٹ کی تصدیق محض دنیاوی فرئضہ نہیں بلکہ ایک شرعی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اسلام نے ہمیں معاشرتی نظام میں تعاون، دیانت اور ذمہداری کا حکم دیا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کے قانون، نظم اور شفافیت کی پاسداری نہیں کریں گے تو یہ دین کے عملی تقاضوں کے خلاف ہے. آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر خود اعتمادی اور نظم و ضبط پیدا کریں.جب ووٹرلسٹ میں ہمارا نام ہی موجود نہیں ہو گا تو ہم اپنی رائے دہی سے کیسے اپنی نمائندگی ثابت کرسکتے ہیں ؟ ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ اپنی شناخت محفوظ رکھنا محض ایک انتخابی عمل نہیں بلکہ اپنی قوم کے مستقبل کی حفاظت ہے۔ ہمارے نوجوان طبقے کو خاص طور پر اس میدان میں آگے بڑھنا چاہیے۔ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جن کے نوجوان بیدار اور ذمہ دار ہوتے لہذا گھر گھر جا کر لوگوں کو سمجھائیں کہ BLO حضرات کو تعاون کریں .اپنے والدین، دادادادی، چاچا ،ماموں، بہنوں اور خالاؤں و دیگر کے فارم وقت پر بھریں، فوٹو تیار رکھیں ، آدھار کارڈ اور پرانے شناختی کاغذات درست کریں۔ اگر ہر گھر کا ایک نوجوان یہ ذمہ داری سنبھال لے تو ہمارے علاقے کی ایک بھی فرد و آواز خاموش نہیں رہے گی۔ عورتوں کو بھی اس عمل میں پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ وہ اپنے نام کے اندراج، اپنے کاغذات کی تصدیق اور اپنی معلومات کی درستگی پر خود توجہ دیں۔ اکثر خواتین کی شادی کے بعد ان کا نام دوسرے علاقے کی لسٹ میں رہ جاتا ہے اور وہ یہ سمجھتی ہیں کہ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں. لیکن اگر وہ خود پیش قدمی کریں گی تو آنے والے وقت میں کسی بھی سرکاری یا انتخابی معاملے میں انہیں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی اگر ہم اپنے حق کی حفاظت نہیں کریں گے تو دوسرا کون کرے گا؟ آج اگر ہم نے اپنے نام درست درج کرا لیے، اپنے فارم مکمل بھر دیے، اپنے دستاویزات تیار رکھے ، تو یہ عمل آنے والے کئی برسوں تک ہمارے لیے سہولت اور وقار کا ذریعہ بن جائے گا۔ ہم عہد کرے کہ اس بار کوںٔی گھر ،کوئی فرد، کوئی ووٹر ایسا نہیں رہے گا جس کا نام لسٹ سے غائب ہو . ہم سب مل کر اپنی شناخت کو مضبوط و محفوظ کریں گے ، اپنی آواز کو مضبوط بنائیں گے اور اپنے ووٹ کے تقدس کو پہچانیں گے ۔ یہ کام نہ حکومت کا ہے، نہ کسی پارٹی کا یہ ہمارا اپنا فرض ہے ، ہماری اپنی ذمہداری ہے۔ اب مزید تاخیر نہ کریں۔ BLO حضرات کے آنے سے پہلے ہی اپنےکاغذات درست رکھیں ، اپنے گھروں میں آگاہی پیدا کریں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کوبھی اس مہم میں شامل کریں. اگر ہم سب نے مل کر ذمہ داری دکھائی تو آنے والا وقت یقیناً بہتر ہو گا. ہم اپنے ووٹ ، اپنی پہچان اور اپنے ملک کے وقار کی حفاظت کر سکیں۔ ہم اپنے عمل سے ایک باشعور ، منظم ، دیانت دار اور محب وطن ہونے کا ثبوت دے اور اپنے وطن کے نظام کو اور مزید بہتر سے بہتر بہت بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے.
( اس مضمون کا مقصد صرف معلومات و آگاہی فراہم کرنا ہے ،مزید معلومات کے لئے اپنے اپنے علاقے کے ( BLO ) سے رابطہ کرکے ان کی ہدایت پر عمل کریں)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے