कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

حضرت مولانا محمد سعید خان ؒ: دعوتِ دین کے مخلص سپاہی اور علمِ دین کے سچے شیدائی

ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس،
سائنس و کامرس، اورنگ آباد
جنرل سکریٹری، تنظیم ابنائے کاشف، اورنگ آباد

مجھے اس بات پر بے حد فخر ہے کہ میں ریاست مہاراشٹر کی ایک عظیم اور قدیم دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم کا پروردہ ہوں، جہاں میں نے ابتدا سے اختتام تک علمی فیضان حاصل کیا۔ فراغت کے بعد جب اورنگ آباد آنا ہوا تو اللہ نے مجھے ایک ایسی شخصیت سے قریب کر دیا جو نہ صرف میرے والد محترم عبدالعزیز صاحب سے قلبی تعلق رکھتے تھے بلکہ جامعہ کے قدیم ترین استاذ مولانا سید سمیع اللہ حسینی ندوی کے برادرِ کلاں، ڈاکٹر ثناء اللہ حسینی عرف ڈاکٹر سرتاج صاحب کے قریبی رفیق بھی تھے۔ وہ عظیم ہستی حضرت مولانا الحاج سعید خان صاحبؒ تھے۔
مولانا سے میری قربت اور محبت کا رشتہ بہت جلد پروان چڑھا۔ فراغت کے بعد جب میں اپنے وطن آیا تو وہ مجھے اپنائیت بھرے لہجے میں ’’مولوی‘‘ کہہ کر بلاتے، رکشہ میں ساتھ بٹھاتے اور جہاں کہیں دینی بیان کی ضرورت ہوتی، مجھے آگے کر دیتے۔ میرے بیان کے بعد وہ میری بھرپور حوصلہ افزائی کرتے، داد و تحسین دیتے اور اس طرح میرے اندر خود اعتمادی کو جِلا بخشتے۔
میں نے ان کے خطابات کو ہمیشہ بڑے غور سے سنا۔ جب وہ بیان کیلئے کھڑے ہوتے— حالانکہ اکثر بیٹھ کر ہی بیان کرتے— تو سامعین ان کی باوقار اور پرکشش شخصیت کو دیکھ کر محوِ حیرت رہ جاتے۔ طویل القامت، نورانی چہرہ، رعب و جلال اور حسن و جمال کا حسین امتزاج! بلند، گرَج دار اور دل نشین آواز، مدلل اور اثر انگیز اندازِ بیان۔ یہ سب مل کر سننے والوں کے دل و دماغ پر گہرا نقش چھوڑ جاتے۔
حضرت مولانا سعید خان صاحبؒ ایک ہمہ جہت، متوازن اور سلفِ صالحین کے حقیقی نمونہ تھے۔ دینی و عصری علوم سے آراستہ، حفظ و عالمیت دونوں سے فیض یافتہ، سرکاری ملازمت کے باوجود دین و شریعت کے کامل پیروکار، اور دعوتِ دین کے میدان میں ہر دم سرگرم۔ متعدد بار حج بیت اللہ کی سعادت سے مشرف، ایک عظیم دینی ادارے کے بانی و مؤسس، اور دعوتِ دین کے فعال و متحرک سپاہی۔
آج کی نئی نسل کیلئے شاید یہ تعارف حیرت کا باعث ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مولانا ان خوش نصیبوں میں سے تھے جو "السَّابِقْونَ الاوَّلون” کے زمرے میں آتے ہیں۔ وہ ایک ایسے دور میں شرک و بدعت، جاہلانہ رسم و رواج اور مذہبی خرافات کے خلاف محاذ آرا ہوئے جب ان سب برائیوں کے خلاف آواز بلند کرنا گویا جان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ گاؤں گاؤں، محلہ محلہ، شہر شہر جا کر توحید و سنت کا پیغام عام کرنا، اور اس راستے میں اپنوں ہی کی مخالفت برداشت کرنا، مولانا کی زندگی کا روشن باب ہے۔
اس زمانے میں مساجد ویران، عقائد بگڑے ہوئے، اور عبادت صرف چند خاص راتوں میں جاگنے اور میلوں میں شرکت تک محدود تھی۔ نیکی کی طرف بلانے والے کو دشمن سمجھا جاتا، اور اس کے خلاف سازشیں رچائی جاتیں۔ مگر مولانا نے اس ماحول میں بھی ثابت قدم رہ کر اپنی دعوتی جدوجہد جاری رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی زندگی کے تابندہ نقوش کو تحریری شکل میں محفوظ کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔
حضرت مولانا سعید خان صاحبؒ کی ذات علم و عمل کا حسین امتزاج تھی۔ وہ سننِ نبوی کے عملی پیکر، خلقِ خدا پر شفقت و مہربانی کرنے والے، بدعت سے سخت نفرت کرنے والے، توحید کے عاشق اور اسلوبِ دعوت میں جدت و ندرت کے حامل تھے۔ نجی زندگی میں انتہائی سادہ، قناعت پسند اور بے رغبتی کے ساتھ دنیا سے تعلق رکھنے والے۔ احباب و متعلقین کی خبر گیری اور امت کے دینی تحفظ کے لیے ہمہ وقت فکرمند رہنا ان کا خاصہ تھا۔
اخلاص ان کے کردار کا مرکزی نقطہ تھا۔ وہ آنے والے فتنوں کو بھانپ لیتے اور ان کی سرکوبی کی فکر کرتے۔ گویا وہ اس نبوی ارشاد کے عملی مصداق تھے: ’’طوبی للمخلصین، أؤلئک مصابیح الھدی، تنجلی عنھم کل فتنۃ ظلماء‘‘(خوشخبری ہے اہلِ اخلاص کے لیے کہ وہ تاریکی میں چراغ کی مانند ہوتے ہیں، اور ان سے ظلمتوں کے فتنے چھٹ جاتے ہیں۔)
یہی اخلاص انہیں مخلوقِ خدا کی اصلاح و ہدایت کیلئے بے چین رکھتا۔ دین کے داعی، تقویٰ و للہیت کے پیکر، حکمت و موعظتِ حسنہ کیساتھ ’’جادلھم بالتی ھی أحسن‘‘ کے عملی علمبردار، اور مخالف کے دل میں حق اتار دینے کی صلاحیت رکھنے والے۔
مولانا کی غیرتِ ایمانی کا اندازہ ان کے اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے:”ایک ہوتی ہے دل شکنی، اور ایک ہوتی ہے حق شکنی؛ میں ہمیشہ دل شکنی کو حق شکنی پر ترجیح دیتا ہوں”۔یعنی اگر کسی کا دل ٹوٹ بھی جائے تو گوارا ہے، مگر دین میں رخنہ ہرگز نہ پڑے۔
مولانا فرمایا کرتے:باطل طاقتوں سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ بظاہر وسائل والے ہیں، مگر اللہ کی طاقت سب سے بلند ہے۔ مسلمان ایمان و تقویٰ پر قائم رہیں، اجتماعیت کو نہ توڑیں، تو کوئی انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ’’وأنتم الأعلون ان کنتم مؤمنین‘‘
اللہ تعالیٰ جنہیں اپنا محبوب بناتا ہے، انہیں بیٹیوں کی نعمت سے نوازتا ہے۔ حضرت مولانا سعید خان صاحبؒ کو اللہ نے سات بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ بیٹوں میں مولانا فاروق خان قاسمی شامل ہیں، جنہوں نے ابتدائی تعلیم جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے دارالعلوم دیوبند کا رْخ کیا، جہاں سے انہوں نے دورہ حدیث کی تکمیل کی۔ بعد ازاں کاروباری مصروفیات کے باعث تدریس و امامت کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے، تاہم اپنی اولاد کو دینی اور عصری تعلیم دونوں سے آراستہ کیا۔
فرزندِ اکبر مولانا محمد رضوان خان ندوی ہیں، جنہوں نے ندوۃالعلماء سے سندِ عالمیت حاصل کی اور اردو میں ایم فل کیا۔ وہ اس وقت جامعہ کی مجلسِ عاملہ میں جنرل سکریٹری کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، اور اپنی محنت، مخلصانہ کاوشوں اور عملی جدوجہد کے ذریعے جامعہ کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کیلئے سرگرم ہیں۔
آج یہ عظیم داعیِ دین، مفکرِ اسلام اور مصلحِ امت ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی فکر، ان کا طریقہ دعوت اور وہ عملی میدان جن میں وہ سرگرم رہے، آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔ یہ میدان ہمیں پکار رہے ہیں کہ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھائیں، تاکہ ان کی روح کو سکون اور درجات کو بلندی حاصل ہو۔
جامعہ اسلامیہ کاشف العلوم کی بنیاد ان کا سب سے عظیم علمی کارنامہ ہے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں، جہاں سے دین کی اشاعت، دعوت و تبلیغ اور امت کی رہنمائی کا کام انجام پاتا ہے۔ اسی مقصد کے پیشِ نظر انہوں نے ۱۳۷۸؁ھ مطابق ۱۹؍ اپریل ۱۹۵۹ء؁ کو خلوصِ نیت اور للہیت کے ساتھ اس ادارے کی بنیاد رکھی۔
بانیِ جامعہ حضرت مولانا سعید خان صاحبؒ نے مدرسہ کاشف العلوم قائم کرنے کے بعد اس کی نظامت اپنے لائق و فائق داماد، حضرت مولانا ریاض الدین فاروقی ندویؒ کے سپرد کی، جنہوں نے اپنی پچاس سالہ خدماتِ جلیلہ کے ذریعے اسے ایک عظیم جامعہ کا درجہ دلایا۔ ریاست بھر میں اس ادارے نے ایک منفرد مقام حاصل کیا اور ندوۃ العلماء کی شاخوں میں ایک نمایاں شاخ کی حیثیت اختیار کی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بانیِ جامعہ نے اپنی زندگی میں ادارے سے کسی مادی فائدے کا مطالبہ نہیں کیا، نہ ہی اپنے نام و شہرت کا چرچا کیا۔ جب کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ چھوٹے سے مکتب کے بانی بھی اپنے نام کے ساتھ بڑے بڑے القاب لگاتے ہیں۔ مولانا کی یہ بے نفسی اور استغناء ان کے بلند اخلاق اور اخلاص کا ثبوت ہے۔
آج ریاست مہاراشٹر کا یہ عظیم ادارہ ایک تناور اور پھل دار درخت کی مانند ہے، جہاں سے ہزاروں علماء و حفاظ نکل کر تدریس، تبلیغ، تصنیف و تالیف اور دیگر دینی و علمی شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
موجودہ دور میں جب دشمنانِ اسلام کی نظریں دینی مدارس پر مرکوز ہیں اور وہ اپنی سازشوں کے جال بْن رہے ہیں، ایسے حالات میں اہلِ مدارس، ذمہ داران اور منتظمین کی دوہری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں، اور دشمن کو مدارس کے قریب آنے کا موقع نہ دیں۔ ان حالات میں سب سے ضروری چیز وہی ہے جو بانیِ جامعہ کے کردار کا سب سے نمایاں پہلو تھا— اخلاص۔ اخلاص سے اعتماد پیدا ہوتا ہے اور اعتماد سے اتحاد قائم ہوتا ہے۔ اتحاد کے بغیر کسی تحریک یا ادارے کا پائیدار وجود ممکن نہیں۔اسی کے ساتھ ایک اور بڑی ضرورت جذبہ انتقام سے بچنا ہے، کیونکہ یہی جذبہ انتشار کو جنم دیتا ہے، اور انتشار انحطاط کا باعث بنتا ہے۔ اس لیے اخلاص، اعتماد اور اتحاد کو اپنانا آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے، اور انتقام، انتشار اور انحطاط سے بچنا فرضِ عین ہے۔
کسی ادارے کی عظمت اس کی بلند و بالا عمارتوں میں نہیں بلکہ وہاں کے علماء ، حفاظ اور طلبہ علومِ نبوت میں ہوتی ہے۔ ان طلبہ کی ذہنی یکسوئی، معاشی سہولت اور گھریلو مسائل سے واقفیت رکھنا اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، ہر ذمہ دار کا فرض ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات اس علم گاہ کے لیے وقف کیے ہیں، اس لیے ان کی دلجوئی اور اعانت کرنا اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے۔
حضرت مولانا سعید خان صاحبؒ کا لگایا ہوا یہ پودا آج ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ اس کے سایہ تلے سیکڑوں نہیں، بلکہ ہزاروں علماء و صلحاء اپنی خدماتِ جلیلہ کے ذریعے جہالت کے اندھیروں کو چاک کر رہے ہیں، منبرو محراب سے ہدایت کی روشنی پھیلا رہے ہیں، اور انسانیت کو راہِ حق دکھا رہے ہیں۔ یقینا یہ سب بانیِ جامعہ کیلئے صدقہ جاریہ اور ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے