कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عالمی پہچان کا بھارتی دن:15 اکتوبر، عالمی یوم طلبہ: خوابوں کو حقیقت بنانے کا دن

تحریر:محمد مصطفیٰ خان اکبر خان پٹھان
معاون معلم ڈاکٹر ذاکر حسین ہائی اسکول سیلو ضلع پربھنی
8857002235
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

بھارت میں ہر سال 15 اکتوبر کا دن یوم طلبہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ تاریخ بھارت کے گیارہویں صدر، مشہور سائنسدان اور قوم کے عظیم معلم ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا یوم پیدائش ہے۔ یہ دن محض سالگرہ کا جشن نہیں ہے، بلکہ یہ علم، وژن اور کردار کی طاقت کو خراج تحسین پیش کرنے کا ایک قومی اور عالمی اعلان ہے، جس کا مقصد طلبہ کو مستقبل کا فعال معمار بننے کی ترغیب دینا ہے۔
عالمی پہچان اور بھارتی انفرادیت:-
عالمی سطح پر یوم طلبہ دو مختلف تواریخ سے جڑا ہوا ہے، جسے سمجھنا ضروری ہے۔
عالمی تناظر 17 نومبر:-
دنیا کے بیشتر ممالک میں بین الاقوامی یوم طلبہ 17 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ تاریخ 1939 میں نازیوں کے خلاف پراگ میں طلبہ کی قربانیوں اور آزادی کے لیے جدوجہد کی علامت ہے۔ یہ دن تاریخی مزاحمت اور جمہوریت کے لیے طلبہ کی قربانیوں کی یادگار ہے۔
بھارتی تناظر 15 اکتوبر:-
اس کے برعکس، بھارت کا یوم طلبہ 15 اکتوبر کو ڈاکٹر کلام کی علمی میراث اور سائنسی ترقی کے وژن پر مرکوز ہے۔ 2010 میں، اقوام متحدہ (UN) نے تعلیم اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ڈاکٹر کلام کی خدمات کے اعتراف میں اس تاریخ کو عالمی یوم طلبہ (World Students’ Day) کے طور پر منا کر بھارت کی ایک شخصیت کو انوکھا اور قابل فخر اعزاز بخشا۔
ابتدائی زندگی:-
عبدالکلام (15 اکتوبر 1931 – 27 جولائی 2015) تمل ناڈو کے رامیشورم میں ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ غربت کی وجہ سےابتدائی تعلیم کے دوران عبد الکلام اپنے علاقے میں اخبار تقسیم کیا کرتے تھے۔ انھوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن کی۔ انھوں نے طبیعیات اور ایرو اسپیس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے اگلے چار دہائیوں تک ایک سائنس دان اور سائنس ایڈمنسٹریٹر کے طور پر کام کیا، زیادہ تر دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (DRDO) اور بھارتی خلائی تحقیق تنظیم (ISRO) میں۔ وہ بھارت کے سول اسپیس پروگرام اور فوجی میزائل ترقی کی کوششوں میں گہرائی سے شامل رہے۔ اس طرح انھیں بھارت کے میزائل مین کے طور پر جانا جانے لگا۔ انھوں نے 1998 میں بھارت کے پوکھران-II نیوکلیئر ٹیسٹ میں بھی ایک اہم تنظیمی، تکنیکی اور سیاسی کردار ادا کیا، جو 1974 کے اصل نیوکلیئر ٹیسٹ کے بعد پہلا تھا۔2002 میں بھارت کے 11ویں صدر منتخب ہوئے۔عبد الکلام بھارت کے تیسرے مسلمان صدر تھے۔
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے اہم القابات:-
ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو ان کی غیر معمولی خدمات، کامیابیوں اور عوام سے تعلق کی بنا پر کئی معزز القابات سے نوازا گیا:
میزائل مین آف انڈیا:-
انہیں یہ لقب بھارت کے انٹیگریٹڈ گائیڈڈ میزائل ڈیولپمنٹ پروگرام (IGMDP) میں ان کے کلیدی کردار کی وجہ سے دیا گیا، جس نے بھارت کو پرتھوی، اگنی، آکاش اور دیگر میزائلوں کی کامیاب تیاری کے ذریعے ایک بڑی دفاعی طاقت بنا دیا۔
عوامی صدر (People’s President):-
صدارت کے دوران اور بعد میں، ان کی سادہ طرز زندگی، بچوں اور نوجوانوں سے براہ راست بات چیت اور سرکاری پروٹوکول کو کم کرنے کے رجحان کی وجہ سے وہ عوام میں بے حد مقبول ہوئے اور انہیں یہ پیارا لقب ملا۔
عظیم معلم:-
ڈاکٹر کلام کی زندگی کا بنیادی مقصد تدریس تھا؛ وہ خود کو سب سے پہلے ایک استاد سمجھتے تھے اور اپنی آخری سانس تک نوجوانوں کے درمیان علم کی شمع روشن کرتے رہے۔
وژنری آف انڈیا 2020:-
انہوں نے اپنی مشہور کتاب اور عوامی خطابات کے ذریعے بھارت کو 2020 تک ایک ترقی یافتہ اور باوقار قوم بنانے کا ایک تفصیلی وژن پیش کیا، جس نے پوری قوم کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کیا۔
ڈاکٹر کلام کے اعلیٰ سرکاری اعزازات:-
ڈاکٹر کلام کو بھارت کے دفاعی اور خلائی شعبے میں بے مثال خدمات پر ملک کے تین سب سے بڑے سویلین اعزازات سے نوازا گیا:
1. بھارت رتن (Bharat Ratna):-
یہ بھارت کا سب سے بڑا سویلین اعزاز ہے جو انہیں دفاعی سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کی تاریخی اور شاندار خدمات کے اعتراف میں 1997 پیش کیا گیا۔
2. پدم وِبھوشن (Padma Vibhushan):-
یہ بھارت کا دوسرا سب سے بڑا سویلین اعزاز ہے جو انہیں سائنس اور انجینئرنگ کے میدان میں غیر معمولی کامیابیوں کے لیے 1990 دیا گیا۔
3. پدم بھوشن (Padma Bhushan):-
یہ بھارت کا تیسرا سب سے بڑا سویلین اعزاز ہے جو انہیں انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) میں بھارت کے پہلے سیٹلائٹ لانچ وہیکل (SLV-III) کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے پر 1981دیا گیا۔
ڈاکٹر کلام کا فلسفہ: خوابوں کی طاقت:
ڈاکٹر کلام نے اپنی پوری زندگی طلبہ کو راہنمائی فراہم کرنے میں صرف کر دی۔ وہ خود کو سب سے پہلے ایک "ٹیچر” کہتے تھے، اور ان کا بنیادی پیغام تین اہم ستونوں پر قائم تھا۔
(١) عظیم خواب دیکھنا (Dare to Dream):-
ڈاکٹر کلام کا اصرار تھا کہ نوجوانوں کو معمولی نہیں بلکہ عظیم اور بلند خواب دیکھنے چاہئیں، کیونکہ خواب ہی انسانی ذہن میں خیالات کو جنم دیتے ہیں، اور پھر یہی خیالات عمل کی شکل اختیار کر کے حقیقت بنتے ہیں۔ ان کا سب سے مشہور قول ان کے فلسفے کا نچوڑ ہے: "خواب وہ نہیں ہیں جو آپ سوتے ہوئے دیکھتے ہیں، بلکہ خواب وہ ہیں جو آپ کو سونے نہیں دیتے ہیں۔”
(٢) علم کا حصول اور تخلیقی صلاحیت:-
وہ زور دیتے تھے کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے یا نوکری پانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ علم کی طاقت کے ساتھ ساتھ تخلیقی صلاحیت، راستبازی اور مستقل مزاجی کو پروان چڑھائیں تاکہ وہ دنیا کے پیچیدہ مسائل کا حل نکال سکیں۔
(٣) محنت، دیانت داری اور حب الوطنی:-
ڈاکٹر کلام کی زندگی سادگی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا عملی نمونہ تھی۔ وہ طلبہ کو سخت محنت، دیانت داری اور ملک سے غیر مشروط محبت کا درس دیتے تھے، تاکہ وہ ایک ذمہ دار شہری بن کر "انڈیا 2020” کے ان کے وژن (ایک ترقی یافتہ بھارت) کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
ایک معلم کی میراث:-
بھارت میں یوم طلبہ، 15 اکتوبر کو منانا، درحقیقت ایک معلم کو صدر پر ترجیح دینے کے فلسفے کا اظہار ہے۔ ڈاکٹر کلام نے اپنی پوری زندگی طلبہ میں یہ یقین پیدا کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے علم، محنت اور بڑے خوابوں کے ذریعے نہ صرف اپنی زندگی، بلکہ اپنے ملک کی تقدیر بھی بدل سکتے ہیں۔
یہ دن ہر بھارتی طالب علم کے لیے ایک عہد کی تجدید کا دن ہے کہ وہ ڈاکٹر کلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک باہمت، باکردار، اور علم دوست شہری بنے جو قوم کی تعمیر میں اپنا فعال کردار ادا کرے۔ یہ طلبہ کو یاد دلاتا ہے کہ وہ صرف مستقبل کے رہنما نہیں ہیں، بلکہ وہ حال کے تبدیلی کے سب سے بڑے معمار ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے