कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

انجمن ہائی اسکول و جونیئر کالج کھام گاؤں میں ولولہ انگیز الوداعی تقریب طلبہ کو خودی، عمل اور مقصدِ حیات کا شعور دینے والا یادگار پروگرام

کھام گاؤں:2؍جنوری:چودہ ایکڑ پر مشتمل، ایک صدی کی شاندار تعلیمی خدمات کا حامل مشہور و معروف ادارہ انجمن ہائی اسکول و جونیئر کالج، کھام گاؤں—جس کی قیادت کامیابی کے ساتھ ڈاکٹر وقار الحق خان صاحب انجام دے رہے ہیں اور جہاں پرنسپل کے عہدے پر احفاظ الحق خان صاحب فائز ہیں—میں طلبہ کی تعلیمی زندگی کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل کے موقع پر ایک نہایت پُروقار، جذباتی اور فکر انگیز الوداعی تقریب جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ تقریب آج 2 جنوری، صبح 9 بج خبیب تابش سر رکن کلچرل کمیٹی کے تلاوتِ کلامِ پاک سے شروع ہوئی، جس سے پورے ماحول میں روحانی کیفیت اور سنجیدگی پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد ہائی اسکول اور جونیئر کالج کے طلبہ نے خوبصورت الوداعی گیت، بامقصد تقاریر اور پُراثر تاثرات پیش کیے۔ الوداع پانے والے اور الوداع کہنے والے طلبہ نے اپنے تعلیمی سفر کی یادوں، اساتذہ کی شفقت، ادارے کی تربیت اور مستقبل کے خوابوں کا دل نشیں اظہار کیا۔ کئی طلبہ کی گفتگو نے حاضرین کو جذباتی کر دیا اور محفل پر خاموشی طاری ہو گئی۔اساتذۂ کرام شاہد اللہ خان، عمیر احمد خان اور دیگر اساتذہ نے اپنے خطابات میں طلبہ کی تعلیمی، اخلاقی اور فکری رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ اصل کامیابی صرف امتحانات میں اچھے نمبر حاصل کرنا نہیں بلکہ خود کو باکردار، باعمل اور باوقار انسان بنانا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ مایوسی سے دور رہیں، مسلسل محنت کو اپنا شعار بنائیں، علم کو عمل سے جوڑیں اور زندگی میں واضح مقصد کا تعین کریں۔ اس موقع پر ادارے کے سپر وائزر شکیل احمد صاحب اور وائس پرنسپل و صدرِ محفل عمیر محمد خان صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ طلبہ آج ادارے سے رخصت ضرور ہو رہے ہیں، مگر ادارے کی اقدار، اساتذہ کی دعائیں اور یہاں سیکھے گئے اسباق ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے طلبہ کے لیے روشن مستقبل کی نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور انہیں مقصد کے تعین، مثبت سوچ، خود اعتمادی کے فروغ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے مفید اور ذمہ دار شہری بننے کی نصیحت کی۔تقریب کے دوران یہ فکری پیغام بھی نمایاں ہو کر سامنے آیا کہ یہ الوداع دراصل جدائی نہیں بلکہ بیداری کی صدا ہے۔ اقبالؔ کے تصورِ خودی کے مطابق طلبہ کو یہ پیغام دیا گیا کہ اگر وہ اپنے اندر پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچان لیں، خوف کو شکست دیں اور عمل کی راہ اپنائیں تو کوئی رکاوٹ ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی۔ علم جب جراتِ کردار سے جڑ جائے تو تقدیریں بدلتی ہیں، اور جب فکر میں پرواز ہو تو منزلیں خود راستہ بناتی ہیں۔ یہی اس تقریب کا حاصل تھا کہ *“ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں”* بشرطیکہ نوجوان طلبہ خود کو پہچانیں، مسلسل جدوجہد کریں اور قوم و ملت کی تعمیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔پروگرام کی نظامت کے فرائض کلچرل کمیٹی کے رکن انس نبیل سر نے نہایت متاثر کن انداز میں انجام دیے، جب کہ اظہارِ تشکر کے کلمات کلچرل کمیٹی کے کنوینر فضیل ارشد سر نے پیش کیے۔پروگرام کی کامیابی میں کلچرل کمیٹی کے رکن ذاہد رضا سر دیگر اراکین کمیٹی و اساتذہ کرام نے اہم کردار ادا کیا ۔اس موقع پر ناشتہ کا باقاعدہ اور خوش اسلوبی سے نظم کیا گیا تھا۔آخر میں صدرِ جلسہ کی اجازت سے پروگرام کا اختتام عمل میں آیا ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے