कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

بحیثیتِ معلم اردو زبان کی ترقی میں کردار

از قلم: سید مستقیم سید منتظم
صدر مدرس: ضلع پریشد اردو پرائمری اسکو ل بیودہ ضلع امراؤ تی مہاراشٹر

اردو زبان برصغیر کی تہذیبی و ثقافتی تاریخ کا آئینہ ہے۔ یہ وہ زبان ہے جس نے مختلف مذاہب، قومیتوں اور علاقوں کے لوگوں کو ایک مشترکہ رشتے میں باندھا۔ اردو نے ہندستان کے سماجی، ادبی اور فکری منظرنامے کو نکھارا اور ایک ایسے تمدنی شعور کو جنم دیا جو رواداری، محبت اور بھائی چارے کی علامت بن گیا۔ مگر کسی بھی زبان کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کے فروغ کے لیے اساتذہ اپنی علمی، عملی اور اخلاقی کوششیں نہ کریں۔ اسی تناظر میں معلمِ اردو کا کردار نہایت اہمیت رکھتا ہے۔
اردو زبان اور معلم کا باہمی تعلق:
معلم صرف علم دینے والا نہیں ہوتا بلکہ وہ ایک رہنما، مصلح اور زبان و ادب کا امین ہوتا ہے۔ اردو معلم کا کام محض قواعد اور لغت سکھانا نہیں بلکہ زبان کے حسن، فکر اور تہذیبی اقدار کو نسلِ نو تک پہنچانا ہے۔ وہ اپنی تدریس کے ذریعے طلبہ کے اندر زبان سے محبت، اظہار کی صلاحیت، اور ادبی ذوق کو پروان چڑھاتا ہے۔ اردو زبان کے فروغ کے لیے معلم کی دلچسپی، محنت، اور جذبہ ہی دراصل وہ قوت ہے جو زبان کو زندہ اور فعال رکھتی ہے۔
تدریسِ اردو میں جدید رجحانات کا استعمال:
زمانہ بدل رہا ہے، تعلیم کے ذرائع بھی جدید ہو چکے ہیں۔ ایک مؤثر معلمِ اردو کے لیے ضروری ہے کہ وہ جدید تدریسی طریقے اپنائے۔ وہ طلبہ کو صرف کتابی معلومات نہ دے بلکہ عملی سرگرمیوں میں شامل کرے جیسے کہ مکالمے، ڈرامے، مشاعرے، تقریری مقابلے اور کہانی گوئی کے ذریعے زبان کے حسن اور اظہار کی مشق کروائے۔ ٹیکنالوجی، آڈیو ویژول ذرائع اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھی اردو سکھانے کے نئے در وا ہو چکے ہیں۔ ایک معلم اگر ان ذرائع سے فائدہ اٹھائے تو اردو زبان کی مقبولیت میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
زبان کی خالصتاً ترویج اور درستگی:
اردو زبان میں مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ انگریزی اور دیگر زبانوں کے اثر نے کبھی کبھی اردو کی خالصتاً ساخت کو نقصان پہنچایا ہے۔ معلمِ اردو کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کو درست تلفظ، صحیح جملہ سازی اور زبان کی اصل روح سمجھائے۔ وہ انہیں اردو لکھنے، بولنے اور سمجھنے میں مہارت عطا کرے تاکہ زبان کا خالص پن باقی رہے۔ یہی معلم کی سب سے بڑی خدمت ہے کہ وہ زبان کی درستگی اور شستگی برقرار رکھے۔
ادب اور کردار سازی:
اردو ادب میں اخلاقی و فکری تربیت کا وافر سامان موجود ہے۔ ایک معلم جب اپنے شاگردوں کو میر، غالب، اقبال، فیض، پریم چند، سجاد ظہیر اور عصمت چغتائی جیسے ادیبوں کے کلام اور تحریروں سے روشناس کراتا ہے تو وہ ان کے ذہنوں میں صرف زبان کا شعور ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ ان کے کردار میں اخلاق، انسانیت اور حقیقت پسندی کے نقوش بھی اجاگر کرتا ہے۔ یوں معلم صرف زبان نہیں سکھاتا بلکہ ایک با شعور اور مہذب نسل تیار کرتا ہے۔
مدرسے، اسکول اور معاشرتی سطح پر کردار:
اردو معلم نہ صرف تعلیمی اداروں میں بلکہ معاشرتی سطح پر بھی زبان کے فروغ میں حصہ لیتا ہے۔ وہ ادبی نشستوں، مشاعروں، سیمیناروں اور تقریری مقابلوں کے ذریعے اردو کے فروغ کی فضا قائم کرتا ہے۔ وہ مقامی سطح پر ادبی ذوق پیدا کرتا ہے، کتاب بینی کی عادت ڈالتا ہے اور زبان سے وابستہ محبت کو عام کرتا ہے۔ ایک اچھا معلم ہمیشہ اپنی تدریس کو عملی زندگی سے جوڑتا ہے، تاکہ زبان محض نصابی مضمون نہ رہے بلکہ زندگی کا حصہ بن جائے۔
اردو کے فروغ میں درپیش چیلنجز:
آج کے دور میں اردو کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ انگریزی زبان کی بالادستی، سوشل میڈیا پر غیر معیاری زبان کا استعمال، اور نئی نسل کا مادری زبانوں سے دور ہونا تشویش ناک رجحان ہے۔ ایسے میں معلمِ اردو کا کردار اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ وہ نئی نسل کو یہ باور کرانے کی ذمہ داری رکھتا ہے کہ اردو زبان محض ایک مضمون نہیں بلکہ ان کی تہذیب، شناخت اور فخر کا حصہ ہے۔ اگر معلم سنجیدگی اور حکمت سے کام لے تو اردو کی عظمت کو دوبارہ عروج حاصل ہو سکتا ہے-
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ اردو زبان کی ترقی میں معلم کا کردار بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ معلم ہی وہ چراغ ہے جو علم کی روشنی سے نئی نسل کے ذہنوں کو منور کرتا ہے۔ اگر ہر معلم اپنی ذمہ داری کو ایمانداری، محبت اور جذبے کے ساتھ ادا کرے تو اردو زبان کا مستقبل روشن ہے۔ اردو ہماری تہذیب، شناخت اور محبت کی زبان ہے — اور اس کے فروغ کی کنجی معلم کے ہاتھ میں ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے