कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

مشرقی ہندوستان میں سیاسی غلبہ کے بعد بی جے پی کی نگاہیں جنوبی ہندوستان پر مرکوز

از قلم: ڈاکٹر سید تابش امام
کاکو، جہان آباد
رابطہ۔۔۔۔9934933992

بہار اور مغربی بنگال میں منعقدہ حالیہ حلف برداری تقریبات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی غیر معمولی موجودگی کو اگر محض ایک رسمی شرکت سمجھ لیا جائے تو شاید یہ ہندوستان کی موجودہ سیاست کے گہرے تغیرات کو سمجھنے میں بڑی غلطی ہوگی۔ ہندوستان کی سیاست اب صرف حکومت سازی یا انتخابی کامیابی کا کھیل نہیں رہی بلکہ یہ نظریاتی غلبہ، سماجی تشکیل اور اقتدار کے مسلسل ارتکاز کی ایک طویل حکمت عملی میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔بہ غور جائزہ لیں تو مشرقی ہندوستان میں بی جے پی کی بڑھتی ہوئی طاقت اسی سیاسی منصوبہ بندی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ برسوں کی مسلسل محنت، مضبوط تنظیمی ڈھانچہ، جارحانہ انتخابی حکمت عملی اور نظریاتی یکسوئی کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک کے سیاسی منظرنامے کو کافی حد تک بدل دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب بی جے پی کو شمالی اور مغربی ہندوستان کی جماعت تصور کیا جاتا تھا، مگر آج وہ مشرقی ہندوستان میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کر چکی ہے۔ بہار، بنگال، جھارکھنڈ اور شمال مشرقی ریاستوں میں اس کی سیاسی موجودگی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ معلوم پڑتی ہے۔
یہ اس حقیقت کی عکاسی ہے کہ بی جے پی کا اصل ہدف صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایسا سیاسی غلبہ قائم کرنا ہے جس کے بعد پارلیمنٹ میں اسے اتنی واضح اکثریت حاصل ہو جائے کہ وہ ان آئینی و قانونی منصوبوں کو بھی عملی جامہ پہنا سکے جو اب تک دو تہائی اکثریت نہ ہونے کے باعث مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اس کی نگاہیں جنوبی ہندوستان کی ان ریاستوں پر مرکوز ہیں جہاں علاقائی جماعتیں اب بھی مضبوط ہیں اور جہاں بی جے پی کو مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔
اگرچہ بی جے پی اپنے سیاسی بیانیہ میں “کانگریس مکت بھارت” کا نعرہ پیش کرتی ہے، لیکن ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس مسلسل مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ عملی سیاست میں اس کا رخ ایک ایسے سماجی و سیاسی نظام کی طرف ہے جہاں مسلمانوں کی نمائندگی بتدریج کم کی جا رہی ہے۔ انتخابات میں مسلم امیدواروں کو ٹکٹ نہ دینا، فیصلہ ساز اداروں سے مسلم قیادت کا غائب ہونا، اور اقتدار کے مراکز میں نمائندگی کا سکڑتا دائرہ ایسے سوالات کو جنم دیتا ہے جنہیں نظر انداز کرنا آسان نہیں۔
یہ صورتِ حال صرف سیاسی اتفاق معلوم نہیں ہوتی بلکہ ایک وسیع تر حکمت عملی کا حصہ محسوس ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی ریاستی و پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا، حالانکہ ہندوستان کی جمہوریت ہمیشہ مختلف طبقات کی نمائندگی کے اصول پر قائم رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ملک کا ایک بڑا طبقہ سیاسی نمائندگی سے مسلسل دور ہوتا جائے تو جمہوریت کی روح کس حد تک متاثر ہوگی؟
اسی تناظر میں NRC اور CAA جیسے قوانین پر ہونے والی بحث کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کے حامی انہیں قومی سلامتی اور شہریت کے نظم و ضبط سے جوڑتے ہیں، مگر ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین کے نفاذ کی کوشش نے ایک مخصوص طبقے میں خوف، بے اعتمادی اور غیر یقینی کی فضا پیدا کی۔ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے، عدالتوں میں سوالات اٹھے اور کئی ریاستوں نے ان قوانین کے نفاذ پر خدشات ظاہر کیے۔ اگرچہ سیاسی دباؤ اور عوامی مزاحمت کے باعث یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکا، مگر اس کے بعد ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی اور دستاویزی جانچ جیسے اقدامات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حزب اختلاف۔کی جماعتیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ان انتظامی عملوں کے ذریعہ خاموشی کے ساتھ غریب، پسماندہ اور بالخصوص مسلم طبقے کے لاکھوں افراد کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے، جبکہ حکومت ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتی ہے۔ لیکن جمہوریت میں صرف قانونی جواز کافی نہیں ہوتا، عوامی اعتماد بھی اتنا ہی اہم اور ضروری ہوتا ہے۔ جب کسی طبقے کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ریاستی پالیسیاں اس کے وجود، شناخت یا سیاسی حقوق کے لیے خطرہ بن رہی ہیں تو یہ احساس خود ایک بڑے جمہوری بحران کا سبب بن سکتا ہے۔
تاہم حقیقت کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بی جے پی کی کامیابی صرف مذہبی پولرائزیشن کا نتیجہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ متوسط طبقہ، شہری نوجوانوں اور ان طبقات کی حمایت حاصل نہ کر پاتی جو بنیادی طور پر نظم و نسق، بدعنوانی، ترقی اور مضبوط قیادت کے سوالات پر فکر مند ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں پارٹی نے سیاست کو صرف جذباتی نعروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک منظم انتخابی ماڈل میں تبدیل کر دیا۔ بوتھ سطح تک تنظیم، کارکنوں کی تربیت، سوشل میڈیا کا جارحانہ استعمال، عوامی رابطہ مہم اور مخالف جماعتوں کی کمزوریوں کی درست شناخت نے اسے ایک طاقتور سیاسی مشین میں بدل دیا۔
امیت شاہ کی تنظیمی حکمت عملی نے اس پورے عمل میں مرکزی کردار ادا کیا۔ انہوں نے انتخابی سیاست کو جلسوں اور تقریروں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے جلسہ گاہ سے نکال کر ایک مکمل سیاسی سائنس میں تبدیل کیا جہاں ہر حلقہ، ہر سماجی طبقہ اور ہر بوتھ کے لیے الگ حکمت عملی تیار کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اب صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک منظم انتخابی ادارہ بن چکی ہے۔
اس کے برعکس اپوزیشن جماعتوں کی کمزور حکمت عملی بھی بی جے پی کے عروج کی ایک بڑی اور اہم وجہ ہے۔ ہندوستان کی بیشتر اپوزیشن جماعتیں اب تک اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ نہیں سکیں کہ صرف سیکولرازم، خوف یا جذباتی نعروں کے سہارے عوام کو مستقل طور پر متحرک نہیں رکھا جا سکتا۔ عوام اب عملی نتائج چاہتے ہیں۔ انہیں روزگار، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، بنیادی سہولتیں اور بدعنوانی سے پاک نظام درکار ہے۔ اگر اپوزیشن ان مسائل کا واضح اور قابلِ اعتماد حل پیش نہ کرے تو محض حکومت پر تنقید سیاسی واپسی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
مغربی بنگال کی سیاست اس تبدیلی کی ایک واضح مثال ہے۔ ترنمول رہنماء ممتا بنرجی نے ایک عوامی تحریک کے ذریعہ اقتدار حاصل کیا تھا اور طویل عرصے تک خود کو غریبوں اور محروم طبقات کی آواز کے طور پر پیش کیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ مقامی سطح پر سیاسی تشدد، اقربا پروری، بدعنوانی اور مبینہ “کٹ منی” کلچر کے الزامات بڑھتے گئے۔ متوسط طبقہ اور نوجوانوں کا ایک حصہ یہ محسوس کرنے لگا کہ ریاستی نظام عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وہ خلا تھا جسے بی جے پی نے سیاسی مہارت کے ساتھ پُر کیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستانی سیاست میں مذہب، ذات، زبان اور علاقائی شناخت ہمیشہ سے انتخابی عمل کا حصہ رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب ان شناختوں کے استعمال کا انداز زیادہ منظم اور جارحانہ ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی سیاست بتدریج نظریاتی اعتدال سے دور اور شدید سیاسی تقسیم کی طرف بڑھتی محسوس ہو رہی ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مشرقی ہندوستان آنے والے برسوں میں قومی سیاست کا سب سے اہم میدان بننے جا رہا ہے۔ بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور شمال مشرقی ریاستیں لوک سبھا کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔ اگر بی جے پی یہاں اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ہندوستان کی سیاست مزید یک قطبی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ لیکن اگر اپوزیشن زمینی سطح پر مضبوط متبادل پیش کرنے میں کامیاب ہو گئی تو سیاسی توازن دوبارہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ اقتدار کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں ہوتا۔ عوام جب چاہیں سیاسی منظرنامہ بدل سکتے ہیں۔ اسی لیے آج ہندوستان کو صرف انتخابی کامیابیوں کی نہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، آئینی توازن، سیاسی نمائندگی اور جمہوری اعتماد کی بھی ضرورت ہے۔ اگر کسی طبقے کو مسلسل حاشیہ پر دھکیلا جائے، اس کی سیاسی شراکت کم کی جائے یا اسے خوف کے ماحول میں جینے پر مجبور کیا جائے تو یہ صورتِ حال وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں جمہوری ڈھانچے کو کمزور کر سکتی ہے۔
ہندوستان کی اصل طاقت ہمیشہ اس کی تکثیریت، آئینی مساوات اور مختلف طبقات کی مشترکہ شرکت رہی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جنہوں نے اس ملک کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بنایا۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست اقتدار کے ارتکاز کے بجائے عوامی اعتماد، سماجی انصاف اور آئینی توازن کے اصولوں پر آگے بڑھے، کیونکہ جمہوریت صرف اکثریت کی حکمرانی کا نام نہیں بلکہ ہر شہری کے وقار، نمائندگی اور مساوی حقوق کے تحفظ کا نام بھی ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے