कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

تحریکِ طالبِ علم ( اقوالِ زرین۔قسط: 39)

(طلبہ و طالبات کی ہمت و حوصلہ افزائی ، غوروفکر ، احساس کی بیداری کے لئے مندرجہ ذیل اقوال زرین پیش کیے جارہے ہیں )

٭ وقت کی پابندی نہ صرف آپ کو خوشی اور سکون دیتی ہے بلکہ آپ کا بہت سارا قیمتی وقت بھی بچاتی ہے۔

٭ وقت کے بہترین استعمال کے لیے ضروری ہے کہ وقت کی پابندی کی جائے۔

٭ ماہرین کا خیال ہے کہ روزانہ کی پلاننگ کی بہ نسبت ہفتہ وار پلاننگ زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

٭ پیشگی منصوبہ بندی کرنے سے آپ دس گُنا وقت بچا سکیں گے۔

٭ ایک ریسرچ کے مطابق پلاننگ کا ایک منٹ عمل کے دس منٹ بچاتا ہے۔

٭ تعلیم‘ کیریئر بنانے کا سب سے اہم ترین ذریعہ ہے، اعلیٰ تعلیم بہتر مستقبل کی نوید ہے۔

٭ زندگی کا ایک نصب العین ہونا چاہیے، ارادوں میں پختگی‘ عمل صالح‘ کردار کی عظمت‘ رُکاوٹوں کے مقابلے میں اولولعزمی ایسے ہتھیار ہیں جن سے نوجوان ایک با صلاحیت اور با عزت شہری بن سکتے ہیں۔

٭ بعض لوگوں کی ناکامیاں ان میں کامیابی کی لگن کو ختم کردیتی ہیں۔ ناکامی ہوتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کامیابی و ناکامی دونوں ہی اس زندگی کے اہم پہلو ہیں۔ اگر آج مَیں کسی مقصد کے حصول میں ناکام رہا ہوں تو ضروری نہیں کہ کل بھی ایسا ہی ہو۔ ناکامی کا ایک روشن پہلو یہ ہوتا ہے کہ انسان کو اس میں اپنی خامیوں کے تجزیے کا موقع مل جاتا ہے۔

٭ وہ خواب جو اپنے اندر محرکات عمل نہیں رکھتا اس کی حقیقت ریت پر کھینچی ہوئی اس لکیر سے زیادہ نہیں جسے سمندر کی ہلکی سی لہر مٹا دینے کے لیے کافی ہوتی ہے۔

٭ جب کوئی شخص اپنی قوت و کارکردگی کے کمزور پہلو دیکھتا ہے تو پھر اپنی صلاحیت کا اعتماد کھو دیتا ہے اور وہ ناکام ہوتا ہے۔

٭ تاریخ پر دھیان دیں تو معلوم ہوگا کہ کسی شعبے میں کسی نے کوئی اعلیٰ کامیابی حاصل کی ہے تو اس کی کامیابی کا راز اس کا اعتماد ہوگا، یہ طاقت تو انسان کے اندر موجود ہوتی ہے، صرف اس کی طاقت کو عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسا آپ کا اعتماد ہوگا ویسی آپ کی طاقت ہوگی اور ویسی آپ کی زندگی بنے گی۔

٭ اپنے نصیب سے آنکھیں چُرالینا محرومی و بدنصیبی ہے۔

٭ جو راستہ معلوم نہیں‘ اس پر سفر نہ کرو۔

٭ علم ایک ایسا نور ہے جس نے اس کا حق ادا کیا اسے منور کردیتا ہے۔

٭ زندگی ایک درخت کی مانند ہے اس کو کاٹنا اور استعمال میں لانا انسان کا کام ہے۔

٭ مطالعہ فرد کو معاشرے کا باشعور اور کارآمد رُکن بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

٭ مطالعہ کی مستقل عادت فرد میں سنجیدگی‘ متانت اور ذہانت کو فروغ دیتی ہے۔

٭ شکر گزار آدمی زیادتی نعمت اور برکت سے محروم نہیں ہوتا۔

٭ جن لوگوں کے سفر کی منزل نہیں ہوتی اور جو اپنی زندگی کو کسی مقصد کے تحت نہیں گزارتے وہ لوگ عموماً بھٹک جاتے ہیں اور کامیاب نہیں ہوتے۔

٭ مقصد منتخب کرنے کے بعد آپ ایک مختلف انسان بن جاتے ہیں، آپ کی سوچ‘کاوشیں‘محنت‘ جستجو اور لگن سب آپ کے مقصد کے زیر تابع ہوجاتے ہیں۔ آپ کی تمام توانائی ایک ہدف کو حاصل کرنے میں صرف ہوتی ہیں اور آپ کامیاب ہوجاتے ہیں۔

٭ انتھونی رابنس کہتے ہیں کہ ’’ لوگ سست نہیں ہوتے ان کے مقاصد بے کار اور سست ہوتے ہیں جو اِن کو جوش نہیں دِلاتے اور خود بے کار ہوجاتے ہیں۔‘‘

٭ طالب علم صرف پاس ہونے کے لیے پڑھائی کرتے ہیں حالانکہ انھیں ٹاپ کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ یہ مقصد ان کے اندر ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا کردے گا۔

٭ آپ کیا سمیٹنا چاہتے ہیں؟ کیا اکٹھا کرنا چاہتے ہیں؟ کیسے انسان بننا چاہتے ہیں؟ اور کیا بانٹنا چاہتے ہیں؟ یہی سوالات آپ کو مقصد منتخب کرنے پر اُبھاریں گے۔

٭ ناکامیوں سے حوصلہ نہ کھوئیں اور تنقید سے نہ ڈریں۔ بلکہ یہ سمجھیں کہ اس سے تو زندگی نکھرتی ہے۔

٭ جھوٹ خود اعتمادی کا دُشمن ہے اس کا سہارا بالکل نہ لیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے