कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

گلوبل صمود فلاوٹیلا

تحریر:ابو خالد بن ناظر الدین قاسمی
فاضل دار العلوم دیوبند

دنیا کے دلیر لوگ ہمیشہ تاریخ کے اوراق میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ یہ وہ کردار ہیں جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر پوری انسانیت کے لئے سوچتے ہیں، وہ لوگ جو ظلم کے آگے سر نہیں جھکاتے بلکہ اس کا مقابلہ کرتے ہیں، اور وہ جو اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر مظلوموں کی دستگیری کرتے ہیں۔ آج کے دور میں جہاں طاقتور اپنی طاقت کے نشے میں کمزوروں کو کچلنے پر تلا ہوا ہے، وہاں یہ دلیر انسان اپنے ضمیر کی پکار پر لبیک کہتے ہیں اور ساری دنیا کے لئے مثال بن جاتے ہیں۔ فلسطین اور بالخصوص غزہ کی پٹی آج دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکی ہے، جہاں لاکھوں بے قصور انسان محصور ہیں۔ اسرائیلی محاصرہ انہیں خوراک، ادویات، تعلیم اور آزادی جیسی بنیادی نعمتوں سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ ایسے میں دنیا کے مختلف خطوں سے اٹھنے والی انسانی ہمدردی کی آوازیں اور عملی کوششیں وہ چراغ ہیں جو ظلمت کے سمندر میں امید کی کرن بن کر ابھرتی ہیں۔
اسی جذبے کا ایک عظیم مظہر ’’گلوبل صمود فلاوٹیلا‘‘ ہے۔ ’’صمود‘‘ عربی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ثابت قدمی اور استقامت، اور یہی لفظ اس جدوجہد کی روح کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ فلاوٹیلا عالمی ضمیر کی ایک گونج ہے۔ یہ پیغام ہے کہ دنیا کے مختلف براعظموں، مختلف زبانوں، رنگوں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے انسان سب مل کر ظلم کے مقابلے میں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔
اس منصوبے کا آغاز 2025 میں اس وقت ہوا جب غزہ کی جنگ نے انسانی المیے کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ہزاروں معصوم بچے بھوک اور بیماری سے تڑپ رہے تھے، ہسپتالوں میں دوائیں ختم ہو چکی تھیں، اور لوگ صاف پانی جیسی بنیادی سہولت کے لئے ترس رہے تھے۔ ایسے وقت میں عالمی کارکنان، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عام رضاکار اکٹھے ہوئے اور ایک ایسے سفر کا فیصلہ کیا جو خطرات سے خالی نہیں تھا مگر جس کی منزل انسانیت کی خدمت اور مظلوموں تک پہنچنا تھی۔
گلوبل صمود فلاوٹیلا کی پہلی کشتیاں 31 اگست 2025 کو اسپین کے شہر بارسلونا سے روانہ ہوئیں۔ یہ مقام محض ایک جغرافیائی بندرگاہ نہیں تھا بلکہ علامتی طور پر یہ وہ جگہ تھی جہاں سے عالمی اتحاد کی صدا اٹھی۔ اس کے بعد 4 ستمبر کو تونسیا سے مزید بحری جہاز اس قافلے کا حصہ بنے اور یوں ایک عالمی کارواں تشکیل پایا۔ اس قافلے میں اب تک کم از کم چوالیس ممالک کے نمائندے شریک ہیں، جن میں یورپ، ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ تک کے ممالک شامل ہیں۔ مزید برآں اس میں شرکت کرنے والے مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم ہیں ۔ یہ تنوع خود اس بات کی دلیل ہے کہ فلسطینی مسئلہ کسی ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی ضمیر کا امتحان ہے۔
اس فلاوٹیلا میں شامل افراد ہزاروں کی تعداد میں ہیں، اور ان میں ہر طبقۂ فکر کے نمائندے شامل ہیں: طبی عملہ، سماجی کارکنان، اساتذہ، صحافی، فنکار، خواتین، نوجوان اور بزرگ سب ایک ہی مقصد کے ساتھ جمع ہیں۔ ان سب کی زندگیوں میں شاید کوئی اور قدر مشترک نہ ہو، لیکن مظلوم فلسطینی عوام کے لئے ان کی محبت اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا جذبہ انہیں ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہے۔ اس قافلے میں مختلف تنظیمیں شریک ہیں جن میں ’’فریڈم فلاوٹیلا کولیشن‘‘ سب سے نمایاں ہے، جس نے ماضی میں بھی ایسے کئی خطرناک مگر عظیم مشن سر انجام دیے۔ اسی طرح ’’گلوبل موومنٹ ٹو غزہ‘‘، ’’مغربی صمود فلاوٹیلا‘‘ اور ’’صمود نوسانترا‘‘ جیسی تحریکیں بھی شامل ہیں۔ یہ سب مل کر ایک ایسی آواز بلند کر رہی ہیں جو سرحدوں سے ماورا ہے۔
گلوبل صمود فلاوٹیلا کا مقصد امداد پہنچانا ، اور اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کی عملی کوشش کرنا ہے۔ یہ وہ محاصرہ ہے جو بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہے، لیکن طاقت کے زعم میں اسرائیل اسے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ فلاوٹیلا کے شرکاء دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اگر حکومتیں اور عالمی ادارے انصاف نہیں کرتے تو عام انسان اپنے حصے کا فرض ادا کریں گے۔ یہ قافلہ خوراک، ادویات اور طبی سامان لے کر جا رہا، بلکہ یہ دنیا کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کا پیغام بھی ساتھ لے کر جا رہا ہے۔
اسرائیل کی طرف سے اس قافلے کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اسرائیل نے اسے ایک ’’میدانِ جنگ‘‘ میں داخل ہونے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت فلاوٹیلا کو غزہ پہنچنے نہیں دے گا۔ بعض کشتیوں پر ڈرون حملے اور راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اگر امداد واقعی انسانیت کے لئے ہے تو وہ اشدود یا عسقلان میں اتار دی جائے، لیکن فلاوٹیلا کے منتظمین اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ ان کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ غزہ تک براہِ راست رسائی انسانوں کا بنیادی حق ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کی شرائط کو ماننا محاصرے کو مزید جائز بنانا ہے۔
یہ سب خطرات اور رکاوٹیں دراصل اس حقیقت کو اور نمایاں کرتی ہیں کہ یہ سفر کتنا دلیرانہ ہے۔ دنیا کے عام انسان جب اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر سمندر کی موجوں پر ایسے سفر پر نکلتے ہیں جس کا انجام نامعلوم ہے تو یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسانیت اپنی اصل شکل میں سامنے آتی ہے۔ یہ لوگ کسی فوج یا حکومت کے زیر سایہ نہیں ہیں، یہ اپنے ضمیر کے سپاہی ہیں، جو تاریخ میں اسی طرح یاد رکھے جائیں گے جیسے ماضی کے وہ لوگ جو ظلم کے سامنے ڈٹے رہے۔
یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب فلسطینی محاصرے کو چیلنج کرنے کے لئے فلاوٹیلا روانہ ہوئی ہو۔ 2010 میں ’’ماوی مرمرہ‘‘ کے نام سے جانے جانے والا قافلہ پوری دنیا کے سامنے ایک علامت بنا تھا، جب اسرائیلی فورسز نے اس پر حملہ کر کے کئی افراد کو شہید کر دیا۔ اس وقت بھی دنیا نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی تھی، مگر اس کے باوجود محاصرہ ختم نہ ہو سکا۔ آج گلوبل صمود فلاوٹیلا اسی روایت کو آگے بڑھا رہی ہے، مگر اس بار شرکاء کی تعداد، ممالک کی شمولیت اور عالمی دباؤ کہیں زیادہ ہے۔
غرض یہ سفر محض کشتیوں کا نہیں، بلکہ یہ عزم اور ایمان کا سفر ہے۔ یہ دنیا کو یہ بتانے کا اعلان ہے کہ دلیر انسان ابھی زندہ ہیں، کہ دنیا کے ہر خطے میں وہ لوگ موجود ہیں جو اپنے آرام کو قربان کر کے دوسروں کی بھلائی کے لئے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہ چراغ ہیں جو امید دلاتے ہیں کہ ظلم چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، مظلوم کی آواز کبھی دبائی نہیں جا سکتی۔ دنیا کے یہ دلیر لوگ ہماری اجتماعی انسانیت کی اصل طاقت ہیں، اور اگر دنیا میں کوئی حقیقی تبدیلی آ سکتی ہے تو انہی کے قدموں سے آ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ان دنوں اقوام متحدہ میں تقریباً ١٤٤ ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرلیا ہے ، اس لیے امید ہے کہ اس بار کشتیاں پار لگ جائیں گی ۔ اللّٰہ تعالیٰ حامی و ناصر ہو ۔
فَلتَسْتَمِرَّ سُفُنُ الصُّمودِ رَواسِياً فِي البَحرِ، تَحْمِلُ عِزَّةَ الأَحرارِ
مَا زالَ يَسْطَعُ نُورُها فِي أُفْقِنا يَهْدِي الشُّعوبَ إِلى طُرُقِ الانتصارِ
لَا تَنْحَنِي رِيحُ الحُقوقِ لِعاصِفٍ مَا دامَ يَسْنُدُهَا قُوَّةُ الإِصرارِ
فَلْتَكْتُبِ التَّاريخَ سُطُوراً خالِدَةً عَنْ أُمَّةٍ صَبَرَتْ عَلَى الأَخطارِ۔
چلو کہ عزم کا پرچم ہوا کے دوش پہ ہے
صمود قافلۂ حُر ہوا کے دوش پہ ہے
نہ ظلم موجِ بلا سے سفینہ روک سکے
یہ کشتیاں ہیں کہ صبر و رضا کے دوش پہ ہیں
جہاں جہاں بھی ستم کی گھٹائیں چھا جائیں
وہاں یہ قافلے خورشید سا کے دوش پہ ہیں
یہی سفینے ہیں آئندہ نسل کی امید
یہی ثبوت وفا ہیں، دعا کے دوش پہ ہیں
لکھے گا وقت کہ تاریخ نے یہ دیکھا ہے
فلاوٹیلا کے یہ قافلے خدا کے دوش پہ ہیں۔
گلوبل صمود فلاوٹیلا تازہ اپڈیٹ:
اسرائیلی افواج نے کئی بحری جہازوں پر سوار ہو کر ان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جو گلوبل سمد فلوٹیلا کا حصہ ہیں، جو غزہ کی اسرائیل کی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، اور اس نے فلسطینیوں کے لیے سب سے بڑے بحری امدادی مشن کے طور پر عالمی توجہ حاصل کی تھی۔
فلوٹیلا – جس میں مجموعی طور پر 40 سے زیادہ سویلین کشتیاں شامل تھیں اور 500 کے قریب کارکنوں کو بدھ کو دیر گئے اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے پکڑ لیا، جس میں سوار کارکنوں کو حراست میں لے کر اسرائیل لے جایا گیا۔
اسرائیل نے پہلے کہا تھا کہ وہ غزہ جانے والے بحری بیڑے کو روکنے کے لیے جو کچھ بھی کرے گا وہ کرے گا، اور دعویٰ کیا کہ رضاکار "قانونی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی” کرنے کی کوشش کر رہے ہیں – یہ دعویٰ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
دجال کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے:
اسرائیلی بحریہ کی جانب سے غزہ جانے والے "اسطول الصمود” کو روکنے اور اس کی کئی کشتیوں کو اسدود بندرگاہ کی طرف موڑنے کے بعد یورپ اور عرب دنیا کے کئی شہروں میں مظاہرے پھوٹ پڑے۔
روم، بروسلز، بارسلونا، برلن، ایتھنز اور پیرس سمیت مختلف یورپی دارالحکومتوں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور اسرائیل کے اقدام کو "قانون شکنی اور قزاقی” قرار دیا۔ بارسلونا میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے بھی احتجاج ہوا۔ اسی طرح استنبول میں مظاہرے ہوئے۔
عرب دنیا میں نواکشوط (موریتانیا) میں امریکی سفارتخانے کے سامنے احتجاج کیا گیا جبکہ تیونس میں سیکڑوں افراد نے اسرائیلی حملے کے خلاف مارچ کیا۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے اس وقت تک 15 کے قریب کشتیوں پر قبضہ کر لیا ہے جن پر درجنوں کارکنان اور صحافی سوار تھے، جن میں "الجزیرہ مباشر” کی صحافی حیات اليمانی بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق باقی کشتیوں پر بھی کنٹرول کا سلسلہ جاری رہے گا۔
یہ مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ "اسطول الصمود” کے خلاف اسرائیلی کارروائی نے عالمی سطح پر غم و غصہ بھڑکا دیا ہے اور مختلف ممالک میں اسے غزہ کے محصور عوام کے ساتھ ناانصافی اور انسانی امداد کے خلاف حملہ سمجھا جا رہا ہے۔
اللہ کرے کہ یہ سلسلہ شدت اختیار کرجائے تاکہ ٹرمپ کی جانب سے دجال کی فیس سیونگ کی شیطانی کوشش ناکامی سے دوچار ہو۔
الصمود قافلہ جو سرزمین انبیاء کی جانب رواں دواں ہے اس قافلے میں 44ممالک کے 497 افراد شامل ہیں۔ سب سے زیادہ شرکاء رکھنے والے ممالک:
ترکی: 56
اسپین: 49
اٹلی: 48
تیونس: 28
ملیشیا: 27
یونان: 26
امریکا: 22
جرمنی: 19
الجزائر: 17
آئرلینڈ: 16
برطانیہ: 15
برازیل: 14
فرانس: 33
پاکستان :4 ہیں مگر نقشے میں دو بتاتے جا رہے
وہ ممالک جن سے صرف ایک ایک نمائندہ شامل ہے:
جاپان، انڈونیشیا، سلوواکیہ، لیتھوانیا، بلغاریہ، کروشیا، چیک ریپبلک، لکسمبرگ، آسٹریلیا، آئرلینڈ، موریتانیا، عمان، مالدیپ۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے