कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

فلسفے کی تعلیم: روایت نہیں، ضرورت

از قلم: ڈاکٹر مفتی اشتیاق احمد قاسمی حفظہ اللہ
مدرس دارالعلوم دیوبند

فلسفے کی معروف و دقیق تصنیف "میبذی” دارالعلوم دیوبند اور اسی طرز کے تمام مدارسِ اسلامیہ کے نصاب میں شامل ایک اہم کتاب ہے۔ یہ دراصل "ہدایت الحکمت” کی شرح ہے، جسے اپنی گہرائی، دقتِ فہم اور فکری وسعت کے اعتبار سے خاص مقام حاصل ہے۔ دارالعلوم دیوبند میں اس سے قبل "مبادی الفلسفہ” پڑھائی جاتی ہے تاکہ طلبہ فلسفیانہ اصطلاحات سے مانوس ہو جائیں اور "میبذی” کی پیچیدہ مباحث کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
افسوس کہ آج کے دور میں طلبہ کو فنِ فلسفہ سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی، حالانکہ نصاب میں اس کا باقی رہنا محض روایت نہیں بلکہ ایک بڑی ضرورت ہے۔ اگرچہ اس کتاب سے فلسفے کا حصولِ فن مقصود نہیں، لیکن اس کے مطالعے سے ردِّ فلسفہ کی صلاحیت، گہرے غور و فکر کا ذوق، اور تحلیلی طرزِ استدلال کی قوت ضرور پیدا ہوتی ہے۔ جو طالبِ علم پوری توجہ سے "میبذی” کا درس لیتا ہے، وہ بال کی کھال نکالنے کی ذہنی صلاحیت اور دقیق نکات کے ادراک کی استعداد حاصل کر لیتا ہے۔
یہ تصور کرنا غلط ہے کہ مدارس میں فلسفہ کو سائنس کی تعلیم کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ جدید سائنس کے لیے تو الگ وسائل اور کتب موجود ہیں۔ یہاں "میبذی” کی تدریس کا مقصد محض یہ ہے کہ طالبِ علم باطل فلسفیانہ نظریات کے رد پر قادر ہو جائے اور عقائد و معقولات کے مباحث میں منطقی تردید کا اسلوب سیکھ لے۔
میبذی کے مطالعے کا ایک امتیازی پہلو یہ بھی ہے کہ مصنف نے اکثر مقامات پر اشکال و جوابات کی شکل میں گفتگو کی ہے۔ بعض جگہوں پر سوالات اٹھا کر انہیں تشنہ چھوڑ دیا ہے، تاکہ قاری خود غور و فکر سے جواب تلاش کرے۔ اس طرزِ بیان کا مقصد جواب سکھانا نہیں، بلکہ سوچنے کا سلیقہ سکھانا ہے — اور یہی اس کتاب کی روح ہے۔
دارالعلوم کے نصاب میں "میبذی” کی شمولیت ایک حکیمانہ فیصلہ ہے، جس میں کوئی کمی نہیں، بلکہ یہ فنِ منطق و فلسفہ کی ابتدائی تربیت کا اہم ذریعہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے