कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عہد ساز شخصیت:الحاج حافظ پیر شبیر احمد صاحبؒ

از:محمد رضوان الدین حسینی

بچھڑاکچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
ایک شخص سارے شہر کو ویراں کرگیا

دنیا کا دستور ہے کہ جو آیا ہے، اسے ایک دن ضرور جانا ہے۔ ہر ذی روح کو فنا کا ذائقہ چکھنا ہے۔ مگر تاریخِ انسانی اس بات کی گواہ ہے کہ بعض شخصیات ایسی جلوہ گر ہوتی ہیں جن کے وجود سے بستیوں میں رونق، دلوں میں حرارت، اور ماحول میں معنویت پیدا ہوتی ہے۔ ان کے جانے سے شہر ویران ہو جاتے ہیں، دل سسک اٹھتے ہیں، اور ان کی یادیں گویا زندگی کا اثاثہ بن جاتی ہیں۔ انہی نفوسِ قدسیہ میں سے ایک درخشاں نام الحاج حافظ پیر شبیر احمد صاحبؒ کا ہے وہ شخصیت جن کا ذکر زبان پر آتے ہی دل موم ہوجاتا ہے اور آنکھیں نم۔
پیر شبیر احمد صاحبؒ ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد، ایک تحریک، اور ایک کارواں تھے۔ ان کی ذات میں علم، عمل، اخلاص اور خدمت کا ایسا حسین امتزاج تھا کہ جس سے ہر طبقۂ فکر کے لوگ فیضیاب ہوتے رہے۔ وہ صدر جمعیت علماء تلنگانہ کی حیثیت سے نہ صرف علماء کی صف میں امتیازی مقام رکھتے تھے بلکہ ایک ملت کے رہبر، قوم کے خادم، اور سماج کے معمار کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔
ان کی رفاہی، سماجی اور سیاسی خدمات ایک وسیع دائرہ رکھتی تھیں۔ وہ ہمیشہ امت کے دکھ درد میں شریک رہتے، محروموں کے غم بانٹتے، بے سہارا لوگوں کا سہارا بنتے، اور ملت کے نوجوانوں میں علم و شعور کی شمع روشن کرتے۔ مدارس و مکاتب کی سرپرستی ہو، مساجد و دارالافتاء کی خدمت ہو، یا غریب طلبہ کی تعلیمی کفالت پیر صاحبؒ ہر میدان میں پیش پیش رہتے۔ ان کے دروازے ہر ضرورت مند کے لیے کھلے رہتے، ان کی مجلس میں علم و بصیرت کی خوشبو بکھری رہتی، اور ان کے چہرے سے وقار، ایمان، اور محبت جھلکتی تھی۔
ان کی سیاسی بصیرت اور ملت کی قیادت میں ایک غیر معمولی توازن پایا جاتا تھا۔ وہ سیاست کو حصولِ اقتدار کا ذریعہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کے فیصلوں میں حکمت تھی، گفتگو میں اثر، اور کردار میں وہ صلابت جو ایک سچے قائد کی پہچان ہوتی ہے۔
ان کی دینی خدمات کا دائرہ صرف ایک شہر یا صوبے تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ پورے ملک کے لیے رہنمائی کا مرکز بن چکے تھے۔ مدارسِ دینیہ کے استحکام، جمعیت علماء کی تنظیمی فعالیت، اور امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے ان کی کوششیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
حافظ پیر شبیر احمد صاحبؒ کی ذات میں شیخیت کی وقار، عالمِ دین کی متانت، درویش کی سادگی، اور قائد کی بصیرت جمع تھی۔ وہ نرم گفتار، بردبار، اور متواضع المزاج تھے۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا شخص دل کے سکون اور روح کے اطمینان سے سرشار ہوجاتا۔
ان کے انتقال کی خبر بجلی بن کر گری۔ وہ دل جو ان کے ساتھ دھڑکتے تھے، وہ آنکھیں جو ان کے دیدار سے منور ہوتی تھیں، سب ویران ہو گئے۔ آج جب ان کی یاد آتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ صرف ایک شخص نہیں گیا، بلکہ ایک عہد رخصت ہوا ہے۔
یقیناً ان کی رحلت ملت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسی شخصیات جسمانی طور پر جدا ضرور ہوجاتی ہیں، مگر ان کی یاد، ان کی تعلیمات، اور ان کا فیض ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ وہ دلوں میں بستے ہیں، اور ان کے نقشِ قدم راہِ عمل بن جاتے ہیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو غریقِ رحمت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور کرے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے