कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

خیر امت پر زوال کیوں؟

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی مہاراشٹر۔ 9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

یہ ماضی سے لیکر دور حاضر تک کا ایک ایسا سلگتا ہوا اور ایک برننگ سوال ہے۔ جس کا جواب ہمارے پاس ہی موجود ہے۔ جس طرح ہم نے اللہ کی قدر کرنا تھی ویسی نہیں کی۔ جو تمام کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ اور تمام سلطنتیں اس کے لیے ہیں۔ کیونکہ یہ دنیا امتحان ہے۔ یہاں انسانی زندگی اور موت کو امتحان کے طور پر پیدا کیاگیا ہے۔ اور پھر انسان کو مکلف بنایا ہے کہ وہ اچھے اور برے میں تمیز اور فرق کریں۔ آج ہماری قوم و ملت کے ابتر ہونے کی وجہ تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ ہماری قوم اچھی رہنمائ اور سچی قیادت سے محروم ہے۔ جو اج وقت کی اہم ضرورت ہے، قیادت کا تعلق بھی نیتوں پر منحصر ہے، نیتیں خالص اور قوم و ملت کے سرخروئ کے لیے ہو تو ہم اس ( Demotion) تنزلی سے باہر نکل کر روشن سمت کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے کسی کو اگر چاہا تو اس کو اپنا لیڈر بنا دیا۔ ہماری خرابی یہ بھی ہے کہ ہم نے کسی پر بھروسہ کر لیا تو اسی پر اکتفا کر لیا۔ جبکہ قران مجید نے اچھی اور لوگوں کی فلاح کے لیے رہنمائ فرمائ ہے کہ ایسے لوگوں کو پیش رفت کرنا چاہیے، اولا جن میں ایمانداری اور قوم کے تئیں ایثار و قربانی کا جذبہ موجزن ہو ۔ جو اللہ کی مخلوق کے ساتھ کچھ بھلا کرنا چاہتا ہو ۔ دوسرے یہ کہ قائد کی صلا حیتیں علم اور ( Knowledge) معلومات پر منحصر ہے ۔ اگر علم و معلومات اور صلاحیت ہو تو وہ قوم وملت کی بہترین قیادت اور رہنمائی کر سکتا ہے۔ صرف تنظیمیں بنا کر ( Political benefit) سیاسی ساکھ حاصل کرنا ذاتی مفاد کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی کی تصنیف شدہ کتاب اسلامی بیداری” انکار اور انتہا پسندی کے نرغے میں” مولانا سلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب سے ایک اقتباس کا ترجمہ اردو میں نقل کیا ہے۔ رقم طراز ہیں، یہاں سچی اور انصاف کی بات یہ ہے کہ۔ کچھ نوجوانوں نے صرف کتاب پر اعتماد کیا ہے۔ اس لیے کہ انہیں پیشہ ور علماء، اور خاص طور سے ان علماء پر جو فرمانرواؤں کے قریب ہوتے ہیں، اعتماد نہ رہا، اس لیے کہ وہ ان حاکموں کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ جن کے فیصلے اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے خلاف ہوتے ہیں۔ اور یہ اسے جانتے بھی ہیں۔ پھر یہ علماء ظالم کو ظالم کہنے سے خاموش رہنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ تعریف و تحسین کے کلمات سے اسے نوازتے ہیں۔ آپ بڑے انصاف پرور ہیں ۔ آپ بہت ہی عظیم ہیں۔ آپ ہیرو ہیں۔ کاش اگر حق بات کہنے سے یہ لوگ خاموش رہتے ہیں تو تو باطل کو حق بنانے کی کوشش تو نہ کرتے۔ یہی وہ لوگ ہیں ایک سال جس چیز کو حلال قرار دیتے ہیں ، تو دوسرے سال اسی کو حرام بنا دیتے ہیں۔ ایسے ہی اگر صورتحال اہل علم میں پنپے تو پھر زوال کا ہی شکار ہوں گے۔ قران کریم میں اللہ کا ارشاد ہے۔ جس کا مفہوم ہے، تم ایک بہترین امت ہو ، جو لوگوں کی بھلائی اور ان کی اصلاح کے لیے نکالی گئ ہے۔ کہ تم انہیں بھلائی کا حکم دو اور برائی سے بچنے کی ترغیب دیں۔ اور یہ امت بقول قران قیامت تک خیر امت ہی رہے گی۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں دین اسلام کو ہم تک پہونچانے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو جو ( Sacrifices) قربانیاں دینی پڑی وہ اظہر من شمس ہیں۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں ہم تک دین کو پہونچانے میں انہوں نے دین کے اصل پر محنت کی یعنی دین کے مغز پر کام کیا ۔اور ہم تک خدا کے ( Message ) پیغام کے مقصد کو ہم پر آشکارہ کیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم کو بھی خیر امت کہا گیا ہے۔ لیکن وہ بھی زوال اور اللہ کے عذاب کے شکار ہوئے ہیں۔ مختصر یہ کہ، جب انہوں نے اپنی قوم کو یعنی بنی اسرائیل کو ایک قوم کے خلاف جہاد کے لیے بلایا، تو ان کی قوم بنی اسرائیل نے بزدلی کا اور پست ہمتی کا مظاہرہ کیا۔ اور اس طرح ایک عظیم الشان عبادت سے انحراف کیا۔ اور حضرت موسی سے کہا کہ تم اور تمہارا رب جاؤ اور جہاد کرلو۔ اور ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔ اس طرح حضرت موسی علیہ السلام عاجز ہو کر ان سے برات کا اظہار کر دیا۔ جس کی پاداش میں ان پر زوال آیا اور عذاب کا شکار ہوئے۔ بتانا مقصود یہ ہے کہ، جو جو قوم فلاحی کاموں اور عبادات سے روگردانی کرتی ہے، تو عذاب کا شکار ہوتی ہے، آج ہمارے پاس بہت ساری تنظیمیں اور جماعتیں ہیں۔ پھر بھی کوئی ( Satisfied) خیر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ جہاں ہم آر ایس ایس کے قیام کا ذکر کرتے ہیں۔ وہی جمعت العلماء کے بھی قیام کا ذکر تقاریر میں کرتے ہیں۔ جمیعت علماء کا قیام 1919 میں عمل میں آیا اور وہیں آر ایس ایس کا قیام 1925 یعنی پانچ سال بعد عمل میں آیا۔ ہمارے پاس تنظیمیں بہت ہیں ، لیکن ( Outputs ) کچھ بھی نہیں ہے۔ وہیں ار ایس ایس ایک ہی جماعت پر مشتمل ہے ۔ لیکن وہ پورے ہندوستان پر قابض ہونے کی ( Ability ) صلاحیت رکھتی ہے۔ اور ہمارے پاس اتنی تنظیمیں ہو کر بھی ہم وہی ہیں جہاں پر تھے۔ نہ ہم میں دینی بصیرت ہے، اور نہ ہی ( Political sense) سیاسی بصیرت ہے، نہ ہماری تنظیموں کے پاس کوئ خاطر خواہ لائحہ عمل یا منشور ہے ، جو قوم و ملت کے مفاد میں ہو۔ کیونکہ ہم نے دینی اور سیاسی اعتبار سے اصل پر کام نہیں کیا،اور نہ ہی کر رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ ناکامیابی کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہم نے دین کے قشر (Shell) پر کام کیا نہ کہ دین کے ( Kemel) اصل مغز پر۔ اگر ہم دین کے مغز پر کام کرتے ، تو بقول قران قد افلح المومنون۔ یعنی کامیابی مومنوں کے مقدر میں ہوتی ۔ امت کے( Decadence) زوال کا اصل سبب قلوب سے حساسیت اور احساس کا ختم ہونا ہے، اور دین کے قشر کو ہی لوگ اصل مغز سمجھنے لگے۔ نمازی تو ہوں ، پر ان کے قلوب خشیت الھی اور ہدایت سے خالی ہوں، جب خوف خدا قلوب سے ختم ہوجائیں تو زوال جیسے حالات پیدا ہونا لازمی ہے۔ اور یہی نہیں اگر ہم ایمانداری اور فریضہ سمجھکر اشاعت دین ، اشاعت انسانیت، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی نہیں کرینگے تو ،خداے بر تر تم پر دوسری قوم کو مسلط کریگا۔ جو یہ کام انجام دیگی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے