कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خواتین کی اُردو صحافت اور عصرِ حاضر کے تقاضے

تحریر:ڈاکٹر مرضیہ عارف (بھوپال)
(ڈسٹینس ایجوکیشن برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال)

گلوبلائزیشن کے موجودہ دور میں خواتین مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی اور مہارت کا لوہا منوا رہی ہیں لیکن کوئی بات تو ہے کہ صحافت (جرنلزم) میں اُن کی نمائندگی کم ہے اور اردو صحافت میں تو خواتین کی تعداد انگلیوں پر گنے جانے کے قابل ہے حالانکہ ہندوستانی عورتوں نے آزادی کی لڑائی میں مردوں کے کاندھے سے کاندھا ملاکر سنگھرش کیا اور اردو زبان میں شاعرات نیز خواتین قلم کاروں کی اچھی خاصی تعداد ایسی ملتی ہے جنھوں نے غزل، نظم، کہانی اور ناول لکھنے میں ایک لمبا سفر طے کرکے پہچان بنائی لیکن اردو صحافت کی طرف آج کی صنفِ نازک کا متوجہ نہ ہونا غوروفکر کا موضوع ہے۔
اِس سے پہلے کہ میں بات آگے بڑھاؤں ہندوستان میں صحافت کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے چلیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں صحافت کا آغاز انگریزی اخبارات سے ہوا۔ غیر ملکی حکمرانوں نے اپنے سیاسی اور تجارتی مفادات کو پورا کرنے کے لیے اخبارات نکالے۔ اِس پہل سے متحدہ ہندوستان میں اردو صحافت کی ایک پائیدار بنیاد پڑگئی۔ اِس مستحکم بنیاد کو ۱۸۵۷ء کی ملک گیر بدامنی اور انگریز حاکموں کی سخت گیر پالیسی بھی کمزور نہیں کرسکی۔ یہ ضرور ہوا کہ اردو اخبارات انگریزوں کی ملک دشمن پالیسی پر کھل کر تنقید کرنے کے بجائے دبے اور چھپے لفظوں میں اپنا احتجاج درج کرانے لگے اور اِس کے لیے قلم کاروں نے طنزومزاح کے علاوہ خواتین کے قلمی نام سے عصری موضوعات پر لکھنا شروع کردیا۔ اِس کا مقصد خواتین میں سیاسی، سماجی اور معاشی شعور پیدا کرنا بھی تھا تاکہ انھیں اپنے مسائل اور ملک و قوم کی صورتِ حال خاص طور پر انگریز حاکموں کے ذریعہ ہندوستان کے استحصال کا اندازہ ہوسکے۔ لہٰذا ڈاکٹر انورسدید کے مطابق مولوی سیّد احمد دہلوی کا 1884ء میں جاری ہونے والا ’اخبار النساء‘ خواتین کا پہلا باقاعدہ رسالہ ہے جو مہینہ میں تین بار شائع ہوتا تھا، اِس کے بعد ہفت روزہ ’تہذیبِ نسواں‘ لاہور سے 1898ء میں سیّد ممتاز علی نے شروع کیا اور 1949ء تک یہ مسلسل شائع ہوتا رہا۔ سرسیّد کے دست راست شیخ عبداللہ کا ’خاتون‘ (1904ء)، راشدالخیری کا ’عصمت‘، خواجہ حسن نظامی کا ’تبلیغِ نسواں‘، عطیہ بیگم کا ’معینِ نسواں‘، سعادت سلطانہ کا ’نورجہاں‘، رضیہ ہاجرہ کا ’ثریا‘ اور صالحہ خاتون کا ’عِفّت‘ 1926ء میں جاری ہونے والے خواتین کے یہ قابل ذکر رسائل ہیں لیکن خواتین کے نام سے نکلنے والے ایسے کئی رسالوں میں لکھنے والے مرد قلم کار ہوتے تھے اور خواتین کا نام ایڈیٹر کی حیثیت سے دے دیا جاتا تھا۔ حیدرآباد کی صغرابیگم ایڈیٹر ’النساء‘ اور اِس کے بعد عصمت آرا حجاب ایڈیٹر ’خاتونِ مشرق‘ دہلی ایسی خواتین صحافی ہیں جو اپنے رسائل خود مرتب کرتی تھیں۔ نوابی ریاست بھوپال میں خواتین کا پہلا ماہنامہ ’الحجاب‘ اِس کے بعد ’اُمہات‘، ’آفتابِ نسواں‘ اور ’افشاں‘ بھی مرد صحافی نکالتے رہے ہیں۔
ملک کی آزادی کے بعد خواتین کے دو اہم رسائل ’خاتونِ مشرق‘ اور ’بانو‘ کا ذکر یہاں ضروری ہے۔ یہ دونوں اگرچہ آزادی سے پہلے جاری ہوئے لیکن برسوں پابندی کے ساتھ نکلتے رہے۔ ’بانو‘ ضرور بند ہوگیا لیکن ’خاتونِ مشرق‘ جو پرانے ڈھنگ کا رسالہ ہے آج بھی شائع ہورہا ہے۔ اِس کے نام میں رسالے کے انداز کی جھلک موجود ہے۔ جب کہ ’بانو‘ میں نئے پن کی چمک دمک ملتی تھی۔ اِس کے پڑھنے والوں میں نئی نسل کی نمائندگی زیادہ تھی۔ سعدیہ دہلوی اِس کی مدیرہ تھیں، خواتین کا ایک اور اہم رسالہ ’حریم‘ ہے جو 1930ء سے شائع ہورہا تھا۔ اِن کے علاوہ بھی کچھ رسائل ہیں جو خواتین نکال رہی تھیں لیکن بیشتر بند ہوگئے ہیں۔
میرا موضوع ’خواتین کی اردو صحافت اور عصرِ حاضر کے تقاضے ‘ہے۔ لہٰذا اپنی بات کو سمیٹتے ہوئے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہندوستانی خواتین جو آزادی کی تحریک میں مردوں کے شانہ بشانہ انگریزوں کے خلاف لڑتی رہیں، اُردو صحافت کی طرف اُن کی خاطرخواہ توجہ کیوں نہیں ہوئی؟ جن خواتین نے رسائل و اخبارات میں لکھنا شروع کیا تو اُن کا زیادہ تر موضوع افسانے، ناول اور شاعری تھا۔ ایسی خواتین کی تعداد جنھیں آج کے معنوں میں ہم کُل وقتی (فُل ٹائم) صحافی کہہ سکیں محدود رہی۔ اِسی طرح روزنامہ اخبارات میں 20ویں صدی کے ساتویں دہائی کے دوران ہمیں ایک بھی خاتون صحافی نظر نہیں آتی۔ اِس دہائی کے آخر میں ضرور اُردو روزناموں کی دنیا میں بھوپال کی خالدہ بلگرامی کا داخلہ ہوا۔ روزنامہ اخبارات میں خواتین کی نمائندگی کا یہ پہلا تجربہ 1978ء میں ’آفتابِ جدید‘ بھوپال نے کرکے دوسری خواتین کی نمائندگی کو اُردو روزناموں میں داخلہ کی راہ دکھائی لیکن وہ بھی ہمہ وقت صحافی کی حیثیت سے ڈیسک پر کام کرتی رہیں۔ رپورٹنگ سے اُن کا تعلق نہیں تھا۔ اردو کا دوسرا روزنامہ ’قومی آواز‘ نئی دہلی ہے جس نے خواتین کے لیے اپنے دروازے کھول کر ایڈیٹوریل بورڈ میں نورجہاں ثروت کو شامل کیا۔ بعد میں وہ ’انقلاب‘ بمبئی کی نمائندہ برائے دہلی رہیں اور 1916ء میں اپنی رحلت تک اردو کالم نویس کی خدمت انجام دیتی رہیں، ایک اور نام حمیرہ قریشی کا ہے جو ’سیاست‘ حیدرآباد میں کالم نگاری اور رپورٹنگ کی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ نورجہاں ثروت اُردو صحافت میں خواتین کے حصّہ پر روشنی ڈالتے ہوئے خود تحریر کرتی ہیں کہ ’’پچھلے پچیس تیس برس کے عرصے میں دہلی سے شائع ہونے والے دو تین ماہنامے ایسے ہیں جن کا انتظام عورت ذات کے ہاتھوں میں ہے۔ ایک مذہبی ماہنامہ ’’آستانہ‘‘ جسے صاحبزادہ مستحسن فاروقی کے انتقال کے بعد ان کی بیگم ریحانہ فاروقی چلا رہی ہیں۔ دوسری ڈاکٹر شمع افروز زیدی جو دہلی اردو اکادمی کے بچوں کے رسالے ’اُمنگ‘ میں سب ایڈیٹر اور رسالہ ‘بیسویں صدی‘ کی ایڈیٹر رہیں۔ مونسہ بشریٰ عابدی مرحومہ بھی ممبئی کے اخبارات میں برسوں کالم نگاری کرتی رہیں۔ ’محفلِ صنم‘ دہلی کی ایڈیٹر شہلا نواب اور ’حجاب‘ رام پور کی مدیرہ اُمّ صہیب، یہ دو خواتین مدیراؤں کے قابل ذکر نام ہیں۔
اِس کے برعکس انگریزی صحافت میں عورتوں کی نمائندگی بڑھی۔ کچھ تو باقاعدہ کالم نگار بن گئیں جیسے بیگم انیس جنگ، نکہت کاظمی، حمیرہ قریشی۔ سیما مصطفی کو ہم ہمہ وقتی (فل ٹائم) خاتون جرنلسٹ شمار کرسکتے ہیں۔ ہندی صحافت میں مرنال پانڈے ایک بڑا نام ہے جو ہندی ڈیلی ’ہندوستان‘ کی ایڈیٹر رہی ہیں۔
ملکی صحافت میں خواتین کی نمائندگی پر مشتمل اِس تفصیلات کے بعد اُردو روزناموں میں خواتین کے لیے جو مخصوص مواد شائع ہورہا ہے اس کا ذکر بھی ضروری ہے۔ ہندوستان کے سبھی اہم روزناموں میں عورتوں کے لیے صفحات یا کالم مخصوص ہیں۔ جن میں اوّل خواتین کے مضامین، کہانی، نظم، غزل یا اُن کے مسائل کو لیا جاتا ہے۔ بمبئی کے روزنامہ ’انقلاب‘ اور ’اردو ٹائمز‘ کے علاوہ کلکتہ کے ’اخبارِ مشرق‘، ’آبشار‘، ’آزادِ ہند‘، پٹنہ کے ’قومی تنظیم‘، حیدرآباد کے ’سیاست‘، ’منصف‘، دہلی کے ’ملاپ‘، ’قومی آواز‘، لکھنؤ کے ’آگ‘ اور ’صحافت‘، بنگلور کے ’سالار‘یا بھوپال کے ’ندیم‘ وغیرہ میں ہفتہ کے کسی دن خواتین کے لیے مخصوص مواد کی اشاعت عرصہ دراز سے ہورہی ہے۔ قومی سطح کے اخبار روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ کے سبھی ایڈیشنوں میں اتوار کے دن شائع ہونے والے سنڈے ایڈیشن کے ’اُمنگ‘ میں کچھ حصّہ خواتین کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔
اِس جائزے کے بعد میں اپنا سوال پھر دُہراؤں گی کہ آج خواتین ہر شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں انھیں ہم پائلٹ کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں، فوج میں اُن کا داخلہ ایک حقیقت ہے، پولیس اور انتظامیہ میں مردوں کے شانہ بشانہ وہ کھڑی نظر آتی ہیں لیکن پرنٹ میڈیا یعنی اخبارات اور بالخصوص اردو صھافت میں اُن کی بہت کمی ہے جس پر توجہ دے کر ہمیں اِس کی وجہ اور حل تلاش کرنا چاہئے۔ اِس کے سماجی اور اقتصادی اسباب ہوسکتے ہیں اور اِس خطرہ کا احساس بھی کہ صحافت میں قدم رکھنے والی خواتین کہیں استحصال کا شکار نہ ہوں۔ کیونکہ جس سماج یا شعبے میں مردوں کی اجارہ داری مسلّم ہے وہاں لڑکیوں کو قدم قدم پر مردوں کی بالادستی کا شکار ہونے کا خطرہ رہتا ہے اور اِس خطرے کو دور کرکے ہی اردو اخبارات میں لڑکیوں کی نمائندگی بڑھائی جاسکتی ہے۔ میری رائے میں اِس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ صحافت میں اُن صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوگا جو آج تک نہیں ہوسکا، دوسرے اِس شعبہ میں روزافزوں ہے راہ روی پر قابو پانے میں مدد ملے گی کیونکہ خواتین ایمانداری اور اپنے پُروفیشن کے تئیں احساسِ ذمہ داری کی مردوں کی بہ نسبت زیادہ عادی ہوتی ہیں، جس کے نتیجہ میں یلو جرنلزم اور فیکس نیوز جیسی بڑھتی برائیوں میں کمی آئے گی، ساتھ ہی صحافت جن اُصول و نظریات کا تقاضا کرتی ہے، اُن کو استحکام ملے گا۔
ہم بھوپال کی صحافتِ نسواں پر نظر ڈالیں تو سب سے بڑا نام ہماری پیش رو ڈاکٹر رضیہ حامد صاحبہ کا نظر آتا ہے، جنھوں نے 1982ء میں دہلی سے سہ ماہی ’فکروآگہی‘ جیسا منفرد ادبی رسالہ جاری کرکے اُردو صحافت میں قدم رکھا تو مُڑکر نہیں دیکھا اور مدھیہ پردیش کی پہلی خاتون اردو مدیرہ کا اعزاز حاصل کرلیا، محترمہ نے 2005ء تک ایک سے بڑھ کر ایک موضوع اور شخصیات پر اِس رسالہ کے ضخیم ایک درجن سے زیادہ خاص نمبر شائع کرکے اردو کی صحافتی دنیا سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا ہے، جس میں بھوپال نمبر جیسا ضخیم و بے مثال شمارہ بھی شامل ہے، موصوفہ پر ابھی حال میں پی ایچ ڈی بھی ایوارڈ ہوچکی ہے۔
محترمہ خالدہ بلگرامی صاحبہ کا ذکر ہوچکا ہے، وہ اُردو کی پہلی فل تائم جرنلسٹ تھیں جنھوں نے بائیس سال سے زیادہ مدت تک ’آفتابِ جدید‘ اور ’ندیم‘ میں کام کیا اور مضامین لکھنے کے ساتھ طویل عرصہ بچوں کا صفحہ بھی مرتب کرتی رہیں۔ محترمہ سلطانہ حجاب صاحبہ کی گوناگوں صلاحیتوں کا اظہار روزنامہ ’ندیم‘ میں ہوا، ترجمہ اور خبرنگاری میں اُنھیں بڑا ملکہ حاصل ہے، اُنھوں نے کچھ عرصہ خواتین کا صفحہ مرتب کرکے بھی دھوم مچادی جو بہت مقبول ہوا، اِسی سلسلہ کا ایک اور نام استوتی اگروال (سرونج) کا ہے جن کی مادری زبان اُردو نہیں لیکن اُنھوں نے کمپوزنگ، ترجمہ نگاری اور ادبی رسالہ ’سہ ماہی ’انتساب‘ میں سیفی سرونجی صاحب کے معاون کی حیثیت سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرکے بہت جلد خاص شناخت بنالی ہے۔
جہاں تک خواتین کی صحافت میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کا سوال ہے تو پہلی ضرورت اِس کی ہے کہ خواتین کے رسائل میں اُن کی تخلیقات کو ترجیح ملے اور اُن کے مسائل پر ڈسکشن بھی ہو، تاکہ آج کی خواتین کیا سوچتی اور کہتی ہیں؟ یہ معلوم ہوسکے مضامین نہیں تو انٹرویو کی اشاعت سے بھی یہ کام ہوسکتا ہے، یہی کچھ پہلو ذہن میں آئے تو اُن کا بلاتکلف اپنی محفل میں اظہار کردیا ہے، جہاں تک اِن پر غوروفکر اور عمل درآمد ہے، یہ آج کی صورتِ حال میں پہلے سے زیادہ مشکل نظر آتا ہے پھر بھی بقول شاعر ؎
خامُشی بزم کا دستور ہوئی جاتی ہے
پھر سے لب کھول کہ ہنگامہ اُٹھے دیر ہوئی

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے