कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فتنۂ ارتداد امت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے

مسلم لڑکیوں کا غیروں سے شادی کرنا دنیا وآخرت کی بربادی کا سبب ہے

تحریر:رضی اللہ قاسمی
جامعہ امھات المؤمنین للبنات سونار گاؤں امیٹھی ( رائےبریلی)
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم
محترم قارئین!
فتنۂ ارتداد ایک نہایت اہم، نازک اور درد بھرا موضوع ہے،
یہ موضوع صرف ایک علمی بحث نہیں ہے… یہ امت کا درد، گھر کی حفاظت اور ایمان کی بقا کا مسئلہ ہے۔
ارتداد کا مطلب یہ ہے مسلمان کا اپنے دین کو چھوڑ دینا، یا اسلام سے دور ہو کر کسی دوسرے نظریے، مذہب کو اختیار کر لینا۔
یہ کوئی چھوٹا فتنہ نہیں ،یہ ایمان کی بنیاد کو ہلا دینے والا فتنہ ہے۔
جس دور سے ہم آپ گزر رہے ہیں
یہ دور فتنوں کا دور ہے، طرح طرح کے فتنوں کا وجود ہورہا ہے، جیسے جیسے ذرائع ابلاغ بڑھتے جارہے ہیں اتنے ہی فتنے بڑھتے جارہے ہیں، ان فتنوں میں ایک فتنہ ارتداد، الحاد سر اٹھا رہا ہے، اس فتنے کے زہریلے اثرات مسلم معاشرہ میں تیزی سے پھیل رہے ہیں، رات دن مسلم خواتین کو مرتد بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ارتداد امت کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے، اپنوں کا دین و اسلام سے پھر جانا اور مرتد ہوجانا بڑے دکھ کی بات ہے، اس وقت سارے عالم میں دینِ اسلام کو مٹانے اور اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اسلام دشمن طاقتیں متحد ہو کر پوری طرح زور آزما رہے ہیں کہ اسلام کو کس طرح صفحۂ ہستی سے مٹایا جائے یا کم ازکم مسلمانوں کو مسلمانیت باقی نہ رکھی جائے، اور ایک سازش کے تحت دشمنانِ اسلام مسلم لڑکیوں کو ٹارگٹ بنائے ہوئے ہیں، آئے دن غیر مسلموں کے ساتھ ان کے رشتے کی خبریں آ رہی ہیں ، *فرقہ پرست طاقتوں کی طرف سے اسے مہم کی شکل دی گئی ہے، اس مہم میں کامیاب نوجوانوں کو کافی رقم دی جاتی ہے، پہلے وہ لوگ بھولی بھالی مسلم لڑکیوں کو پیار ومحبت کے جھانسے میں پھنساتے ہیں، گھومانے پھرانے کے ساتھ مختلف قسم کے تحائف دے کر انہیں خود سے قریب کرتے ہیں، پھر انہیں شادی کی پیش کش کرتے ہیں، اور جب وہ شادی کے لیے تیار ہوجاتی ہیں تو ان کا مذہب تبدیل کراکر ہندو رسم ورواج کے مطابق ان سے سات پھیرے لگوائے جاتے ہیں، کچھ دنوں کے بعد جب جی بھر جاتا ہے تو ان لڑکیوں کا قتل کردیا جاتا ہے لاش کسی ریل کی پٹری پر مل جاتی ہے اور حکومتی سطح پر اسے خود کشی قرار دے کر فائل بند کر دی جاتی ہے*۔
آئے دن ملک کے مختلف حصوں سے اس قسم کی تشویشناک، المناک اور پریشان کن خبریں موصول ہو رہی ہیں، اس طرح ان لڑکیوں کو دین وایمان سے بے زار کرکے ہندو مذہب میں داخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
اپنے ایما ن وعقیدہ، عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے انتہائی مستعدی کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے جو اسباب وعوامل ہیں اس کو دور کیے بغیر ہم مسلم لڑکیوں کی حفاظت نہیں کر سکتے۔
مسلم لڑکیاں کیوں مرتد ہورہیں؟:
مسلم لڑکیاں ان کے جال میں جن وجوہات سے پھنستی ہیں، ان میں ایک بڑا سبب اختلاط مردوزن ہے، یہ اختلاط تعلیمی سطح پر بھی ہے اور ملازمت کی سطح پر بھی، کوچنگ کلاسز میں بھی پایا جاتا ہے اور ہوسٹلز میں بھی، موبائل انٹرنیٹ، سوشل میڈیا کے ذریعہ یہ اختلاط زمان ومکان کے حدود وقیود سے بھی آزاد ہو گیا ہے، پیغام بھیجنے اور موصول کرنے کی مفت سہولت نے اسے اس قدر بڑھا وا دے دیا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کی خلوت گاہیں ہی نہیں، جلوت بھی بے حیائی اور عریانیت کا آئینہ خانہ بن گئی ہیں، یہ اختلاط اور ارتباط آگے بڑھتا ہے تو ہوسناکی تک نوبت پہونچتی ہے، جسے محبت کے حسین خول میں رکھ کر پیش کیا جاتا ہے، والدین اور گارجین یا تو اتنے سیدھے ہیں کہ انہیں لڑکے لڑکیوں کے بے راہ روی کا ادراک ہی نہیں، یا اتنے بزدل ہیں کہ وہ اس بے راہ روی پر اپنی زبانیں بند رکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں، یا تلک جہیز کی بڑھتی ہوئی لعنت، شادی کے کثیر اخراجات کے خوف سے اسی میں عافیت سمجھتے ہیں کہ لڑکیاں اپنا شوہر خود تلاش لیں، کورٹ میریج کرلیں؛ تاکہ یہ درد سر ان سے دور ہوجائے، ان خیالات کے ایک طرف قوانینِ شرعیہ پر حملے کئے جارہے ہیں تو دوسری طرف فرقہ پرست طاقتیں مسلم لڑکیوں کو ارتداد کے دھانے تک پہنچا رہے ہیں،
میڈیا کے ذریعہ نئی نسل کا ذہن خراب کررہے ہیں، اور ہرطرف اسکولوں اور کالجوں میں بےحیائی کا ماحول بنایا جارہا ہے، نئی نسل عیش وعشرت کے راستہ پر چل رہی ہے، عورتیں بے پردہ ہوچکی ہیں، اللہ کے احکامات سے بغاوت کررہی ہیں، زنا آسان ہوگیا ہے۔
کل تک اغیار اپنی اکثریتی علاقوں میں ظلم و ستم کا کھیل کھیلتے تھے، اب وہ اتنے بے لگام ہوگئے ہیں کہ ہماری آبادیوں میں گھس کر ہماری بہن بیٹیوں کی عزت کو پامال کررہے ہیں۔
اس لئے ہم سب اس فتنہ ارتداد سے خود بچیں اور اپنی بہنوں کو بھی بچانے کی کوشش کریں، دینی تعلیم میں آگے بڑھیں، پردے اور حیا کو اپنی حفاظت سمجھیں ،غیر مردوں سے فاصلہ رکھیں، سوشل میڈیا کا محتاط استعمال کریں ،دوستی کے نام پر کسی پر اعتماد نہ کریں ،گھر والوں کو اپنا مسیحا سمجھیں، دشمن نہیں، نماز، قرآن، دعا اور ذکر سے ہمیشہ اپنا تعلق قائم رکھیں۔اور اس فتنہ ارتداد سے بچنے کی خوب زیادہ دعائیں کریں۔اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور اس فتنہ ارتداد سے ہماری مسلم بہنوں کو بچائے ۔ آمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے