कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت مولانا خلیل احمد صاحب قریشی قاسمی ؒکا مختصر تعارف

زیراہتمام ادارہ پیغامِ جامعی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

’’تین سال قبل ہمارے ادارے کی جانب سے حضرت مولانا موحوم کا استقبال کیا گیا تھا اس موقع پر یہ تعارف شائع کیا گیا تھا۔‘‘
چیدہ صفات:
حضرت مولانا خلیل احمد قریشی قاسمی صاحب شہرِ عزیز مالیگاؤں کے شہیر و باصلاحیت عالمِ دین ہیں موصوف گوناگوں اوصاف و محاسن سے مرقع و مزین ہیں ، سادگی و خاکساری سے پُر، شریں گفتار کے حامل، نشاط و انبساط سے لبریز، سرچشمۂ اخلاق و مروت سے معمور، شگفتہ مزاجی سے پُر، ذی فہم، ذی استعداد، مُجسمۂ انکسار، اور جذبہ تشکّر سے لبریز ہیں ۔
تاریخ پیدائش:
آپ کی پیدائش یکم مئی 1955 مالیگاؤں شہر میں ہوئی، والدین علمِ دین کے بڑے قدردان تھے، اس لیے علمِ دین کے حصول کے لئے آپ کو مدرسہ بیت العلوم میں داخل کیا، جہاں پر آپ نے دینیات سے لیکر دورہ حدیث تک کی تمام کتب، ماہر علم و فن اور کہنہ مشق حضرات اساتذۂ کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتے ہوئے پڑھی اور عالمیت کی تکمیل کیں،
مزید تعلیمی سفر:
تحصیلِ فراغت کے بعد اپنے علم کو مزید تاباں و درخشاں کرنے، علمی و روحانی انتساب اور عالی سند کے حصول کے لئے 1975میں منبعِ رشد و ہدایت، ازہرِ ہند دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں پر تین سال تک اپنے زمانے کے نابغۂ روزگار، ماہر علم و فن، دیدہ ور و نکتہ رس حضراتِ اساتذہ کرام سے پڑھا اور 1978، میں سندِ فضیلت سے بہرہ ور ہوئے،
تدریسی خدمات:
تحصیلِ فراغت کے بعد مدرسہ انوار العلوم (ضلع جلگاوں) اور ضلع بیڑ کے ایک دیہات میں تدریسی خدمت انجام دینے کا موقع ملا، ان مقامات پر خدمت کا دورانیہ تقریباً دو سال ہے، پھر 1980 میں علامہ سلیمان شمسی رح کی ایماء اور دارالعلوم محمدیہ کے اراکین کی دعوت پر، دارالعلوم محمدیہ میں تدریسی خدمات انجام دینے کے لیے تقرر ہوا، ابتدائی درجات سے لیکر درجاتِ علیا کی کتب آپ کے زیر درس رہی ، دس سال تک دارالعلوم محمدیہ کی مسجد میں امامت کی خدمت انجام دیتے رہیں ، اسی طرح تدریسی خدمات کے ساتھ مغرب کے بعد طلباء کی تعلیمی نگرانی کی خدمت بھی انجام دیتے رہیں ، محنت لگن توجہ، اور پوری تیاری سے درس دیتے تھے، اساتذہ کرام اور قدیم طلباء خود اس کے معترف ہیں، حلِ عبارت پر خوب عبور حاصل تھا، پیچیدہ و مغلق عبارت اور مشکل اسباق کو منٹوں میں حل کرتے تھے، اندازِ تدریس اور ملکۂ تفہیم مبداء فیاض نے خوب عطا کیا تھا، طلباء جو بھی کتاب بطورِ تفہیم لے جاتے تو صرف کتاب ہی حل نہیں فرماتے بلکہ طلباء کو مطمئن بھی کردیتے تھے، آپ کا درس اگر چہ ایجاز و اختصار سے مزین ہوتا، مگر علوم و معارف اور حقائق و دقائق کا گنجینہ ہوتا جس میں طلباء کی علمی تازگی اور عمدہ صلاحیت پیدا کرنے کا وافر مقدار میں مواد ہوتا تھا ، بزرگوں کا مقولہ ہے کہ بہترین شرح، ماہر استاذ ہیں آپ اس کی عملی تصویر تھے ، راقم السطور بھی آپ کے خرمنِ علم سے خوشہ چینی کرنے والے میں ہیں
تصنیفی خدمت:
1989 میں درِ شیعیت پر خوب کام کئے اور شیعوں کے رد میں ایک کتاب بنام امامتِ ائمہ بالمقابل خلافتِ راشدہ تالیف کیں جس پر اہل علم حضرات نے آپ کی سراہنا کیں، اور دادِ تحسین دی، اس کتاب کی تربیت میں آپ نے بہت محنت اور جانفشانی کا مظاہرہ کیا، جس کا قارئین کو مطالعہ سے اندازہ ہوگا،
دارالعلوم محمدیہ سے علاحدگی:
اکتوبر 2010 میں دارالعلوم محمدیہ میں اکتیس سال خدمت انجام دینے کے بعد مستعفی ہوگئے، یہ ایک طویل مدت ہے جس میں بے شمار تشنگانِ علوم نبوت نے آپ سے سیرابی حاصل کیں، اور ملک کے طول و عرض میں دینی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔
امامت و خطابت:
2011 سے مسجد عائشہ فیاض میں امامت و خطابت اور اصلاحی ذمہ داریوں کو اب تک محنت لگن اور توجہ سے ادا کر رہے ہیں، پیرانہ سالی کے باوجود سائیکل کے ذریعے مسجد جاتے، امامت و اذان دونوں خدمت انجام دے رہے ہیں، بلکہ فجر میں جانا کافی مشکل ہے مگر تنِ تنہا کھیت کھلیان اور ویرانے کو عبور کرکے مسجد پہنچتے اور اپنے فرضِ منصبی کو ادا کررہے ہیں،
بطورِ شیخ الحدیث و ناظمِ اعلیٰ:ـ
اسی طرح 2011 سے 2013 کے اواخر تک مدرسہ عائشہ للبنات میں تین سال شیخ الحدیث کے عہدے جلیلہ پر فائز رہیں ، پھر 2013 کے اواخر میں مدرسہ گلشنِ عباس للبنات میں بطورِ شیخ الحدیث تقرر ہوا، تو اپنی علمی مہارت اور تدریسی قابلیت کی بنیاد پر خوب علمی جوہر بکھیرا آج مدرسہ کی تعلیمی ترقی آپ کی مرہونِ منت ہے ، ابھی فی الحال مدرسہ گلشنِ عباس میں شیخ الحدیث کے ساتھ ساتھ ناظمِ اعلیٰ کی اہم ترین ذمہ داری کو بھی بحسنِ خوبی ادا کر رہے ہیں،
دیگر زبانوں پر مہارت:
فصیح اردو کے ساتھ آپ کو عربی زبان پر خوب عبور حاصل تھا ایک مرتبہ مفتی شکیل صاحب رح مرحوم نے مولانا سے عربی تقریر کی فرمائش کی تو غالباً دس منٹ کے اندر ایک بہترین عربی تقریر جو فصاحت و بلاغت سے پُر تھی عطا کردی، علاوہ ازیں فارسی زبان پر بھی مہارت تامہ حاصل ہے علماء کرام اور عصری علوم سے وابستہ حضرات فارسی سیکھنے کے لیے آپ کے پاس آتے تھے، پھر دینی خدمت کے جذبے کے تحت مولانا تشنگانِ علوم کے پاس پہنچ کر فارسی سکھاتے رہے، شہرِ عزیز میں بڑے نامور علماء اور پروفیسر حضرات آپ کے شاگرد ہیں، راقم السطور کو اپنے ایک شناسا کے ذریعے معلوم ہوا کہ شہر کے ایک معروف ٹیچر فارسی سیکھنے کے لیے آپ کے آتے اور آج وہ خود اردو و فارسی کے بڑے ماہر ہیں، اس کے علاوہ اصلاحِ عوام کے لئے دیگر کاوشات بھی انجام دے رہے ہیں،
وفات:
مورخہ 15 دسمبر 2025 بروز اتوار دوپہر میں ایک طویل علالت کے بعد مولانا مرحوم اپنی حیاتِ مستعار کو پورا کرکے سفرِ آخرت کے راہی بن گئے خداوند کریم آپ کی حسنات کو قبول فرمائے، سیئات سے درگزر فرمائے، اور تمام پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ،آمین

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے