कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

اسلام میں یکجہتی کی اہمیت

تحریر: مولانا میرذاکر علی محمدی ،پربھنی
9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

سب سے پہلے قرآن کریم نے یہ درس اور پیغام دیا یے کہ آپس میں انتشار مت کرو، کیونکہ انتشار موت ہے، اور اتحاد زندگی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ اس لیے کہ جماعت اور اجتماعیت پر اللہ کی نصرت اور جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ید اللہ علی الجماعت جس طرح ایک اینٹ سے دیوار نہیں بنتی دیوار کے مکمل ہونے کے لیۓ۔ کئ اینٹوں کا ہونا لازمی ہے تب ہی ایک طاقت ور دیوار بنتی ہے۔ جب تک آپسی اتحاد نہ ہو تب تک کوئ مثبت نتائج موصول نہیں ہوں گے۔ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو ، اور آپس میں اختلاف نہ کرو۔ ورنہ تم کمزور اور بزدل ہوجاوگے ، اور تمہاری ہوا اکھڑ جاے گی۔ صبر و استقامت سے کام لو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور ارشاد ہے۔ اگر آپ اللہ کی مدد کروگے تو اللہ تمہاری مددکریگا۔ اور تمہارے قدم جمادیگا کامیابی اور فتح آپ کی ہوگی۔ اللہ کی مدد سے مراد کیا ہے؟ اللہ ہی تمام کائنات زمین آسمانوں میں جو موجود ہے اسکی نگہبانی کرتا ہے۔ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بے نیاز ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ کی مدد سے مراد اسکی اتاری ہوئ شریعت کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا۔ اللہ اور ا س کے رسول کی فرما برداری کرنا۔ صراط مستقیم پر چلنا، انسانیت کا علمبردار اور انسانیت کی خدمت اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا، اور ایک صالح اور بہترین معاشرہ کی تشکیل دینا، کامیابی اور فتح کا ضامن ہے۔ لیکن ہر فلڈ اور ہر میدان میں بہت پیچھے ہیں۔ اسکی وجوہات اور اسباب کو تلاش کرنا ہوگا۔ ہم اللہ کی اتاری ہوئ شریعت پر آج بھی عمل پیراء نہیں ہے۔ جو تم کہتے اس پر عمل نہیں کرتے۔ الحمد اللہ آج علم کی کمی نہیں ہے ۔ لیکن عمل کا فقدان ہے۔ ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ مجھے فوقیت اور عظمت ملے، ہماری ناکامی کاسبب انتشار، ایک دوسرے سے حسد کینہ، ایک دوسرے کو نیچا دکھانا اور خود کو بہتر سمجھنا، انانیت ، خد نمائ اسلام میں یکجہتی کی اہمیت. سب سے پہلے قرآن کریم نے یہ درس اور پیغام دیا یے کہ آپس میں انتشار مت کرو، کیونکہ انتشار موت ہے، اور اتحاد زندگی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ اس لیے کہ جماعت اور اجتماعیت پر اللہ کی نصرت اور جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ید اللہ علی الجماعت جس طرح ایک اینٹ سے دیوار نہیں بنتی دیوار کے مکمل ہونے کے لیۓ۔ کئ اینٹوں کا ہونا لازمی ہے تب ہی ایک طاقت ور دیوار بنتی ہے۔ جب تک آپسی اتحاد نہ ہو تب تک کوئ مثبت نتائج موصول نہیں ہوں گے۔ اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو ، اور آپس میں اختلاف نہ کرو۔ ورنہ تم کمزور اور بزدل ہوجاوگے ، اور تمہاری ہوا اکھڑ جاے گی۔ صبر و استقامت سے کام لو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اردو ارشاد ہے۔ اگر آپ اللہ کی کروگے تو اللہ تمہاری مددکریگا۔ اور تمہارے قدم جمادیگا کامیابی اور فتح آپ کی ہوگی۔ اللہ کی مدد سے مراد کیا ہے۔ اللہ ہی تمام کائنات زمین آسمانوں میں جو موجود ہے اسکی نگہبانی کرتا ہے۔ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بے نیاز ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اللہ کی مدد سے مراد اسکی اتاری ہوئ شریعت کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنا۔ اللہ اور ا کے رسول کی فرما برداری کرنا۔ صراط مستقیم پر چلنا، انسانیت کا علمبردار اور انسانیت کی خدمت اور اخلاقی اقدار کو فروغ دینا، اخوت بھائ چارگی، اللہ کی مخلوق سے محبت و الفت، اور ایک صالح اور بہترین معاشرہ کی تشکیل دینا ۔ اسی کا نام service to men is service to God. g یعنی انسانیت سے محبت انسانیت کی خدمت خدا کی خدمت کے مترادف ہے۔ یہ تمام اوصاف ہمیں یکجہتی اور اتحاد و اتفاق سے رہنے کی دعوت سخن دیتے ہیں۔ یکجہتی سے ہی انقلاب رونما ہوتے ہیں ۔ ورنہ انتشار اور تفرقہ تو موت کے مترادف ہے۔ جس کا ہم آج شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کامیابی کے نشان کو حاصل کرنے سے بہت دور ہیں۔ دریا میں ایک سوکھا پتہ گرا دریا میں کوئ ہلچل نہیں ہوئ ، دریا میں ایک وزنی پتھر گرا اد بار دریا میں وزنی پتھر کے وجہ سے دریا میں لہریں نمودار ہوئ۔ ایسے ہی انقلاب وزنی اور اتحاد و اتفاق کی طاقت آتا ہے۔ بے وزنی اور شہرت طلب کرنے والے افراد سے انقلاب آنا ممکن نہیں۔ میں نے سویں کے انگریزی کتاب پڑھا تھا۔ Things are done, when men and mountain meets. meets یعنی بڑے بڑے کام تب ہی انجام پذیر ہوتے ہیں ، جب آدمی اور پہاڑ ملتے ہیں۔ پہاڑ کو ایک آدمی ریزہ ریزہ نہیں کرسکتا۔ لیکن کئ آدمی پہاڑ کو ریزہ ریزہ کرسکتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ اپنی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ملاکر کہا ۔ ایمان والوں کو اس طرح باہمی اور ایک دوسرے سے مربوط ہوکر اتحاد سے رہنا چاہیے۔ اکیلی بھیڑ یا بکری کو خونخوار جانور آسانی سے شکار بنا سکتا ہے۔ جو قوم کو سب سے آگے جانا تھا وہ قوم سب کے پیچھے ہے۔ جس قوم کو سب سے پہلے تعلیم کی ہدایت کی گئ تھی وہ اب دیگر قوموں سے پیچھے ہے۔ گویا کہ ہم خواب غفلت کی نیند سورہے ہیں۔ یہی نہیں ہم سونے کا ناٹک بھی ر رہے ہیں۔ سونے والے کو آسانی سے جگایا جاسکتا ہے، لیکن جو سونے کا ناٹک کررہا یے اس کو جگانا ممکن نہیں۔ انقلاب وغیرہ کچھ لانا نہیں ہے۔ بس ایسے ہی زندگی گذارنا ہے۔ اسرائیل کی چوتھی خاتون وزیر اعظم گولڈا مئیر ( Golda meier) 1969 میں دیا گیا بیان کہ جب ہم نے مسجد اقصی کو آگ لگائ ، اس رات مجھے اس خوف سے نیند نہیں آئ کہ اب عرب فوجیں اسرائیل میں داخل ہوجائنگے اور چاروں طرف سے ہمارا محاصرہ کرکے بدلہ ضرور لینگے۔ لیکن جب اگلی صبح سورج طلوع ہوا تو یہ بات سمجھ میں آئ کہ ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ کیونکہ ہم ایک ایسی ( مسلمان )قوم سے سامنا کر رہے ہیں جو سورہی ہے۔ صبح ہوتی ہے ، شام ہوتی ہے زندگی یوں ہی تمام ہوتی ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے