कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

جون ایلیا

تحریر:رازق حُسین۔اورنگ آباد
موبائیل نمبر 8149588808

اردو ادب کی تاریخ میں اگر کسی شاعر نے روایت، سماج اور خود اپنی ذات سے مسلسل مکالمہ کیا ہے تو وہ جون ایلیا ہیں۔ وہ شاعر نہیں تھے، ایک مکمل فکری کیفیت تھے؛ ایک ایسا کرب جو لفظوں میں ڈھل کر قاری کے دل میں اتر جاتا ہے۔ جون ایلیا نے شاعری کو محض حسنِ بیان نہیں بنایا بلکہ اسے سوال، احتجاج اور سچ کا ذریعہ بنایا۔
جون ایلیا کا پورا نام سید جون ایلیا تھا۔ وہ 14 دسمبر 1931ء کو امروہہ (اتر پردیش) میں ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد علامہ شفیق حسن ایلیا ایک معروف عالم، فلسفی اور ادیب تھے۔ گھر کا ماحول علم و فکر سے لبریز تھا، جس کا اثر جون ایلیا کی شخصیت پر گہرا پڑا۔
قیامِ پاکستان کے بعد جون ایلیا نے ہجرت کی اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ مگر ہجرت نے انہیں صرف وطن سے جدا نہیں کیا بلکہ اندرونی طور پر بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار کر دیا۔ یہی ٹوٹ پھوٹ ان کی شاعری میں تنہائی، محرومی، بے یقینی اور وجودی کرب کی صورت نمایاں ہوئی۔
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا
جون ایلیا محض شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی، مؤرخ اور مترجم تھے. وہ عربی، فارسی، عبرانی، سنسکرت اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔ ان کی فکری گہرائی ان کی شاعری کو عام رومانوی شاعری سے ممتاز بناتی ہے۔
جون ایلیا کی شاعری کی نمایاں خصوصیات روایت شکنی، خود احتسابی، فکری بغاوت، عشق کا تلخ اور سچا بیان، سماج اور اقدار پر سوال ہیں۔
میں بھی بہت عجیب ہوں، اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں
جون ایلیا کے ہاں عشق ایک ناکام تجربہ، ایک ادھورا خواب اور ایک مستقل دکھ ہے۔ ان کی ذاتی زندگی کے تجربات بھی اس میں شامل ہیں۔
کتنے دلکش ہو تم، کتنا دل جو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے
جون ایلیا کی شاعری میں وجودی فکر نمایاں ہے۔ وہ انسان کے ہونے، نہ ہونے، جینے اور مرنے پر سوال اٹھاتے ہیں۔
جون ایلیا کے اہم مجموعے شاید، یعنی، گمان، لیکن، گویا اور راموز ہیں۔
یہ تمام مجموعے ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ زندگی بھر خود سے برسرِ پیکار رہے۔
جون ایلیا نے مذہب، سیاست اور سماجی منافقت پر بے خوف قلم اٹھایا، جس کی وجہ سے وہ متنازع بھی سمجھے گئے، مگر یہی ان کی سچائی تھی۔
جون ایلیا 8 نومبر 2002ء کو کراچی میں وفات پا گئے۔ ان کی زندگی تنہائی میں گزری، مگر ان کا کلام آج بھی زندہ ہے۔ نوجوان نسل خاص طور پر جون ایلیا کو اپنی آواز سمجھتی ہے۔
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
جون ایلیا اردو ادب کے وہ چراغ ہیں جو اندھیروں میں جلتے رہے۔ وہ شاعر نہیں، ایک سوال ہیں؛ ایک درد ہیں؛ ایک آئینہ ہیں جس میں ہم اپنی شکستہ روح دیکھتے ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں خوش نہیں کرتی، بلکہ ہمیں سچ کا سامنا کرواتی ہے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے