कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیرتِ رسول ﷺ انسانیت کے لیے کامل نمونہ

تحریر: ابو خالد بن ناظر الدین قاسمی

وہی ہے احمدِ مرسل، وہی ہے محبوبِ یزداں بھی
اسی کے نور سے روشن ہیں شمس و ماہِ تاباں بھی
کیا خبر کیا شان ہے محبوبِ ربِّ ذوالجلال کی
عرش سے اونچی ہے رفعت مصطفیٰؐ کے جمال کی
نہ کوئی آپ سا دیکھا، نہ کوئی آپ سا ہوگا
جہاں میں آپ سا کوئی شفیعِ دوسرا ہوگا

محترم اساتذہ کرام، معزز حاضرینِ مجلس، اور میرے عزیز بھائیو!
آج ہم اُس ہستی کی سیرت پر گفتگو کے لیے جمع ہوئے ہیں جن کی زندگی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے، جنہیں ربِ کائنات نے "رحمۃ للعالمین” بنا کر بھیجا — وہ عظیم ہستی، جنہیں تاریخ نے محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام سے یاد رکھا۔

نبیِ اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے دنیا گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی۔
نہ انصاف کا چرچا تھا، نہ اخلاق کا نام و نشان۔
بت پرستی عام، ظلم رواجی، عورت مظلوم، یتیم محروم، اور انسانیت شرمندہ تھی۔
ایسے میں مدینۂ منورہ کے آسمان پر ہدایت کا سورج طلوع ہوا —
اور مکہ کی وادیوں سے وہ صدا گونجی:
"قُولُوا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ تُفْلِحُوا”
یعنی: "کہہ دو، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کامیاب ہو جاؤ گے۔”
رسول اللہ ﷺ کی سیرت دراصل قرآنِ مجید کی عملی تفسیر ہے۔
جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ "رسول اللہ ﷺ کا اخلاق کیسا تھا؟”
تو فرمایا: کَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآن
یعنی آپ ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تھا۔
آپ ﷺ نے عدل سکھایا، محبت سکھائی، صبر، عفو، مساوات، دیانت، اور انسانیت کے اعلیٰ اصول عطا فرمائے۔
آپ نے فرمایا: إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَکَارِمَ الأَخْلَاقِ
میں اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ اخلاقِ حسنہ کو کامل کر دوں۔

رسول اللہ ﷺ کا دل سراپا رحمت تھا۔ بدی کا جواب نیکی سے دینا، ظلم کا علاج عدل سے کرنا، نفرت کو محبت میں بدل دینا۔

آپ ﷺ نے فرمایا: لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ، وَلَا لِأَعْجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، إِلَّا بِالتَّقْوٰی
کسی عربی کو کسی عجمی پر برتری نہیں، برتری صرف تقویٰ سے ہے۔
یہ اعلان اُس وقت ہوا جب دنیا نسل، رنگ، زبان اور قبیلے پر فخر کرتی تھی۔
آپ ﷺ نے انسانیت کو ایک خاندان بنا دیا، امت کو ایک جسم کی مانند قرار دیا۔
مکہ فتح ہوا — وہی مکہ جہاں آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے،
جہاں آپ کو "ساحر” اور "مجنون” کہا گیا —
آج وہی دشمن آپ کے سامنے سر جھکائے کھڑے ہیں۔
لیکن آپ ﷺ نے فرمایا: اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ
جاؤ، تم سب آزاد ہو۔
کیا دنیا میں ایسی درگزر کی کوئی مثال ہے؟
اے عزیزو!
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگیوں میں سکون آئے،
ہمارے معاشرے سے نفرت ختم ہو،
ہمارے دلوں میں محبت اور امن قائم ہو —
تو ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہوگا۔
قرآن کہتا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
“تمہارے لیے رسولِ خدا ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔” (الاحزاب: 21)
اللہ تعالیٰ ہمیں سیرتِ رسول ﷺ کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق دے،
ہمیں علم، عمل، اخلاق، محبت اور ایمان میں کامل بنائے،
اور روزِ قیامت ہمیں نبیِ مکرم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔
آمین، ثم آمین۔

انہی کے نام سے روشن ہیں دل کے آئینے اب تک
انہی کے فیض سے باقی ہیں دین کے قافلے اب تک
درود اُن پر کہ جن کے دم سے ہم کو راہ ملتی ہے
سلام اُن پر کہ جن کی سیرتوں سے چاہ ملتی ہے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے