कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

قناعت پسندی بہت بڑی دولت ہے

تحریر:مفتی محمد اسلم جامعی
( استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ )
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

قناعت پسندی بڑی دولت ہے، کہ اس سے سکونِ قلبی، راحتِ بدنی اور دنیا و عقبیٰ کی خیر و خوبی میسر ہوتی ہے بل کہ قناعت پسند دل سمندر سے زیادہ بے نیاز ہوتا ہے، جس کو کسی چیز کی ضرورت و حاجت اور پرواہ نہیں ہوتی ہے، قناعت کا معنی خیز مطلب ہے، جائز و مناسب تدبیر اور دوڑ دھوپ کے بعد، حلال طریقے و ذرائع سے جو کچھ مل گیا وہ انسان کے لیے کافی ہے، مزید ہوس و حرص کی تمنا اور جستجو نہ ہوں، قناعت ایسی دولت ہے کہ خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قناعت کی دعا مانگی اَلََّلھُمَّ قَنِّعْنِیْ بِماَ رَزَقْتَنِیْ (القناعة لإبن السُّنی صفحہ ٤٥) اے اللہ جو رزق آپ نے عطا فرمایا اس پر مجھے قناعت عطا فرما. یہ بڑی جامع اور معنیٰ خیز دعا ہے دوسری روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قَدْ أفَلَحَ مَنْ أسَلَمَ وَ رُزِقُ کَفَافًا وَ قَنَّعَّهَ بِماَ اَتَاه (صحیح مسلم جلد١ کتاب الزكوة، باب فضل التعفف والصبر والقناعة والحث علی کل ذلک صفحہ ٣٣٧ ) جس شخص کو تین صفات حاصل ہوگئیں، وہ فلاح پاگیا، جو اسلام سے مشرف ہوا ، جسے بقدر ضرورت روزی ملتی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اُسے اپنے دیئے ہوئے رزق پر قناعت سے نواز دیا ہو، ایک اور حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے عَلَیْکُم بِالْقَنَاعَةِ فإنَّ الْقَنَاعَةَ مَالٌ لَا یَنْفَذُ ( المعجم الأوسط للطبرانی الجزء السابع صفحہ ٨٤ رقم الحديث ٦٩٢٢) تم قناعت کو اختیار کرو اس لیے کہ قناعت ایسا مال ہے کہ جو کبھی ختم نہیں ہوتا، امام ترمذی رح نے اپنی جامع میں حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کی ایک روایت نقل کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طُوبیَ لِمَنْ ھُدِیَ لِلْإسْلَامِ وَ کَانَ عَیْشُهُ کَفاَفاً وَ قَنَعَ ھذا حَدیثٌ حَسنٌ صَحیْحٌ (سنن الترمذی جلد ٢ صفحہ ٦٠ أبواب الزھد، باب ما جاء فی الکفاف والصبر علیه) اس شخص کے لیے خوش حالی ہے، جس کو اسلام کی راہ دکھائی گئی، یعنی مسلمان ہوگیا، اور اس کی روزی بقدر ضرورت ہے اور وہ اپنی روزی پر مطمئین ہے، ان تمام روایتوں میں قناعت کی اہمیت و فضیلت، اللہ تعالی کے عطا کردہ رزق پر راضی برضا رہنے کی تاکید بیان کی گئی، قناعت کے بغیر انسان کو راحت و سکون حاصل نہیں ہوسکتا، بعض لوگ قانع نہ بنتے ہوئے دوسروں کی دولت و فراوانی کی دید سے احساسِ کمتری میں مبتلا ہوجاتے ہیں، جس سے خود کے پاس موجود نعمتِ خداوندی کی نا قدری و ناشکری ہوتی ہے ذہنی چین و سکون غارت ہوجاتا ہے اور پھر حرص و ہوس کے بھنور میں پھنس کر ناجائز و حرام ذرائع اختبار کرتے ہیں جو دنیا و عقبیٰ، دونوں اعتبار سے نقصان دہ ہے، اور پھر بہت ساری بُری خصلت پیدا ہوجاتی ہے، مثلاً، حسد، کینہ وغیرہ، اس لیے ایک روایت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا وَرْضِ بِمَا قَسَمَ اَللّٰهُ لَك تَکُنْ اَغْنَی النَّاسِ (مشکوة المصابيح صفحہ ٤٤٠ کتاب الرّقاق ) یعنی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ زرق پر بتسلمِ رضا، راضی رہنا بندگانِ خدا میں سب سے بڑے مستغنی ہونے کی دلیل ہے، اور قناعت کا مطلب بھی یہی ہے کہ حتی المقدور حلال اسباب و ذریعے سے جو رزق حاصل ہوا اس پر بتسلمِ رضا راضی رہے، مزید روزی کے لیے حرام و ناجائز راہوں کا انتخاب نہ کریں اور نہ اللہ تعالیٰ کی منع کردہ راہوں کو عبور کریں، بعض لوگ قناعت کے معنی و مفہم کے سمجھنے میں مغالطے کا شکار ہوتے ہیں کہ قناعت کا مطلب مزید روزی کی تلاش و جستجو نہ کریں، حالاں کہ یہ سراسر غلط مفہوم ہے بل کہ حلال راہوں اور شکرِ خداوندی کے ساتھ روزی کے حصول کو شریعتِ مطہرہ نے مندوب قرار دیا ہے، راقم السطور نے قناعت کا جامع و مانع مفہوم سطورِ بالا میں ذکر کردیا، قناعت بڑی اہم اور قیمتی دولت ہے، چناں چہ ملک کے نامور عالم دین اور اردو و عربی کے بہترین ادیب حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب رح اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اب نئی نسل کو کس طرح سمجھایا جائے کہ قناعت کتنی بڑی دولت ہے ؛ بل کہ کلیدِ دولت ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے انسان ہر وقت، ہر جگہ، اور ہرحال میں دولت مند رہتا ہے، اور اس سے عاری ہونے کی صورت میں خزانۂ قارون اور دولتِ فرعون و نمرود کی فراوانی کے باوجود مفلسِ بے مایہ رہتا ہے ۔
عربی کے شاعر نے کتنی سچی بات کہہ دی ہے:
مَا کُلُّ مَا فَوقَ البَسِیْطَةِ کَافِیًا
فَإِذَا قَنِعْتَ؛ فَکُـلُّ شَـیْءٍ کَافِیْ
یعنی اگر انسان قناعت پسند ہے تو کوئی بھی چیز اس کے لیے کافی ہے، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر روئے زمین کی تمام چیزیں اس کے لیے ناکافی ہیں۔
قناعت کے ہتھیار کے ذریعے دنیا کے تمام مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ؛ بل کہ قناعت پیشہ افراد کے نزدیک دنیا کا کوئی ” مسئلہ ” مسئلہ نہیں ہوتا ؛ اسی لیے وہ تمام مسائل اور الجھنوں سے یک سو ہوکر صرف اپنے عظیم اور شریفانہ مقاصد کو بروئے کار لانے میں جٹ جاتے ہیں، اور ایسے افراد کی مساعیٔ جمیلہ کے نتیجے میں انسانی برادری کو سعادت و سرخ روئی اور فلاح و بہبود کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔ دورِ آخر میں ہمارے اؔکابر دیوبند بھی قناعت کی مثال تھے، اُن کی قناعت کے قلعے کو مُنعمانِ دہر اپنی کسی کوشش کے ذریعے فتح نہ کرسکے اور ان خدامستوں کی زبانِ حال سرخ روئی سے یہ شعر پڑھتی رہی: ؎اپنی سی چال چل کے رہے مُنعمانِ دہر
مٹھی نہ کھل سکی مرے دستِ سوال کی
( پسِ مرگ زندہ، صفحہ ٣٠٨، )
ایک ہزار احادیث نامی کتاب میں قناعت اختیار کرنے پر مختلف کتبِ احادیث کے حوالہ سے بتایا گیا کہ جو بندہ قناعت اختیار کرتا ہے، وہ خدا کا دوست ہوتا، دنیاوی حیات میں کامیابی ملتی ہے، حقیقی دولت نصیب ہوتی ہے، رزق میں برکت، اچھی دولت اور بہترین روزی میسر ہوتی ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل ہوگا (ایک ہزار احادیث صفحہ ١٠٠،١٠١ اس کتاب میں اصل ماخذ کا حوالہ دیا گیا ہے، تفصیل کے لیے اس طرف رجوع کریں )
اسی کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں قناعت کی صفت پیدا ہونے کی دعا بھی کریں چناں چہ امام بخاری رح نے الأدب المفرد میں حضرت إبن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہم دعا ذکر کی،
اللَّهُمَّ قَنّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ وَ اخْلُفْ عَلیٰ کُلِّ غَائِبَةٍ لِیْ مِنْكَ بِخَیْرِ
(الأدب المفرد للبخاری صفحہ ٢٣٥ باب دعوات النبی صلی اللہ علیہ وسلم رقم الحدیث ٦٨١ ) اے اللہ جو کچھ زرق آپ نے مجھے عطا فرمایا، اس پر مجھے قناعت عطا فرمادیجئے اور جو نعمتیں، مجھے حاصل نہیں ہیں، ان کے بدلے میں مجھے اپنی طرف سے جو میرے حق میں بہتر ہو وہ عطا فرما، اس دعا کے الفاظ پر غور کریں کتنے دلنشین انداز میں دنیا و آخرت کی خیر و خوبی کے مانگنے کی تلقین کی گئی،

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے