कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

یہ چراغ پرانا ہے، نیا نہیں

تحریر : مولانا میر ذاکر علی محمدی ہربھنی 9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

تاریخ کا اگر صحیح مطالعہ اور اس کے ہر رمز پر عمیق نظر کی جاے تو معلوم ہوگا کہ اللہ نے دنیا میں سب سے پہلے مانو یعنی انسان کے روپ میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ جب دنیا میں دوسرا کوئ انسان موجود نہ تھا۔ جبکہ اللہ نے قرآن کریم میں پہلے ہی سے یہ ذکر کیا کہ ہم نے زندگی اور موت کو محض آزمائیش اور امتحان کے لیے پیدا فرمایا۔ چناں چہ دنیا کا سب سے پہلا انسان اور پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے پسلی سے حضرت حوا کو وجود میں لایا۔ ( Adam and Eve are central figures in many religious traditions,including Christianity, to biblical and holy Quranic accounts,they were the first humans created by God) جس کی تصدیق قرآن کریم ،بائبل زبور،اور انجیل میں ذکر ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام دنیا کے پہلے انسان اور پیغمبر ہیں۔ جب دنیا میں دوسرا کوئ بھی مذہب یا کوئ دین نہیں تھا۔ جب آدم علیہ السلام کو اللہ نے ایک غلطی کی پاداش میں (Earth) کرہ ارض پر ہندوستان کے سرزمین پر اتارا۔ آدم علیہ السلام نے اپنی غلطی کی معافی و تلافی کی اور دونوں نے کہا، فلا ربنا ظلمنا انفسنا فان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخاسرین۔ آدم اور حوانے کہا ،اے ہمارے رب ہم نے تو ہمارا بڑا نقصان کیا ہے اور اگر تو ہماری مغفرت نہیں کریگا ،اور ہم پر رحم نہ کریگا ،تو ہم واقعی خسارہ پانے والوں میں ہوجائیں گے۔آدم اور حوا کی اس دعا کو اللہ نے قرآن کریم میں قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ہی لوح محفوظ میں رکھا تھا۔ اس سے یہ بات ساری دنیا پر آشکارہ ہوتی ہے کہ آدم علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی،اور ساری دنیا کو اللہ کی (Worship ) پرستش اسکی عبادت اور اسکی وحدانیت کا درس دیا۔ اور دنیا میں سب سے پہلا قتل قابیل نے ہابیل کو کسی وجہ سے قتل کیا۔ مقتول نے یہ کہا تھا کہ میں آپ پر ہاتھ نہیں اٹھاونگا، اور یہ کہا، اننی اخاف اللہ، کہ میں ایسا کرنے میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جب کسی دیوی دیوتا، صنم اور بت پرستی، اور دوسرا کوئ ایشور نہیں تھا سواے خداے برتر کے ۔چناں چہ آدم علیہ السلام نے ساری دنیا کو اللہ کے ایک ہونے کی دعوت دی۔ جب آدم کے مقتول بیٹے نے یہ دعا کی کہ میں بھائ پر ہاتھ اٹھانے سے اللہ سے ڈرتا ہوں ، ایک خیال ، (Fear of God )اللہ کا ڈر و خوف ہزاروں سال کیسے جاگا ؟ اور اس سے یہ بھی ہم ہر آشکارہ ہوتا ہے کہ ہم تمام جو قیامت تک پیدا ہونے والے انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔بعد کو لوگوں میں بگاڑ کی وجہ سے لوگ منقسم ہوے۔ جیسے ایک حدیث میں ہے ،جس کا مفہوم ہے ۔ دنیا میں ہر پیدا ہونے والا بچہ عین فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ لیکن اس کے والدین اس کو نصرانی یہودی مجوسی بناتے ہیں ، ورنہ حقیقتا وہ اسلام کی فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کی دعوت و تبلیغ کے بعد اللہ نے حضرت شیس علیہ السلام کو دنیا میں بھیجا، انہوں نے بھی اللہ اور ایشور ایک ہونے ، اور اسی کی عبادت اور پرستش کی دعوت سارے دنیا کے لوگوں کو دی۔ وہی پرانا سبق سکھا یا جو آدم علیہ السلام نے سکھایا کہ اللہ ایک ہے ،اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ وہی پرانا چراغ جلایا جس سے اعلاے کلمت اللہ کی صداے بازگشت سنائ دیتی تھی۔ کوئ نیا جدید چراغ نہیں جلایا۔ چناں چہ ہم مزید تاریخ اسلام اور دیگر تواریخ کا گہرائ سے مطالعہ کریں تو ہمیں یہ معلوم ہوگا کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کے بعد بتدریج شیس علیہ السلام ادریس علیہ السلام نوح علیہ السلام موسی علیہ السلام اور کئ پیغمبروں کو وقتا فوقتا اپنی اپنی قوم میں مبعوث فرمایا۔ اور سب ہی نے اللہ کی وحدانیت، انسانیت اور بھائ چارہ کی دعوت دی۔ نوح علیہ السلام نے کم و بیش اپنی قوم میں ساڑھے نو سو سال تک دین الھی اور اس کی وحدانیت کی دعوت دی۔ اللہ نے دنیا کو یوں ہی پیدا نہیں کیا ہے۔ اللہ کا یہ منصوبہ اور پلان پہلے ہی سے طے تھا، چناں چہ اس نے انحیل ، زبور، توریت ،اور قرآن کریم کو جو آسمانی کتابیں ہیں نازل کیا۔ اس دنیا میں کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا ء مبعوث ہوے۔ اور تقریبا سب ہی اپنے دادا ،پردادا، سکڑ دادا، یہاں تک کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا درس دہرایا ، کہ اللہ ایک اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ جس سے سارے توہمات اور دیوی دیوی دیوتاؤں کی نفی ہوتی ہے۔اور سب ہی کا ایک ہی مقصد ایک ہی مشن تھا اللہ کی وحدانیت اور اس کی عبادت۔ چناں چہ اللہ کا ارشاد ہے ، ہم نے انسان اور جنوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔ عبادت کا مطلب یہ نہیں کہ صرف اللہ کی عبادت کی جائے ۔ بلکہ اللہ کی عبادت کے ساتھ ، ایک نیک انسان بنکر حقوق العباد اور اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جاے۔ اور پھر یہاں تک کہ اللہ نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب کی سرزمین میں پیدا کیا، جہاں پر شراب نوشی عام تھی اور صنف نازک کو زندہ دفن کیا جاتا، اور صنف نازک کی پیدائیش کو عیب سمجھا جاتا تھا۔ اور مصنوعی اصنام کی پرستش ہوتی تھی۔ اللہ نے آخرالزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ اور پیغمبر اسلام کو حکم ہوا کہ کہ دو اللہ ایک ہے ،اور وہ بے نیاز ہے، نہ وہ پیدا ہوا،اور نہ ہی پیدا کیا گیا۔ اور اس کا کوئ ساجھی نہیں۔ اللہ نے آپ کو نبوت سے سرفراز کیا۔ جو آخری نبی ہے، اور اس کے بعد کوئ نبی نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی وحدانیت ، اور انسانیت کا سبق دیا، جو سارے دنیا کے لیے ہدایت کا سر چشمہ ہے۔ یہ وہی پیغمبر اسلام ﷺہیں، جس نے شریعت کو پیش کیا،دنیا کے کونے کونے اور گوشہ گوشہ میں ترانہ توحید کو پیش کیا۔ظلمت کدہ کو اپنی سیرت طیبہ سے منور کیا،گمراہوں کو راستہ بتایا،جس نے مساوات، اخوت، بھائ چارہ کی تعلیم دی، انسانوں کو ظلمت سے نکال کر روشنی کی سمت لایا۔ وہ پیغمبر اسلامﷺ جس نے پڑوسی کے حق کا درس دیا۔ وہ پیغمبر اسلام جس نے کوڑا کرکٹ آپ پھینکنے والی بڑھیا کے ساتھ حسن سلوک کیااور اس کی عیادت کی۔ غرض کہ آپ ساری کائنات کے لیے رحمت اور ہدایت کا سرچشمہ تھے۔ اور آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خدا کے پیغام کی ترجمانی کی جو قرآن کریم کے مطابق تھی۔ یعنی اللہ کی وحدانیت اور اسی کی عبادت کی دعوت سخن دیا۔ جو ان کے دادا ، پردادا، سکڑ دادا یہاں تک کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام نے جو درس دیا تھا کہ اللہ ایک ہے ،اور وہی عبادت کے لائق ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہم سب ایک آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ جن کو خداے برتر نے بھارت کی سرزمین پر اتارا تھا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے