कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام: فخرِ ہند، مثالِ جدوجہد

تحریر:شیخ متین ابن شیخ نظیر
(ریسرچ اسکالر سنت گاڑگے بابا امراوتی یونیورسٹی )

15 اکتوبر کو ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کی یومِ ولادت منائی جاتی ہے، جو ’’یومِ ترغیبِ مطالعہ‘‘ کے طور پر بھی جانا جاتا ہ۔ وہ بھارت کے گیارہویں صدر، ممتاز جوہری و خلائی سائنس دان اور جدید ہندوستان کے معمار تھے، جنہوں نے ملک کے دفاع، تعلیم اور سائنس میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔
ابتدائی زندگی:
ڈاکٹر عبد الکلام 15 اکتوبر 1931ء کو تمل ناڈو کے ساحلی قصبہ رامیشورم میں ایک غریب مگر باعزت خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ماہی گیروں کو کشتی کرائے پر دیتے تھے اور اگرچہ باضابطہ تعلیم یافتہ نہ تھے، مگر ان کے کردار اور تجربے نے عبد الکلام کی شخصیت کو سنوارا۔ بچپن میں غربت کے باوجود، عبد الکلام نے اخبار تقسیم کر کے اپنی تعلیمی ضروریات پوری کیں۔ انہوں نے مدراس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے خلائی سائنس میں گریجویشن اور ایروناٹیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ حاصل کیا۔
سائنسی خدمات اور ’’میزائل مین‘‘ کے طور پر شہرت:
ڈاکٹر کلام نے دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (DRDO) اور بھارتی خلائی تحقیق تنظیم (ISRO) میں خدمات انجام دیں۔ بھارت کے میزائل پروگرام میں ان کی قیادت میں SLV-3 جیسے سٹلائٹ لانچ وہیکل اور اگنی، پرتھوی، ترشول، آکاش، ناگ، اور براہوس میزائلوں کی کامیاب تخلیق ہوئی۔ 1974ء اور 1998ء میں ایٹمی تجربات میں بھی ان کا کلیدی کردار رہا، جس نے بھارت کو ایٹمی طاقت بنایا۔
سائنسی منصوبوں کے اثرات* ڈاکٹر کلام کی قیادت میں کامیاب میزائل اور خلائی پروگرام نے بھارت کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی سطح پر ممتاز مقام دلایا۔ ان منصوبوں نے بھارت کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کیا اور ملک کو خودکفیل ایٹمی اور میزائل طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی تحقیق نے دفاعی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا، اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی میں نوجوانوں کو تحریک دی۔
وراثت:
عبد الکلام کی علمی و اخلاقی عظمت آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ ان کی تحریریں اور خیالات تعلیم، محنت، اور خدمت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ صدر ہند کی حیثیت سے ان کی عوامی مقبولیت نے سادہ زیست اور دیانتداری کی مثال قائم کی۔ بھارت میں آج بھی ان کی یاد میں تعلیمی پروگرام، تحقیقاتی ادارے، اور یومِ ترغیبِ مطالعہ منائے جاتے ہیں، جو ان کی وراثت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔یہ اثرات اور وراثت ڈاکٹر کلام کو نہ صرف ایک عظیم سائنسدان بلکہ ایک روشن خیال رہنما بھی بناتے ہیں۔
صدارتی دور اور سیاسی سفر:
ڈاکٹر کلام 2002ء میں 89 فیصد ووٹوں کے ساتھ بھارت کے صدر منتخب ہوئے اور 25 جولائی 2007ء تک عہدہ سنبھالا۔ وہ سیاسی طور پر غیر جانبدار شخصیت تھے، جنہیں ’’عوامی صدر‘‘ کہا گیا۔ ان کے دور میں تعلیم، نوجوانوں کی رہنمائی، اور سائنس کی ترقی کو فروغ ملا۔ بھارت کے تیسرے مسلم صدر ہونے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔ *اعزازات اور کامیابیاں*
ڈاکٹر کلام کو پدم بھوشن (1981)، پدم وبھوشن (1990)، اور بھارت رتن (1997) جیسے اعلیٰ ترین شہری اعزازات سے نوازا گیا۔ انہیں تیس سے زائد یونیورسٹیوں اور اداروں سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں حاصل ہوئیں۔
تصنیفی خدمات:
انہوں نے نوجوانوں کے لیے تحریک انگیز اور رہنما کتابیں تحریر کیں، جن میں ’’پرواز‘‘ (ونگز آف فائر)، ’’انڈیا 2020 – اے وژن فار دی نیو ملینیم‘‘، ’’آگنیٹڈ مائنڈز‘‘ اور ’’مائی جرنی‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کتابوں کا کئی زبانوں میں ترجمہ اور اشاعت ہوئی۔
وفات اور آخری لمحات:
27 جولائی 2015ء کو شیلانگ میں ’’ایک قابل رہائش سیارہ زمین بنانا‘‘ کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے آخری الفاظ ’’مضحکہ خیز آدمی! کیا آپ ٹھیک ہیں؟‘‘ ان کی عاجزی اور محبت کی نشانی بنے رہے۔نتیجہڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام صرف سائنس دان یا صدر ہی نہیں تھے، بلکہ وہ نوجوان نسل کے لیے امید، عزم اور کامیابی کی علامت ہیں. ان کی زندگی ہمیں تعلیم، جدوجہد، دیانت، اور خدمتِ خلق کی حقیقی اہمیت سکھاتی ہے۔
حوالہ جات اور مآخذ* "عبد الکلام – آزاد دائرۃ المعارف” (ویکیپیڈیا اردو)
اے پی جے عبد الکلام کی سوانح عمری” ( اردو)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے